آیت کریمہ کی تفسیر
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصَبِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِي الْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، قَالَ: هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ حُبَيْقٍ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ الرُّذَالَةُ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہیل بن حنیف ؓ نے اللہ عز و جل کے فرمان: ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو (البقرہ: ٢٦٧ ) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ خبيث سے مراد جعرور اور لون حبیق ہیں، رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said, concerning the Verse in which Allah, the Mighty and Sublime, says: And do not aim at that which is bad to spend from it.” This refers to bad quality dates. The Messenger of Allah ﷺ forbade taking bad quality dates as Sadaqah. (Hasan)