ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ١ ؎ اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The injuries caused by the beast are without liability, and wells are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2495
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان چیزوں کے مالکوں سے دیت نہیں لی جائے گی۔ ٢ ؎: اور باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر مرجانا رائیگاں ہے، اور کان میں دب کر مرجانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The injuries caused by the beast are without liability, and wells are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2497
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کنویں میں گر کر مرجانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مرجانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے ۔
It was narrated that Aba Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ said: “The injuries caused by the well are without liability, and beasts are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2498
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کردیں (اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے) تو رسول اللہ ﷺ نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب ؓ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے (کہ یہ وادی ہلال ؓ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں) تو عمر ؓ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو سلبہ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں (پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں) جو چاہے اسے کھائے۔
It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: “Hilal came to the Messenger of Allah ﷺ with one-tenth of his honey and asked him to protect a valley for him that was called Salabah. The Messenger of Allah ﷺ protected that valley for him. When Umar bin Al Khattab became the Khalifah, Sufyan bin Wahb wrote to ‘Umar and asked him (about that), and ‘Umar wrote: ‘If he gives me what he used to give to the Messenger of Allah ﷺ, one-tenth of his honey, I will protect Salabah for him, otherwise they are just bees and anyone who wants to eat of it.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2499
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakah of Ramadan upon the free and the slave, male and female, a Sa of dates or a Sa’ of barley, so the people considered that equivalent to half a Sa’ of wheat.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2500
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس وقت (عہد معاویہ رضی الله عنہ میں) نصف صاع گیہوں قیمت میں جو کے ایک صاع کے برابر ہوگیا تھا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ہر مرد و عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے، پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر ٹھہرا لیا۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul Fitr upon male and female, free and slave; a Sa’ of dates or a Sd’ of barley.” He said: “The people considered that equivalent to half a Sa’of wheat.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2501
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام اور مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر کی ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined the Zakah of Ramadan on everyone, young and old, free and slave, male and female, Sa of dates or a Sa’ of barley.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2502
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا صدقہ فطر مسلمان لوگوں پر ہر آزاد، غلام مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض ٹھہرایا ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakatul-Fitr at the end of Ramadan upon the people; a Sa of dates or a Sa’ of barley, upon everyone, free or slave, male or female, of the Muslims. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2503
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام مرد، عورت چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے (عید کی) نماز کے لیے (گھر سے) نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakatul-Fitr; a Sa’ of dates or a Sa of barley, upon the free person and the slave, male and female, young and old, among the Muslims. He commanded that it be given before the people went out to the (‘Id) prayer.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2504
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر چھوٹے، بڑے، مرد، عورت، آزاد اور غلام پر فرض کیا ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul Fitr upon young and old, male and female, free and slave; a Sa’ of dates or a Sa of barley.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2505
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور عید الفطر کا صدقہ ادا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور زکاۃ کی (فرضیت) اتری، تو نہ ہمیں ان کا حکم دیا گیا نہ ہی ان کے کرنے سے روکا گیا، اور ہم (جیسے کرتے تھے) اسے کرتے رہے۔
It was narrated that Qais bin Sad bin ‘Ubadahh said: “We used to fast on ‘Ashura’ and give Zakatul-Fitr, and when the command to fast in Ramadan was revealed, and the command to give Zakah was revealed, we were neither commanded to give it, nor told not to do so, and we used to do it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2506
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٣) (شاذ) (اس کے راوی ” عمرو بن شرحبیل “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ” فرض رسول صلی الله علیہ وسلم صدقة الفطر (رقم ٢٥٠٢) کی مخالف ہے جو صحیحین کی حدیث ہے )
قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا، اور ہم اسے کرتے رہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Qais bin Sad said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded us to give Sadaqatul Fitr before the command to give Zakah was revealed. When the command to give Zakah was revealed, he neither told us to do it, nor told us not to do it, and we used to do it.” (Sahih) Abu‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Abu ‘Ammar’s name is ‘Areeb bin Humaid, and ‘Amr bin Shurahbil’s Kunyah is Abu Maisarah, and Salamah bin Kuhail contradicted Al Hakam in his chain, and Al-Hakam is more reliable than Salamah bin Kuhail.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2507
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: سند میں عمرو بن شرحبيل ہونا بمقابلہ أبي عمار الهمداني اثبت ہے، حالانکہ اصل راوی عمرو بن شرحبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ حدیث قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے، اور یہ عمرو لین الحدیث ہیں، اور اگر یہ حدیث عمرو بن شرحبیل ابو میسرۃ ہی سے مروی ہو تب بھی یہ صحیحین کی حدیث فرض صدقۃ الفطر کے مخالف ہے، اس لیے شاذ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٨)، مسند احمد (٢/٤٢١، ٦/٦) (شاذ )
حسن بصری کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا (جب وہ بصرہ کے امیر تھے) : تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا: مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے (جو بھی ہو) اٹھ جاؤ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ ﷺ نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے، تو لوگ اٹھے (اور انہوں نے لوگوں کو بتایا) ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے عن محمد بن سيرين کہا ہے۔
When he was the governor of Al-Basrah, at the end of the month, Ibn ‘Abbas said: “Give Zakah of your fast.” The people looked at one another, so he said: “Whoever is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that this Zakah was enjoined by the Messenger of Allah ﷺ upon every male and female, free and slave, a Sa’ of barley or dates, or half a Sa’ of wheat.” So they got up. Hishám contradicted him, he said:“From Muhammad bin Sirin”.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2508
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٨١ (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس رضی الله عنہما سے سماع نہیں ہے )
ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے صدقہ فطر کا ذکر کیا۔ تو کہا: گیہوں سے ایک صاع، یا کھجور سے ایک صاع، یا جو سے ایک صاع، یا سلت (جَو کی ایک قسم ہے) سے ایک صاع ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said concerning Sadaqatul Fitr: “A Sa’ of wheat, or a Sa’ of dates, or a Sa‘ of barley, or a Saof Sult.” (Sahih Mawquf)
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2509
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں (یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے) ۔
It was narrated that Abu Raja said: I heard Ibn Abbas deliver a Khutbah from your Minbar - meaning the Minbar in Al-Basrah - saying: Sadaqatul Fitr is a Sa of food." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is the most reliable of the three.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2510
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر جَو یا کھجور یا پنیر سے ایک صاع فرض کیا ہے۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah enjoined Sadaqatul Fitr, a Sa of barley or a Sa of dates or a Sa of cottage cheese.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2511
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع، یا جو سے، یا کھجور سے، یا کشمش سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "We used to pay Zakaul Fitr when the Messenger of Allah was among us; a Sa of food, or a Sa of barley, or a Sa of dates, or a Sa of raisins, or a Sa of cottage cheese.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2512
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہم میں تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے، کھجور سے، یا جو سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے، اور ہم برابر اسی طرح نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ معاویہ ؓ شام سے آئے، اور انہوں نے جو باتیں لوگوں کو بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ شامی گی ہوں کے دو مد (مدینہ کے) ایک صاع کے برابر ہیں، تو لوگوں نے اسی کو اختیار کرلیا۔
It was narrated that Abu Saeed said: “We used to pay Sadaqatul Fitr when the Messenger of Allah ﷺ was among us; a Sa’ of food, or a Sà’ of dates, or a Sa’ of barley, or a Sa’ of cottage cheese. We continued to do so until Muawiyah came from Ash-Sham and one of the things that he taught the people was when he said: ‘I think that two Mudds of wheat from Ash-Sham are equivalent to a Sa’ of this.’ So the people took to that. (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2513
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صدقہ فطر کھجور سے، یا جو سے، یا کشمش سے، یا آٹا یا پنیر سے، یا بےچھلکے والی جو سے ایک صاع ہی نکالا ہے۔ سفیان کو شک ہوا تو انہوں نے من دقیق أوسلت شک کے ساتھ روایت کی ہے۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: " At the time of the Messenger of Allah we did not give anything except a Sa of dates, or a Sa of barley, or a Sa of raisins, or a Sa of flour, or a Sa of cottage cheese, or a Sa of rye." Then (one of the narrators) Sufyan was uncertain and said: "Flour or rye.
حسن صحيح دون ذکر الدقيقصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2514
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥١٣ (حسن صحیح) (آٹے کا ذکر صحیح نہیں ہے )