زکوة سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 21 · 184 hadiths · Page 4 of 10

2497Sunan An Nasai

کان (معدنیا ت) کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ١ ؎ اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The injuries caused by the beast are without liability, and wells are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2495
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان چیزوں کے مالکوں سے دیت نہیں لی جائے گی۔ ٢ ؎: اور باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠)، سنن ابی داود/الخراج ٤٠ (٣٠٨٥)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٧ (١٣٧٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٧ (٢٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٨، ١٣٣١٠)، موطا امام مالک/الزکاة ٤ (٩)، العقول ١٨ (١٢)، مسند احمد ٢/٢٢٨، ٢٢٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٨٥، ٣١٩، ٣٨٢، ٣٨٦، ٤٠٦، ٤١١، ٤١٤، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٧، ٤٧٥، ٤٨٢، ٤٩٢، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠١، ٥٠٧، سنن الدارمی/الزکاة ٣٠ (١٧١٠) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩)، المساقاة ٣ (٢٣٥٥)، الدیات ٢٨ (٦٩١٢)، ٢٩ (٦٩١٣) (صحیح )
2498Sunan An Nasai

کان (معدنیا ت) کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے اسی کے مثل مروی ہے۔

A similar report was narrated from Abu Hurairah (RA) from the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٥١) (صحیح )
2499Sunan An Nasai

کان (معدنیا ت) کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر مرجانا رائیگاں ہے، اور کان میں دب کر مرجانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The injuries caused by the beast are without liability, and wells are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2497
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩)، صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣٦)، موطا امام مالک/الزکاة ٤ (٩)، العقول ١٨ (١٢) (صحیح )
2500Sunan An Nasai

کان (معدنیا ت) کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کنویں میں گر کر مرجانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مرجانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے ۔

It was narrated that Aba Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ said: “The injuries caused by the well are without liability, and beasts are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2498
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٦، ١٤٥٥٠)، مسند احمد (٢/٤٩٩) (صحیح )
2501Sunan An Nasai

شہد کی زکوة

أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ هِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ لَهُ وَادِيًا، يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ، فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ: إِنْ أَدَّى إِلَيِّكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ، فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَاب غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کردیں (اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے) تو رسول اللہ ﷺ نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب ؓ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے (کہ یہ وادی ہلال ؓ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں) تو عمر ؓ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو سلبہ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں (پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں) جو چاہے اسے کھائے۔

It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: “Hilal came to the Messenger of Allah ﷺ with one-tenth of his honey and asked him to protect a valley for him that was called Salabah. The Messenger of Allah ﷺ protected that valley for him. When Umar bin Al Khattab became the Khalifah, Sufyan bin Wahb wrote to ‘Umar and asked him (about that), and ‘Umar wrote: ‘If he gives me what he used to give to the Messenger of Allah ﷺ, one-tenth of his honey, I will protect Salabah for him, otherwise they are just bees and anyone who wants to eat of it.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2499
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٢ (١٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧٦٧) (حسن )
2502Sunan An Nasai

رمضان المبارک کی زکوة یعنی احکام صدقہ فطر

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakah of Ramadan upon the free and the slave, male and female, a Sa of dates or a Sa’ of barley, so the people considered that equivalent to half a Sa’ of wheat.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2500
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس وقت (عہد معاویہ رضی الله عنہ میں) نصف صاع گیہوں قیمت میں جو کے ایک صاع کے برابر ہوگیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٤)، ٧١ (١٥٠٧)، ٧٤ (١٥٠٩)، ٧٧ (١٥١١)، ٧٨ (١٥١٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١٥)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ٥١٠)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد ٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٦٦٨)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٦) (صحیح )
2503Sunan An Nasai

ماہ رمضان المبارک کی زکوة غلام اور باندی پر لازم ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ، وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ہر مرد و عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے، پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر ٹھہرا لیا۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul Fitr upon male and female, free and slave; a Sa’ of dates or a Sd’ of barley.” He said: “The people considered that equivalent to half a Sa’of wheat.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2501
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2504Sunan An Nasai

نابالغ پر رمضان کی زکوة یعنی نا بالغ کا صدقة الفطر

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ، وَكَبِيرٍ حُرٍّ، وَعَبْدٍ ذَكَرٍ، وَأُنْثَى، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام اور مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر کی ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined the Zakah of Ramadan on everyone, young and old, free and slave, male and female, Sa of dates or a Sa’ of barley.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2502
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٣٢١)، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١١)، سنن الترمذی/ الزکاة ٣٥ (٦٧٦)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢١، موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٦٣)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )
2505Sunan An Nasai

صدقہ فطر مسلمانوں پر ہے نہ کہ کفار پر

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا صدقہ فطر مسلمان لوگوں پر ہر آزاد، غلام مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض ٹھہرایا ہے۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakatul-Fitr at the end of Ramadan upon the people; a Sa of dates or a Sa’ of barley, upon everyone, free or slave, male or female, of the Muslims. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2503
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2506Sunan An Nasai

صدقہ فطر مسلمانوں پر ہے نہ کہ کفار پر

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى الْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام مرد، عورت چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے (عید کی) نماز کے لیے (گھر سے) نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakatul-Fitr; a Sa’ of dates or a Sa of barley, upon the free person and the slave, male and female, young and old, among the Muslims. He commanded that it be given before the people went out to the (‘Id) prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2504
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٣)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٢٤٤) (صحیح )
2507Sunan An Nasai

مقدار صدقةالفطر

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر چھوٹے، بڑے، مرد، عورت، آزاد اور غلام پر فرض کیا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul Fitr upon young and old, male and female, free and slave; a Sa’ of dates or a Sa of barley.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2505
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٠٨٤) (صحیح )
2508Sunan An Nasai

زکوة فرض ہونے سے قبل صدقہ فطر لازم تھا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ، وَنُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ وَنَزَلَتِ الزَّكَاةُ، لَمْ نُؤْمَرْ بِهِ، وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَكُنَّا نَفْعَلُهُ.

قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور عید الفطر کا صدقہ ادا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور زکاۃ کی (فرضیت) اتری، تو نہ ہمیں ان کا حکم دیا گیا نہ ہی ان کے کرنے سے روکا گیا، اور ہم (جیسے کرتے تھے) اسے کرتے رہے۔

It was narrated that Qais bin Sad bin ‘Ubadahh said: “We used to fast on ‘Ashura’ and give Zakatul-Fitr, and when the command to fast in Ramadan was revealed, and the command to give Zakah was revealed, we were neither commanded to give it, nor told not to do so, and we used to do it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2506
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٣) (شاذ) (اس کے راوی ” عمرو بن شرحبیل “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ” فرض رسول صلی الله علیہ وسلم صدقة الفطر (رقم ٢٥٠٢) کی مخالف ہے جو صحیحین کی حدیث ہے )
2509Sunan An Nasai

زکوة فرض ہونے سے قبل صدقہ فطر لازم تھا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عَمَّارٍ اسْمُهُ عَرِيبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ يُكْنَى أَبَا مَيْسَرَةَ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ خَالَفَ الْحَكَمَ فِي إِسْنَادِهِ وَالْحَكَمُ أَثْبَتُ مِنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ.

قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا، اور ہم اسے کرتے رہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Qais bin Sad said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded us to give Sadaqatul Fitr before the command to give Zakah was revealed. When the command to give Zakah was revealed, he neither told us to do it, nor told us not to do it, and we used to do it.” (Sahih) Abu‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Abu ‘Ammar’s name is ‘Areeb bin Humaid, and ‘Amr bin Shurahbil’s Kunyah is Abu Maisarah, and Salamah bin Kuhail contradicted Al Hakam in his chain, and Al-Hakam is more reliable than Salamah bin Kuhail.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2507
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: سند میں عمرو بن شرحبيل ہونا بمقابلہ أبي عمار الهمداني اثبت ہے، حالانکہ اصل راوی عمرو بن شرحبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ حدیث قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے، اور یہ عمرو لین الحدیث ہیں، اور اگر یہ حدیث عمرو بن شرحبیل ابو میسرۃ ہی سے مروی ہو تب بھی یہ صحیحین کی حدیث فرض صدقۃ الفطر کے مخالف ہے، اس لیے شاذ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٨)، مسند احمد (٢/٤٢١، ٦/٦) (شاذ )
2510Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں کتنی مقدار میں غلہ ادا کیا جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍوَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فِي آخِرِ الشَّهْرِ: أَخْرِجُوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، فَنَظَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ هَذِهِ الزَّكَاةَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ، وَأُنْثَى حُرٍّ، وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، فَقَامُوا، خَالَفَهُ هِشَامٌ فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.

حسن بصری کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا (جب وہ بصرہ کے امیر تھے) : تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا: مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے (جو بھی ہو) اٹھ جاؤ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ ﷺ نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے، تو لوگ اٹھے (اور انہوں نے لوگوں کو بتایا) ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے عن محمد بن سيرين کہا ہے۔

When he was the governor of Al-Basrah, at the end of the month, Ibn ‘Abbas said: “Give Zakah of your fast.” The people looked at one another, so he said: “Whoever is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that this Zakah was enjoined by the Messenger of Allah ﷺ upon every male and female, free and slave, a Sa’ of barley or dates, or half a Sa’ of wheat.” So they got up. Hishám contradicted him, he said:“From Muhammad bin Sirin”.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2508
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٨١ (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس رضی الله عنہما سے سماع نہیں ہے )
2511Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں کتنی مقدار میں غلہ ادا کیا جائے؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذَكَرَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ، قَالَ: صَاعًا مِنْ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرِ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ.

ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے صدقہ فطر کا ذکر کیا۔ تو کہا: گیہوں سے ایک صاع، یا کھجور سے ایک صاع، یا جو سے ایک صاع، یا سلت (جَو کی ایک قسم ہے) سے ایک صاع ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said concerning Sadaqatul Fitr: “A Sa’ of wheat, or a Sa’ of dates, or a Sa‘ of barley, or a Saof Sult.” (Sahih Mawquf)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2509
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٤٣٩) (صحیح )
2512Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں کتنی مقدار میں غلہ ادا کیا جائے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِكُمْ يَعْنِي: مِنْبَرَ الْبَصْرَةِ يَقُولُ: صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَثْبَتُ الثَّلَاثَةِ 10.

ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں (یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے) ۔

It was narrated that Abu Raja said: I heard Ibn Abbas deliver a Khutbah from your Minbar - meaning the Minbar in Al-Basrah - saying: Sadaqatul Fitr is a Sa of food." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is the most reliable of the three.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2510
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٣٢١) (صحیح الإسناد )
2513Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں کھجور دینے سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ الْوَضَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر جَو یا کھجور یا پنیر سے ایک صاع فرض کیا ہے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah enjoined Sadaqatul Fitr, a Sa of barley or a Sa of dates or a Sa of cottage cheese.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2511
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٢ (١٥٠٥)، ٧٣ (١٥٠٦)، ٧٥ (١٥٠٨)، ٧٦ (١٥١٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٥)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١٧، ١٦١٨)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢١ (١٨٢٩)، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٩)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٣)، مسند احمد ٣/٢٣، ٧٣، ٩٨، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٤، ١٧٠٥، ١٧٠٦)، ویأتی عند المؤلف بعد ھذا (بأرقام ٢٥١٤-٢٥١٦، ٢٥١٩، ٢٥٢٠) (حسن صحیح )
2514Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں انگور دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع، یا جو سے، یا کھجور سے، یا کشمش سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "We used to pay Zakaul Fitr when the Messenger of Allah was among us; a Sa of food, or a Sa of barley, or a Sa of dates, or a Sa of raisins, or a Sa of cottage cheese.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2512
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2515Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں انگور دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ، حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَ النَّاسَ أَنَّهُ قَالَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذَا، قَالَ: فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہم میں تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے، کھجور سے، یا جو سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے، اور ہم برابر اسی طرح نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ معاویہ ؓ شام سے آئے، اور انہوں نے جو باتیں لوگوں کو بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ شامی گی ہوں کے دو مد (مدینہ کے) ایک صاع کے برابر ہیں، تو لوگوں نے اسی کو اختیار کرلیا۔

It was narrated that Abu Saeed said: “We used to pay Sadaqatul Fitr when the Messenger of Allah ﷺ was among us; a Sa’ of food, or a Sà’ of dates, or a Sa’ of barley, or a Sa’ of cottage cheese. We continued to do so until Muawiyah came from Ash-Sham and one of the things that he taught the people was when he said: ‘I think that two Mudds of wheat from Ash-Sham are equivalent to a Sa’ of this.’ So the people took to that. (Sahih)

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2513
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥١٣ (صحیح )
2516Sunan An Nasai

صدقہ فطر میں آٹا دینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَمْ نُخْرِجْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ، ثُمَّ شَكَّ سُفْيَانُ فَقَالَ: دَقِيقٍ أَوْ سُلْتٍ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صدقہ فطر کھجور سے، یا جو سے، یا کشمش سے، یا آٹا یا پنیر سے، یا بےچھلکے والی جو سے ایک صاع ہی نکالا ہے۔ سفیان کو شک ہوا تو انہوں نے من دقیق أوسلت شک کے ساتھ روایت کی ہے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: " At the time of the Messenger of Allah we did not give anything except a Sa of dates, or a Sa of barley, or a Sa of raisins, or a Sa of flour, or a Sa of cottage cheese, or a Sa of rye." Then (one of the narrators) Sufyan was uncertain and said: "Flour or rye.

حسن صحيح دون ذکر الدقيقصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2514
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥١٣ (حسن صحیح) (آٹے کا ذکر صحیح نہیں ہے )