حسن (حسن بصریٰ ) سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے بصرہ میں خطبہ دیا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو (یعنی صدقہ فطر نکالو) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ تو انہوں نے کہا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ تم لوگ اٹھو، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، انہیں بتاؤ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں، یا ایک صاع کھجور، یا جو فرض کیا ہے۔ حسن کہتے ہیں: علی ؓ نے کہا: رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو۔ گیہوں وغیرہ (نصف صاع کے بجائے) ایک صاع دو۔
It was narrated from Al-Hasan that Ibn Abbas delivered a Khutbah in Al-Basrah and said: "Give Zakah of your fast." The people started looking at one another. So he said: "Whoever is here of the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah has enjoined Salaqatul Fitr upon young and old, free and slave, male and female; half a Sa of wheat or a Sa of dates or barely." Al-Hasan said: If Allah has given you more, then give more generously of wheat or something else.
ضعيف الإسناد صحيح المرفوع منهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2515
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٨١ (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس سے سماع نہیں ہے )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں لوگ صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا سلت (بےچھلکے کا جو) یا کشمش نکالتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “At the time of the Messenger of Allah ﷺ the people used to give as sadaqatul Ffr a Sa’ of barley or dates or rye or raisins.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2516
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا انگور یا پنیر نکالتے تھے۔ اور ہم برابر ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے یہاں تک کہ معاویہ ؓ کا زمانہ آیا۔ تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ شامی گیہوں کے دو مد (یعنی نصف صاع) جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔
It was narrated that Abu Sa eed Al-Khudri said: "At the time of the Messenger of Allah, we used to give a Sa of barley, or dates, or raisins, or cottage cheese, and we continued to do so until the time of Muawiyah, when he said: I think that two Mudds of wheat from Ash-Sham are equivalent to a Sa of barley.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2517
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (صدقہ فطر) کھجور یا جو یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ نہ نکالتے تھے۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "At the time of the Messenger of Allah we used to give a Sa of dates, or a Sa of barley, or a Sa of cottage cheese, and we did not give anything else.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2518
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے آج کے مد سے ایک مد اور ایک تہائی مد اور کچھ زائد کا تھا۔ اور ابوعبدالرحمٰن فرماتے ہیں: اس حدیث کو مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔
It was narrated from Al-Juaid: "I heard As-Saib bin Yazid say: During the time of Allahs messenger, the Sa was equal to a Mudd and third of the Mudd you use today, and the Sa of today has become large." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: And Ziyad bin Ayyub narrated it to me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2519
Notes · وضاحت
١ ؎: امام مالک، امام شافعی اور جمہور علماء کے نزدیک ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے نزدیک ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، لیکن جب امام ابویوسف کا امام مالک سے مناظرہ ہوا اور امام مالک نے انہیں اہل مدینہ کے وہ صاع دکھلائے جو موروثی طور سے نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے چلے آ رہے تھے تو انہوں نے جمہور کے قول کی طرف رجوع کرلیا۔ اور موجودہ وزن سے ایک صاع لگ بھگ ڈھائی کیلو کا ہوتا ہے مدینہ کے بازاروں میں جو صاع اس وقت بنتا ہے، یا مشائخ سے بالسند جو صاع متوارث ہے اس میں گی ہوں ڈھائی کیلو ہی آتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیمانہ اہل مدینہ کا پیمانہ ہے اور وزن اہل مکہ کا وزن ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “The measure (to be used) is the measure of the people of Al Madinah, and the weight (to be used) is the weight of the people of Makkah.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2520
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد سونا اور چاندی وزن کرنے کے بانٹ ہیں کیونکہ ان کا وزن دراہم سے کیا جاتا تھا اور اس وقت مختلف شہروں کے دراہم مختلف وزن کے ہوتے تھے اس لیے کہا گیا کہ زکاۃ کے سلسلہ میں اہل مکہ کے دراہم کا اعتبار ہوگا، اور ایک قول یہ ہے کہ چوں کہ اہل مدینہ کاشتکار تھے اس لیے وہ پیمائش اور ناپ کے احوال کے زیادہ جانکار تھے اور مکہ والے عام طور سے تاجر تھے اس لیے وہ تول کے احوال کے زیادہ واقف کار تھے اس لیے ایسا کہا گیا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں بصدقة الفطر کے بجائے بزكاة الفطر ہے) ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ enjoined that Sadaqatul Fitr should be given before the people go out to pray. (One of the narrators): Ibn Bazi’ said: “Zakatul-Fjtr.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2521
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انہیں اس بات کی گواہی کی دعوت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ (وقت کی) نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ تمہاری یہ بات (بھی) مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی، اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کردی جائے گی، اگر وہ تمہاری یہ بات (بھی) مان لیں تو ان کے اچھے و عمدہ مال لینے سے بچو، اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ sent Muadh bin Jabal to Yemen and said: “You are going to some people from among the People of the Book. Call them to bear witness that there is none worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah. If they obey you in that, then teach them that Allah has enjoined upon them five prayers every day and night. If they obey you in that, then teach them that Allah has enjoined upon them Sadaqah (Zakah) from their wealth, to be taken from their rich and given to their poor. If they obey you in that, then do not touch the most precious of their wealth and fear the supplication of the one who has been wronged, for there is no barrier between it and Allah, the Mighty and sublime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2522
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی ١ ؎، میں اور بھی صدقہ دوں گا چناچہ (دوسرے دن بھی) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے لے جا کر ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ تو اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی، میں پھر صدقہ دوں گا، چناچہ (تیسرے دن) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا، اور ایک مالدار شخص کو تھما آیا، پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مالدار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مالدار کو دے دینے پر بھی۔ تو خواب میں اس کے پاس آ کر کہا گیا: رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول کرلیا گیا ہے، رہی زانیہ تو (صدقہ پا کر) شاید وہ زناکاری سے باز آجائے اور رہا چور تو صدقہ پا کر شاید وہ اپنی چوری سے باز آجائے، اور رہا مالدار آدمی (تو صدقہ پا کر) شاید وہ اس سے سبق سیکھے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرنے لگے ۔
Abu Hurairah (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “A man said: ‘I am going to give some charity.’ So he went out with his charity and put it in the hand of a thief. The next morning they Started talking about how charity had been given to a thief. Then he said: ‘ Oallah, to You be praise for the thief. I am going to give some charity’ So he went out with his Charity and put it in the hand of a prostitute. The next morning they started talking about how charity had been given to a prostitute. He said: ‘O Allah, to You be praise for the prostitute. I am going to give some charity.’ So he went out with his charity and put it in the hand of a rich man. The next morning they started talking about how charity had been given to a rich man. He said: ‘O Allah, to You be praise for the prostitute, the thief and the rich man.’ Then the message came to him: As for your charity, it is accepted. As for the prostitute, perhaps it will keep her from committing Zina. As for the thief, perhaps it will stop him from stealing. And as for the rich man, perhaps he will learn a lesson, and will spend from that which Allah, the Mighty and Sublime, has given him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2523
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٤ (١٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ٢٤ (١٠٢٢)، مسند احمد ٢/٣٢٢ (صحیح )
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Al-Malih that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Allah, the Mighty and Sublime, does not accept prayer without purification or charity from Ghulul.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2524
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے (اور اللہ پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے) تو رحمن عزوجل اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لیتا ہے گو وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ رحمن کے ہاتھ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پہاڑ سے بھی بڑا ہوجاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے یا اونٹنی کے چھوٹے بچے کو پالتا ہے ۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘None gives charity from (wealth earned from) a good source - and Allah does not accept anything but that which is good — but the Most Merciful takes it in His right hand, even if it is a date, and it is tended in the hand of the Most Merciful until it becomes greater than a mountain, just as one of you tends his foal or camel calf.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2525
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور ، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز ، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے ، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے ، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے ، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کردیا گیا ہو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Hubshi Al-Khath’ami that the Prophet ﷺ was asked: “Which deed is best?” He said: “Faith in which there is no doubt, Jihad in which there is no stealing of the spoils of war, and Hajjatun Mabrurah.” It was said: “Which prayer is best?” He said: “That in which there is long Qunut (standing).” It was said: “Which charity is best?” He said: “The poor’s night.” It was said: “Which Hijrah (emigration) is best?” He said: “One who shuns (Hajara) that which Allah has forbidden.” It was said: “Which Jihad is best?” He said: “One who strives against the idolators with his life and his wealth.” It was said: “Which death is best?” He said: “One who sheds his blood while his horse’s feet are cut with swords.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2526
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا ، لوگوں نے (حیرت سے) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کردیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت (کے انبار کے) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس (ڈھیر) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کردیا ١ ؎۔
It was narrated from Ahu Hurairah that the Messenger of Allah ﷺ said: “A Dirham surpassed a hundred thousand Dirhams.” They said: “How?” He said: “A man had two Dirhams and gave one in charity, and another man went to part of his wealth and took out a hundred thousand Dirhams and gave them in charity.” (Da‘if)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2527
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ثواب میں دینے والے کی حالت کا لحاظ کیا جاتا ہے نہ کہ دیئے گئے مال کا، اللہ کے نزدیک قدر و قیمت کے اعتبار ایک لاکھ درہم اس غریب کے ایک درہم کے برابر نہیں ہے جس کے پاس صرف دو ہی درہم تھے، اور ان دو میں سے بھی ایک اس نے اللہ کی راہ میں دے دیا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کردیا۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے، اس نے اپنے مال (خزانے) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے، اور انہیں صدقہ میں دیدے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘A Dirham was better than a hundred thousand Dirhams.’ They said: ‘Messenger of Allah ﷺ, how?’ He said: ‘A man had two Dirhams and gave one in charity, and another man went to part of his wealth and took out a hundred thousand Dirhams and gave them in charity.”(Sahih).
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2528
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ ﷺ کو دے دیتا۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا۔
It was narrated that Abu Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ used to tell us to give in charity, and one of us could not find anything to give until he went to the marketplace and hired himself out to carry loads for people. Then he would bring a Mudd and give it to the Messenger of Allah ﷺ I know a man who has a hundred thousand now, but on that day he had (only) one Dirham.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2529
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا تو ابوعقیل ؓ نے آدھا صاع صدقہ دیا، اور ایک اور شخص اس سے زیادہ لے کر آیا، تو منافقین اس (پہلے شخص) کے صدقہ کے بارے میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ایسے صدقے سے بےنیاز ہے، اور اس دوسرے نے محض دکھاوے کے لیے دیا ہے، تو (اس موقع پر) آیت کریمہ: الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم جو لوگ دل کھول کر خیرات کرنے والے مومنین پر اور ان لوگوں پر جو صرف اپنی محنت و مزدوری سے حاصل کر کے صدقہ دیتے ہیں طعن زنی کرتے ہیں (التوبہ: ٧٩ ) نازل ہوئی۔
It was narrated that Abu Mas’ud said: “When the Messenger of Allah ﷺ commanded us to give in charity, Abu ‘Aqil gave half a Sa’, and another man brought much more than that. The hypocrites said: ‘Allah has no need of the charity of the former, and the latter only did it to show off.’ Then the following was revealed: ‘Those who defame such of the believers who give charity voluntarily, and such who could not find to give charity except what is available to them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2530
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا پھر آپ نے دیا، پھر مانگا، تو فرمایا: یہ مال سرسبز و شیریں چیز ہے، جو شخص اسے فیاضی نفس کے ساتھ لے گا تو اس میں برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہ ملے گی، اور اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر آسودہ نہیں ہوتا (یعنی مانگنے والے کا پیٹ نہیں بھرتا) ۔ اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔
Saeed and ‘Urwah narrated that they heard I bin Hizam say: “I asked the Messenger of Allah ﷺ and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: ‘This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without insisting, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2531
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
It was narrated that Tariq Al-Muharibi said: “We came to Al Madinah and the Messenger of Allah ﷺ was standing on the Minbar addressing the people and saying: ‘The hand which gives is the upper hand. Start with those for whom you are responsible; your mother, your father, your sister, your brother, then the next closest, and the next closest.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2532
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اس وقت آپ صدقہ و خیرات اور مانگنے سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے) : اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ: said, when mentioning charity and those who refrain from asking: “The upper hand is better than the lower hand; the upper hand is that which gives and the lower hand is that which asks.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2533
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بےنیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The best of charity is that which is given when you are self-sufficient, and the upper hand is better than the lower hand, and start with those for whom you are responsible.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2534
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا نہ ہو کہ سارا مال صدقہ کر دے اور خود محتاج ہوجائے۔