زکوة سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 21 · 184 hadiths · Page 6 of 10

2537Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف کی تفسیر

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: أَنْتَ أَبْصَرُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ دو ، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا: اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو ١ ؎ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنی بیوی پر صدقہ کرو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنے خادم پر صدقہ کر دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ بہتر سمجھنے والے ہیں (جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو ) ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Give charity.’ A man said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I have a Dinar.’ He said: ‘Spend it on yourself.’ He said: ‘I have another.’ He said: ‘Spend it on your wife.’ He said: ‘I have another.’ He said: ‘Spend it on your son.’ He said: ‘I have another.’ He said: ‘Spend it on your servant.’ He said: ‘I have another.’ He said: ‘You know best (what to do with it).” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2535
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خود اپنی ضروریات میں صدقہ کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤٥ (١٦٩١)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤١)، مسند احمد (٢/ ٢٥١، ٤٧١) (حسن صحیح )
2538Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی صدقہ ادا کرے اور وہ خود محتاج ہو تو اس شخص کا صدقہ واپس کردیا جائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: تَصَدَّقُوافَتَصَدَّقُوا، فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: تَصَدَّقُوافَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ فَتَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا فَتَصَدَّقْتُمْ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ وَانْتَهَرَهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: تم دو رکعتیں پڑھو ، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: تم دو رکعتیں پڑھو ، پھر وہ تیسرے جمعہ کو (بھی) آیا، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھو ، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: صدقہ دو ، تو لوگوں نے صدقہ دیا، تو آپ نے اس شخص کو دو کپڑے دئیے، پھر آپ نے پھر فرمایا: لوگو صدقہ دو ، تو اس شخص نے اپنے ان دونوں کپڑوں میں سے ایک کو آپ کے سامنے ڈال دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس شخص کو نہیں دیکھا؟ یہ خستہ حالت میں مسجد میں آیا، میں نے امید کی کہ تم لوگ اسے دیکھ کر اس کی خستہ حالی کو تاڑ لو گے اور اسے صدقہ دو گے، لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو مجھ ہی کو کہنا پڑا کہ تم صدقہ دو، تو تم لوگوں نے صدقہ دیا تو میں نے اسے دو کپڑے دئیے، پھر لوگوں سے کہا: صدقہ دو ، تو اس نے ان کپڑوں میں سے (جو ہم نے اسے دیے تھے) ایک (ہمارے آگے) ڈال دیا، (ارے بیوقوف) تم اپنا کپڑا لے لو، آپ نے اسے ڈانٹا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed that a man entered the Masjid on a Friday when the Messenger of Allah ﷺ was delivering the Khutbah, and he said: “Pray two Rak’ahs.” Then he came on the following Friday, when the Prophet ﷺ, was delivering the Khutbah and he said:“Pray two Rak’ahs.” Then he came on the third Friday, when the Prophet ﷺ was delivering Khutbah and he said: “Pray two Rak’ahs.” Then he said: “Give in charity.” So they gave in charity, and he gave him (that man) two garments. Then he said: “Give in charity” and (that man) threw one of his two garments. The Messenger of Allah ﷺ said: “Have you not seen this man? He entered the Masjid in scruffy clothes and I hoped that you would notice him, and give charity to him, but you did not do that, so I said, ‘Give in charity.’ You gave in charity, and I gave him two garments, then I said: ‘Give in charity’ and he threw one of his two garments. Take your garment.” And he rebuked him. (Hasan)

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2536
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ڈانٹ ازراہ شفقت تھی، مطلب یہ تھا کہ میں تو تمہارے لیے انتظام میں لگا ہوا ہوں، تمہیں صدقہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٣٩ (١٦٧٥)، سنن الترمذی/ الصلاة ٢٥٠ (٥١١)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٤) (حسن الإسناد )
2539Sunan An Nasai

غلام کے صدقہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: لِمَ ضَرَبْتَهُ ؟فَقَالَ: يُطْعِمُ طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، وَقَالَ: مَرَّةً أُخْرَى بِغَيْرِ أَمْرِي، قَالَ: الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا.

عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہوگئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا (دوسروں کو) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اس کا ثواب تم دونوں ہی کو ملے گا ۔

‘Umair, the freed slave of Abi Al-Lahm, said: “My master commanded me to cut up some meat, then a poor man came so I gave him some. When my master found out about that, he beat me, so I went to the Messenger of Allah ﷺ and he came to him and said: ‘Do not beat him.’ He said: ‘He gave away my food without me telling him to.’ He said: ‘The reward will be shared between you both.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2537
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٢٦ (١٠٢٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٦ (٢٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩٩) (صحیح )
2540Sunan An Nasai

غلام کے صدقہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِييُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْهَا، قَالَ: يَعْتَمِلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ، وَيَتَصَدَّقُ، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ، قِيلَ: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ ہے ، عرض کیا گیا: اگر کسی کو ایسی چیز نہ ہو جسے صدقہ کرسکے؟ آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے، اور صدقہ کرے ، کہا گیا: اگر ایسا بھی نہ کرسکے؟ آپ نے فرمایا: محتاج و پریشان حال کی مدد کرے ، کہا گیا: اگر ایسا بھی نہ کرسکے؟ آپ نے فرمایا: بھلائی اور نیک باتوں کا حکم کرے ، کہا گیا: اگر یہ بھی نہ کرسکے؟ آپ نے فرمایا: برائیوں سے باز رہے ، یہ بھی ایک صدقہ ہے۔

It was narrated from Abu Musathat the Prophet ﷺ said: “Every Muslim must give charity.” It was said: “What if he cannot find (anything to give)?” He said: “Let him work with his hands and benefit himself and give in charity.” It was said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him help someone who is in desperate need.” It was said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him enjoin good.” It was said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him refrain from doing evil, for that is an act of charity.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2538
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٣٠ (١٤٤٥)، الأدب ٣٣ (٦٠٢٢)، صحیح مسلم/الزکاة ١٦ (١٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٧)، مسند احمد (٤/٣٩٥، ٤١١)، سنن الدارمی/الرقاق ٣٤ (٢٧٥٠) (صحیح )
2541Sunan An Nasai

اگر عورت شوہر کے مال سے خیرات کرے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا أَجْرٌ، وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا، لِلزَّوْجِ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا، اور اس کے شوہر کو بھی۔ اور خازن کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، اور ان میں سے کوئی دوسرے کا ثواب کم نہ کرے گا، شوہر کو اس کے کمانے کی وجہ سے ثواب ملے گا، اور بیوی کو اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet ﷺ said: “When a Woman gives charity from her husband’s house, she will have a reward, and her husband will have a similar reward, and the storekeeper will have a similar reward, without the reward of any of them detracting from the reward of the others in the slightest. The husband will be rewarded for what he earned and she will be rewarded for what she spent.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2539
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٤ (٦٧١)، (تحفة الأشراف: ١٦١٥٤)، مسند احمد (٦/٩٩) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ١٧، ٢٥، ٢٦ (١٤٢٥، ١٤٣٧، ١٤٣٩-١٤٤١)، والبیوع ١٢ (٢٠٦٥)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٤) (صحیح )
2542Sunan An Nasai

عورت شوہر کی بلا اجازت صدقہ نہ کرے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّأَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، مُخْتَصَرٌ.

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا، تو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے (منجملہ اور باتوں کے) اپنی تقریر میں فرمایا: کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں ، یہ حدیث مختصر ہے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he stood up to address the people and said in his Khutbah ‘It is not permissible for a woman to give anything without her husband’s permission.” (He narrated it) in abridged form. (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2540
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٨٦ (٣٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الھبات ٧ (٢٣٨٨)، ویأتی عند المؤلف ٣٧٨٨) (حسن صحیح )
2543Sunan An Nasai

فضیلت صدقہ

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ، فَقُلْنَ: أَيَّتُنَا بِكَ أَسْرَعُ لُحُوقَا ؟ فَقَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا، فَأَخَذْنَ قَصَبَةً، فَجَعَلْنَ يَذْرَعْنَهَا، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَهُنَّ بِهِ لُحُوقًا، فَكَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَكَانَ ذَلِكَ مِنْ كَثْرَةِ الصَّدَقَةِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی محترم بیویاں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس اکٹھا ہوئیں، اور پوچھنے لگیں کہ ہم میں کون آپ سے پہلے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: تم میں سب سے لمبے ہاتھ والی ، ازواج مطہرات ایک بانس کی کھپچی لے کر ایک دوسرے کا ہاتھ ناپنے لگیں، تو وہ ام المؤمنین سودہ ؓ تھیں جو سب سے پہلے آپ سے ملیں، وہی سب میں لمبے ہاتھ والی تھیں، یہ ان کے بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کی وجہ سے تھا ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA), that the wives of the Prophet ﷺ gathered around him and said:“Which of us will be the first to follow you (in death)?” He said: “The one of you who has the longest arms.” They took a stick and started to measure their arms. But Sawdah was the first one to follow him. She was the one who had the longest arms, because she used to give in charity a great deal. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2541
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کی بیویوں میں سب سے پہلے انہیں کا انتقال ہوا، وہ لمبے ہاتھ والی اس معنی میں تھیں کہ وہ بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرتی تھیں، بعض روایتوں میں سودہ کے بجائے زینب کا نام آیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١١ (١٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٩)، مسند احمد (٦/١٢١) (صحیح )
2544Sunan An Nasai

سب سے زیادہ افضل کونسا صدقہ ہے؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس وقت کا صدقہ دینا افضل ہے جب تم تندرست ہو اور تمہیں دولت کی حرص ہو اور تم عیش و راحت کی آرزو رکھتے ہو اور محتاجی سے ڈرتے ہو۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A man said: ‘Messenger of Allah ﷺ, which kind of charity is best?’ He said: ‘Giving charity when you are in good health, and feeling stingy, hoping for a long life and fearing poverty.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2542
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١١ (١٤١٩)، والوصایا ٧ (٢٧٤٨)، صحیح مسلم/الزکاة ٣١ (١٠٣٢)، سنن ابی داود/الوصایا ٣ (٢٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٠٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الوصایا ٤ (٢٧٠٦)، مسند احمد ٢/٢٣١، ٢٥٠، ٤١٥، ٤٤٧، ویأتی عند المؤلف في الوصایا ١ (برقم ٣٦٤١) (صحیح )
2545Sunan An Nasai

سب سے زیادہ افضل کونسا صدقہ ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.

حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو (یعنی مالداری باقی رکھتے ہوئے ہو) ، اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا ہاتھ) نیچے والے ہاتھ (لینے والا ہاتھ) سے بہتر ہے، اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی تم کفالت کرتے ہو ۔

Hakim bin Hizam said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best kind of charity is that which is given when you are rich, and the upper hand is better than the lower hand, and start with those for whom you are responsible.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2543
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٢ (١٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣٤٣٥)، صحیح البخاری/الزکاة ١٨ (١٤٢٧)، مسند احمد ٣/٤٠٢، ٤٠٣، ٤٣٤، سنن الدارمی/الزکاة ٢٢ (١٦٩٣) (صحیح )
2546Sunan An Nasai

سب سے زیادہ افضل کونسا صدقہ ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ١ ؎، اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے ۔

Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best of charity is that which is given when you are self-sufficient, and start with those for whom you are responsible.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2544
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آدمی صدقہ دے کر محتاج نہ ہوجائے، بلکہ اس کی مالداری برقرار رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٨ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٤)، مسند احمد (٢/٤٠٢) (صحیح )
2547Sunan An Nasai

سب سے زیادہ افضل کونسا صدقہ ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً.

ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوگا ۔

It was narrated from Abu Mas’ud that the Prophet ﷺ said: “When a man spends on his family, seeking reward for that, that is an act of charity on his part.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2545
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٢ (٥٥)، المغازی ١٢ (٤٠٠٦)، النفقات ١ (٥٣٥١)، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٢)، سنن الترمذی/البر ٤٢ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٦)، مسند احمد ٤/١٢٠، ١٢٢، و ٥/٢٧٣، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٥ (٢٧٠٦) (صحیح )
2548Sunan An Nasai

سب سے زیادہ افضل کونسا صدقہ ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ ؟قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ عَنْ أَهْلِكَ، فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کردیا ١ ؎، یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے؟ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، تو رسول اللہ ﷺ ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کردیا، اور فرمایا: پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے ٢ ؎۔

It was narrated that Jabir said: “A man from Banu ‘Udhrah declared that a slave of his would become free after he died. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Do you have any property besides him?’ He said: ‘No.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Who will buy him from me?’ Nu’aim bin ‘Abdullah Al-’Adawi bought him for eight hundred Dirhams. The Messenger of Allah ﷺ brought it (the money) and gave it to him, then he said: ‘Start with yourself and if there is anything left, give it to your family. If there is anything left after your family (has been taken care of), then give it to your relatives. If there is anything left after your relatives (have been taken care of), then (give it) to such and such’ saying: ‘In front of you and to your right and to your left.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2546
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ ٢ ؎: مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس پڑوس کے محتاجوں اور غریبوں کو دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١٣ (٩٩٧)، والأیمان ١٣ (٩٩٧)، (تحفة الأشراف: ٢٩٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٩ (٢١٤١)، ١١٠ (٢٢٣)، والاستقراض ١٦ (٢٤٠٣)، والخصومات ٣ (٢٤١٥)، والعتق ٩ (٢٥٣٤)، وکفارات الأیمان ٧ (٦٧١٦)، والإکراہ ٤ (٦٩٤٧)، والأحکام ٣٢ (٧١٨٦) (مختصراً )، سنن ابی داود/العتق ٩ (٣٩٥٧)، سنن ابن ماجہ/العتق ١ (٢٥١٣) (مختصراً )، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣٦٨، ٣٦٩، ٣٧٠، ٣٧١) (صحیح )
2549Sunan An Nasai

کنجوس آدمی کا صدقہ خیرات کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنَاه أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَثَلَ الْمُنْفِقِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِيلِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ، حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، حَتَّى إِذَا أَخَذَتْهُ بِتَرْقُوَتِهِ أَوْ بِرَقَبَتِهِ، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ، قَالَ طَاوُسٌ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ کرنے والے فیاض اور بخیل کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو کرتے یا دو ڈھال ان دونوں کی چھاتیوں سے لے کر ان کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں، جب فیاض خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے بدن پر کشادہ ہوجاتی ہے، پھیل کر اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے، اور اس کے نشان قدم کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور اس کی کڑیاں اپنی جگ ہوں پر چمٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی ہنسلی یا اس کی گردن پکڑ لیتی ہے ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسے کشادہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے سنا کہ آپ اپنے ہاتھ سے کشادہ کرنے کے لیے اشارہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The parable of the one who spends and gives in charity, and the one who is miserly, is that of two men wearing coats of mail, with their hands pressed closely to their breasts and their collarbones. When the one who spends wants to give charity, the (coat of mail) expands so much that it covers his fingertips and obliterates his traces. But when the miser wants to give, the (coat of mail) contracts and every ring grips the place where it is, and his hands are tied up to his collarbone.” Abu Hurairah (RA) says: ‘I swear that he saw the Messenger trying to expand it but it did not.” Tawus said: “I heard Abu Hurairah (RA) illustrating with his hand trying to expand it but it did not.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2547
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ اللباس ٩ (٥٧٩٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٣ (١٠٢١)، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٧، ١٣٦٨٤)، مسند احمد ٢/٢٥٦، ٣٨٩، ٥٢٣ (صحیح )
2550Sunan An Nasai

کنجوس آدمی کا صدقہ خیرات کرنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطَرَّتْ أَيْدِيَهُمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ، حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ، تَقَبَّضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا، وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَيَجْتَهِدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بخیل اور صدقہ دینے والے (سخی) کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہوں، اور ان کے ہاتھ ان کی ہنسلیوں کے ساتھ چمٹا دیئے گئے ہوں، تو جب جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے لیے وسیع و کشادہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ وہ اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ چلتے وقت اس کے پیر کے نشانات کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر کڑی دوسرے کے ساتھ پیوست ہوجاتی اور سکڑ جاتی ہے، اور اس کے ہاتھ اس کی ہنسلی سے مل جاتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: وہ (بخیل) کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The parable of the miser and the one who gives in charity is that of two men wearing coats of mail with their hands tied to their collarbones. Every time the one who gives thinks of giving in charity, the (coat of mail) expands until it obliterates his traces, and every time the miser thinks of giving charity, every circle (of the coat of mail) contracts and sticks to him, and his hand is tied up to his collarbone.” I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “He tries to expand it, but he cannot.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2548
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٢٨ (١٤٤٣)، الجہاد ٨٩ (٢٩١٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٣ (١٠٢١)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢٠)، مسند احمد (٢/٣٨٩) (صحیح )
2551Sunan An Nasai

بے حساب صدقہ خیرات نکالنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْأُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لَا يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَيْءٌ، وَلَا يَخْرُجَ إِلَّا بِعِلْمِكِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ.

ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، (انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے (خادمہ کو) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے ۔

It was narrated that Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said: “One day we were sitting in the Masjid with a group of the Muhajirin and Ansar. We sent a man to Aishah (RA) to ask permission to come to her. She said: ‘A beggar came in to me one day when the Messenger of Allah ﷺ was present, and I ordered that he be given something, then I called for it and looked at it. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you want that nothing should enter or leave your house without your knowledge? I said: ‘Yes.’ He said: “Don’t be hasty, Aishah (RA). Do not count what you give, otherwise Allah will count what He gives to you.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2549
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٩٢٣) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٤٦ (١٧٠٠)، مسند احمد ٦/٧١، ١٠٨ (حسن )
2552Sunan An Nasai

بے حساب صدقہ خیرات نکالنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ.

اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں گن کر دے ۔

It was narrated from Asma’ bint Abi Bakr that the Prophet ﷺ said to her: “Do not count what you give, otherwise Allah, the Mighty and Sublime, will count what He gives to you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2550
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٢١ (١٤٣٣)، الھبة ١٥ (٢٥٩٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٨ (١٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٨)، مسند احمد (٦/٣٤٤، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٢، ٣٥٤) (صحیح )
2553Sunan An Nasai

بے حساب صدقہ خیرات نکالنا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! لَيْسَ لِي شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ: ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوكِي فَيُوكِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ.

اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور کہنے لگیں: اللہ کے نبی! میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو زبیر (میرے شوہر) مجھے (کھانے یا خرچ کرنے کے لیے) دے دیتے ہیں، تو کیا اس دیے ہوئے میں سے میں کچھ (فقراء و مساکین کو) دے دوں تو مجھ پر گناہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تم جو کچھ دے سکو دو، اور روکو نہیں کہ اللہ عزوجل بھی تم سے روک لے ۔

It was narrated from Asma’ bint Abi Bakr that she came to the Prophet ﷺ and said: “Prophet ﷺ of Allah, I do not have anything but that which Az-Zubair brings to me. Is there any sin on me if I give a small amount of that which he brings to me?” He said: “Give whatever you can, and do not withhold what you have, lest Allah withhold provision from you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2551
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٢٢ (١٤٣٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٨ (١٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٤٦ (١٦٩٩)، سنن الترمذی/البر ٤٠ (١٩٦١)، مسند احمد (٦/٣٥٤) (صحیح )
2554Sunan An Nasai

قلیل صدقہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُحِلِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ.

عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر سہی ۔

It was narrated from ‘Adiyy bin Hatim that the Prophet ﷺ said: “Protect yourselves from the Fire, even with half a date.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2552
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٩ (١٤١٣) مطولا، المناقب ٢٥ (٣٥٩٥) مطولا، (تحفة الأشراف: ٩٨٧٤)، مسند احمد (٤/٢٥٦) (صحیح )
2555Sunan An Nasai

قلیل صدقہ سے متعلق

أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، وَتَعَوَّذَ مِنْهَا ذَكَرَ شُعْبَةُ: أَنَّهُ فَعَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ التَّمْرَةِ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ.

عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جہنم کا ذکر کیا، اور نفرت سے اپنا منہ پھیرلیا، اور اس سے پناہ مانگی۔ شعبہ نے ذکر کیا کہ آپ نے تین دفعہ ایسا کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔ اور اگر اسے نہ پاس کو تو بھلی بات کے ذریعہ معذرت کر کے سہی ۔

It was narrated that ‘Adiyy bin Hatim said: “The Messenger of Allah ﷺ mentioned the Fire, and he turned his face away (as if seeing it), and sought refuge with Allah from it.” (One of the narrators) Shu’bah said: “He did that three times, then he said: ‘Protect yourselves from the Fire even with half a date, and if you cannot find that, then with a good word.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2553
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣٤ (٦٠٢٣)، الرقاق ٥١ (٦٥٦٣)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٠ (١٠١٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٣) (صحیح )
2556Sunan An Nasai

فضیلت صدقہ

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَذَكَرَ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ سورة الحشر آية 18، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا.

جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں (میاں بیوی) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ ٹوٹنے نہ پائیں، بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے، اور اللہ سے ڈرو، اور تم میں سے ہر شخص یہ (دھیان رکھے اور) دیکھتا رہے کہ آنے والے کل کے لیے اس نے کیا آگے بھیجا ہے، آدمی کو چاہیئے کہ اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، اپنے گیہوں کے صاع میں سے، اپنے کھجور کے صاع میں سے صدقہ کرے ، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی ، چناچہ انصار کا ایک شخص (روپیوں سے بھری) ایک تھیلی لے کر آیا جو اس کی ہتھیلی سے سنبھل نہیں رہی تھی بلکہ سنبھلی ہی نہیں۔ پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر اکٹھے ہوگئے۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور کھل اٹھا ہے گویا وہ سونے کا پانی دیا ہوا چاندی ہے (اس موقع پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا، اس کے لیے دہرا اجر ہوگا: ایک اس کے جاری کرنے کا، دوسرا جو اس پر عمل کریں گے ان کا اجر، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، تو اسے اس کے جاری کرنے کا گناہ ملے گا اور جو اس اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے ۔

Al-Mundhir bin Jarir (RA) narrated that his father said: "While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah ﷺ changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilal (RA) to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) prayed, th addressed then he addressed them, (reciting the Verses): O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many men and women: and fear Allah through Whom you demand (your mutual right), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship). Surely, Allah is Ever and All-Watcher over you. [1] and: Fear Allah and keep your duty to Him. And let every person look to what he has sent forth for tomorrow. Then they gave in charity, some giving a Dinar, others a Dirham, or a garment, or a Sa of wheat or, a Sa of dates, until he said: Even half a date. A man from among the Ansar came with a bag of money which his hands could hardly lift. The people followed one another (in giving charity) until I saw two heaps of food and clothing, and I saw the face of the Messenger of Allah shining like gold (with joy). The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever sets a good precedent in Islam, he will have the reward for that, and the reward of those who acted in accordance with it, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever sets an evil precedent in Islam, he will have a burden of sin for that, and the burden of those who acted in accordance with it, without that detracting from their burden in the slightest.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2554
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٢٠ (١٠١٧)، العلم ٦ (١٠١٧)، سنن الترمذی/العلم ١٥ (٢٦٧٥)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٤ (٢٠٣) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٢)، مسند احمد ٤/٣٥٧، ٣٥٨، ٣٥٩، ٣٦٢، ٣٦١، ٣٦٢، سنن الدارمی/المقدمة ٤٤ (٥٢٩) (مثل الترمذی) (صحیح )