Sunan An Nasai 2553

زکوة سے متعلقہ احادیث

2553Sunan An Nasai

بے حساب صدقہ خیرات نکالنا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! لَيْسَ لِي شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ: ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوكِي فَيُوكِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ.

اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور کہنے لگیں: اللہ کے نبی! میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو زبیر (میرے شوہر) مجھے (کھانے یا خرچ کرنے کے لیے) دے دیتے ہیں، تو کیا اس دیے ہوئے میں سے میں کچھ (فقراء و مساکین کو) دے دوں تو مجھ پر گناہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تم جو کچھ دے سکو دو، اور روکو نہیں کہ اللہ عزوجل بھی تم سے روک لے ۔

It was narrated from Asma’ bint Abi Bakr that she came to the Prophet ﷺ and said: “Prophet ﷺ of Allah, I do not have anything but that which Az-Zubair brings to me. Is there any sin on me if I give a small amount of that which he brings to me?” He said: “Give whatever you can, and do not withhold what you have, lest Allah withhold provision from you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2551
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٢٢ (١٤٣٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٨ (١٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٤٦ (١٦٩٩)، سنن الترمذی/البر ٤٠ (١٩٦١)، مسند احمد (٦/٣٥٤) (صحیح )