حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کردینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ١ ؎۔
It was narrated that Harithah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Give charity, for there will come a time when a man will walk about with his charity, and the one to whom he wants to give it will say: If you had brought it yesterday I would have accepted it, but today (I have no need of it).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2555
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، اللہ اپنے نبی کریم ﷺ کی زبان سے جو چاہے فیصلہ فرمائے ۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet ﷺ said: “Intercede and your intercession may be accepted, and Allah, the Mighty and Sublime, decrees on the lips of His Prophet ﷺ whatsoever He will.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2556
معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کوئی چیز مجھ سے مانگتا ہے تو میں نہیں دیتا، تاکہ تم اس سلسلہ میں سفارش کرو، اور سفارش کرنے کا اجر پاؤ، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفارش کرو تمہیں سفارش کا اجر (ثواب) دیا جائے گا ۔
It was narrated from Muawiyah bin Sufyan that the Messenger of Allah ﷺ said: “A man may come and ask for something, and I refuse until you intercede, so that you will be rewarded.” And the Messenger of Allah ﷺ said: “Intercede and you will be rewarded.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2557
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، (ایسے ہی) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت ١ ؎ جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے ٢ ؎ رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے ٣ ؎ اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے ۔
It was narrated from Ibn Jabir, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “There is a kind of protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, and a kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates. As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion. As for the pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is when a man feels proud of himself when fighting and when giving charity. And as for the kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is pride in doing wrong.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2558
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسی جگہوں میں جانے سے غیرت آئے جہاں بدنامی کا ڈر ہو جیسے غیر محرم کے ساتھ خلوت میں رہنے کی غیرت یا شراب خانہ میں جانے سے غیرت وغیرہ۔ ٢ ؎: یعنی ایسی جگہ میں غیرت کرے جہاں تہمت اور بدنامی کا خوف نہ ہو۔ ٣ ؎: اس لیے کہ اس سے دوسروں میں جہاد کرنے اور صدقہ و خیرات کرنے کا شوق پیدا ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ، صدقہ کرو، اور پہنو، لیکن اسراف (فضول خرچی) اور غرور (گھمنڈ و تکبر) سے بچو ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: “Eat, give charity and clothe yourselves, without being extravagant, and without showing off.” (Da’if)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2559
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٣ (٣٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٣)، مسند احمد (٢/١٨١، ١٨٢) (حسن )
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے ، نیز فرمایا: امانت دار خازن جو خوش دلی سے وہ چیز دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہو تو وہ بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے ۔
It was narrated that Abu Musa said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The believers are like a building, they support one another.’ And he said: ‘The trustworthy storekeeper who gives that which he has been commanded to give, and is happy with what he is doing, is one of the men giving charity.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2560
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور دھیرے سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے ۔
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir that the Messenger of Allah ﷺ said: “The one who recites the Qur’an loudly is like one who gives charity openly, and the one who recites the Qur’an quietly is like one who gives charity in secret.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2561
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث (بےغیرت) اور تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے۔ ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسرا عادی شرابی، اور تیسرا دے کر احسان جتانے والا ۔
It was narrated from Salim bin ‘Abdullah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There are three at whom Allah will not look on the Day of Resurrection: The one who disobeys his parents, the woman who imitates men in her outward appearance, and the cuckold. And there are three who will not enter Paradise: The one who disobeys his parents, the drunkard, and the one who reminds people of what he has given them.”(Hasan)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2562
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر ؓ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: (وہ تین یہ ہیں) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said: “There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or look at them, or sanctify them, and theirs will be a painful torment.” The Messenger of Allah ﷺ repeated and Abu Dharr (RA) said: “May they be lost and doomed, may they be lost and doomed.” He said: “The one who lets his garment hang beneath his ankles, a vendor who tries to sell his product by means of false oaths, and the one who reminds people of what he has given them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2563
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection or look at them or purify them, and theirs will be a painful torment: the one who reminds people of what he has given them, the one who lets his garment hang beneath his ankles, and a vendor who tries to sell his Product by means of false oaths.”(Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2564
ابن بجید انصاری اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مانگنے والے کو کچھ دے کر لوٹایا کرو اگرچہ کھر ہی سہی ۔ ہارون کی روایت میں محرق (جلی ہوئی) کا اضافہ ہے۔
It was narrated from Abu Bujaid Al-Ansari from his grandmother that the Messenger of Allah ﷺ said: “Respond to the one who asks even with a sheep’s foot.” According to the narration of Harun: “With a sheep’s burned foot.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2565
بہز بن حکیم اپنے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا (زہریلا) سانپ بلایا جائے گا، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کردیا تھا چاٹتا پھرے گا ١ ؎۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: “No man comes to his Mawla and asks him for something from the surplus of what he has, and he withholds it from him, but on the Day of Resurrection a bald-headed Shuja’a will be called to him and will be licking the surplus that he withheld.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2566
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ فاضل و زائد مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا الٹا اس کے لیے وبال بن جائے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever seeks refuge with (the name of) Allah, grant him refuge; whoever asks of you in (the name of) Allah, give him; whoever seeks protection with (the name of) Allah, give him protection. Whoever does you a favor, then reciprocate, and if you cannot, then supplicate for him until you think that you have repaid him.” (Da’If)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2567
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بےعقل اور ناسمجھ انسان ہوں (اب بھی کچھ نہیں سمجھتا) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام دے کر ، میں نے عرض کیا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کرلیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ١ ؎۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ٢ ؎۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather Said: “I said: ‘Prophet of Allah ﷺ! I did not come to you until I had Sworn more than this many times’ - the number of fingers on his hands ‘that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah and His Messenger teach me. I ask you by the face of Allah, the Mighty and Sublime, with what has your Lord sent you to us?’ He said: ‘With Islam.’ I said: ‘What are the signs of Islam?’ He said: ‘To say: I submit my face to Allah and give up Shirk, and to establish the Salah and to pay Zakah. Each Muslim is sacred and inviolable to his fellow Muslim; they support one another. Allah does not accept any deed from an idolator after he becomes a Muslim, until he departs from the idolators and joins the Muslims.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2568
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر مسلمان کی جان، مال عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دار الشرک سے دار السلام کی طرف ہجرت واجب ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آجائے، یا وہ قتل کردیا جائے، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے ۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! بتائیے، آپ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جو لوگوں سے کٹ کر کسی وادی میں (گوشہ نشین ہوجائے) نماز قائم کرے، زکاۃ دے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہے، اور میں تمہیں لوگوں میں برے شخص کے بارے میں بتاؤں؟ ، ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: “Shall I not tell you of the best of the people in status?” We said: “Yes, Messenger of Allah ﷺ!” He said: “A man who rides his horse in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, until he dies or is killed. Shall I not tell you of the one who comes after him (in status)?’’ We said: “Yes, Messenger of Allah ﷺ!” He said: “A man who withdraws to a mountain pass and establishes Salah, and pays Zakah, and keeps away from the evil of people. Shall I not tell you of the worst of people?” We said: “Yes, Messenger of Allah ﷺ! ” He said: “The one who asks for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, but does not give (when he is asked) for His sake.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2569
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے، اور تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل بغض رکھتا ہے، رہے وہ جن سے اللہ محبت کرتا ہے تو وہ یہ ہیں: ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس گیا، اور اس نے ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا، اور مانگنے میں ان کے اور اپنے درمیان کسی قرابت کا واسطہ نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے اسے نہیں دیا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے سے مانگنے والے کے پاس آیا۔ اور اسے چپکے سے دیا، اس کے اس عطیہ کو صرف اللہ عزوجل جانتا ہو اور وہ جسے اس نے دیا ہے۔ اور کچھ لوگ رات میں چلے اور جب نیند انہیں اس جیسی اور چیزوں کے مقابل میں بہت بھلی لگنے لگی، تو ایک جگہ اترے اور اپنا سر رکھ کر سو گئے، لیکن ایک شخص اٹھا، اور میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میری آیتیں پڑھنے لگا۔ اور ایک وہ شخص ہے جو ایک فوجی دستہ میں تھا، دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے مگر وہ سینہ تانے ڈٹا رہا یہاں تک کہ وہ مارا گیا، یا اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مند کیا۔ اور تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے یہ ہیں: ایک بوڑھا زنا کار، دوسرا گھمنڈی فقیر، اور تیسرا ظالم مالدار ۔
It was narrated from Zaid bin Tibyan, and attributed to Abu Dharr, that the Prophet ﷺ said: “There are three whom Allah, the Mighty and Sublime, loves, and three whom Allah, the Mighty and Sublime, hates. As for those whom Allah, the Mighty and Sublime, loves: A man who comes to some People and asks (to be given Something) for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and not for the sake of their relationship, but they do not give him. So one man stayed behind and gave to him in secret, and no one knew of his giving except Allah, the Mighty and Sublime, and the one to whom he gave it. People who travel all night until sleep becomes dearer to them than anything that may be equivalent to it, so they lay down their heads (and slept). Then a man among them got up and started praying to Me and beseeching Me, reciting My Ayat. And a man who was on a campaign and met the enemy and they fled, but he went forward (pursuing them) until he was killed or Allah, the Mighty and Sublime, granted victory to him. And three whom Allah hates are the old man who commits Zina, the poor man who shows off, and the rich man who is unjust.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2570
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦١٦ (ضعیف) (اس کے راوی ” زید بن ظبیان “ لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے (در در) گھماتے اور (گھر گھر) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے ١ ؎ اگر تم چاہو تو پڑھو لا يسألون الناس إلحافا وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے (البقرہ: ٢٧٣ ) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The poor man (Miskin) is not the one who leaves if you give him a date or two, or a morsel or two. Rather the poor man is the one who refrains from asking. Recite if you wish: “They do not beg of people at all..” (Sahih)
شاذ بزيادة اقرؤواصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2571
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں ، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The poor man (MiskIn) is not the one who goes around asking people and they send him away with a morsel or two, or a date or two.” They said: “Then what does poor (MiskIn) mean?” He said: “The one who does not possess independence of means, and no one notices him to give charity to him, and he does not stand and ask of people.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2572
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٣ (١٤٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢٩)، موطا امام مالک/صفة النبي ٥ (٧) (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمے دو لقمے اور ایک کھجور، دو کھجور در در پھرائیں ۔ لوگوں نے کہا: پھر مسکین کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: مسکین وہ ہے: جو مالدار نہ ہو، اور لوگ اس کی محتاجی و حاجت مندی کو جان بھی نہ سکیں کہ اسے صدقہ دیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The poor man (Miskin) is not the one who leaves if you give him a morsel or two, or a date or two.” They said: “Then who is the Miskin, Messenger of Allah ﷺ?” He said: “The one who does not possess independence of means, and the people do not know of his need, so that they could give him charity.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2573
ام بجید رضی الله عنہا (جو ان عورتوں میں سے ہیں جن ہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: (کبھی ایسا ہوتا ہے) کہ مسکین میرے دروازے پر آکھڑا ہوتا ہے، اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں پاتی؟ آپ نے فرمایا: اگر تم اسے دینے کے لیے صرف جلی ہوئی کھر ہی پاؤ تو اسے وہی دے دو ۔
It was narrated from ‘Abdur Rahman bin Bujaid that his grandmother Umm Bujaid — who was one of those who gave the oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ - said to the Messenger of Allah ﷺ: “The poor man stands at my door, and I cannot find anything to give him.” The Messenger of Allah ﷺ said to her: “If you cannot find anything to give to him except a sheep’s burned foot, then give it to him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2574