زکوة سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 21 · 184 hadiths · Page 8 of 10

2577Sunan An Nasai

متکبر فقیر سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ، وَالْإِمَامُ الْكَذَّابُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا: بوڑھا زنا کار، گھمنڈی فقیر، جھوٹا امام ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There are three to whom Allah, the Mighty and Sublime, will not speak on the Day of Resurrection: An old man who commits adultery, a poor man who is arrogant, and an Imam who tells lies.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2575
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤١٤٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٤٦ (١٠٧)، مسند احمد (٢/٤٣٣، ٤٨٠) (حسن صحیح )
2578Sunan An Nasai

متکبر فقیر سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعَةٌ يَبْغُضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چار طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے: قسمیں کھا کھا کر بیچنے والا، گھمنڈی فقیر، بوڑھا زنا کار، ظالم امام (حاکم) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are four whom Allah, the Mighty and Sublime, hates: The vendor who sells his wares by means of false oaths, the poor man who shows off, the old man who commits Zina and the Imam who is unjust.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2576
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٩٩٢) (صحیح )
2579Sunan An Nasai

بیوہ خواتین کے واسطے محنت کرنے والے شخص کی فضیلت کے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت اور مسکین پر خرچ کرنے کے لیے محنت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The one who strives to sponsor a widow or a poor person is like the one who strives in Jihad in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2577
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النفقات ١ (٥٣٥٣)، الأدب ٢٥ (٦٠٠٦)، ٢٦ (٦٠٠٧)، صحیح مسلم/الزھد ٢ (٢٩٨٢)، سنن الترمذی/البر ٤٤ (١٩٦٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١ (٢١٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٩١٤)، مسند احمد (٢/٣٦١) (صحیح )
2580Sunan An Nasai

جن لوگوں کو تالیف قلب کے واسطے مال دولت دیا جاتا تھا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَ: مَرَّةً أُخْرَى صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: تُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے پاس مٹی ملا ہوا غیر صاف شدہ سونے کا ایک ڈلا بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فرازی، اور علقمہ بن علاثہ جو عامری تھے پھر وہ بنی کلاب کے ایک فرد بن گئے، اور زید جو طائی تھے پھر بنی نبہان میں سے ہوگئے، کے درمیان تقسیم کردیا۔ (یہ دیکھ کر) قریش کے لوگ غصہ ہوگئے۔ راوی نے دوسری بار کہا: قریش کے سرکردہ لوگ غصہ ہوگئے، اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب کروں (یعنی انہیں رجھا سکوں) ، اتنے میں گھنی داڑھی والا، ابھرے گالوں والا دھنسی آنکھوں والا، ابھری پیشانی والا، منڈے سر والا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو، آپ نے فرمایا: اگر میں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اللہ عزوجل کی تابعداری کون کرے گا؟ وہ مجھے سارے زمین والوں میں اپنا امین (معتمد) سمجھتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے ، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی (لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خالد بن ولید ؓ تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ١ ؎، اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم کو چھیدتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے انہیں پایا، تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “When he was in Yemen, ‘Ali sent a piece of gold that was still mixed with sediment to the Messenger of Allah ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ distributed it among four People: Al-Aqra’ bin Habis Al-Hanzali, ‘Uyaynah bin Badr Al- Fazari, ‘Alqamah bin ‘Ulathah Al ‘Amiri, who was from Banu Kilab and Zaid At-Ta’i who was from Banu Nabhan. The Quraish” - he said one time “the chiefs of the Quraish” - “became angry and said: ‘You give to the chiefs of Najd and not to us?’ He said: ‘I only did that, so as to soften their hearts toward Islam.’ Then a man with a thick beard, prominent cheeks, sunken eyes, a high forehead, and a shaven head came and said: ‘Fear Allah, Muhammad ﷺ!’ He said: ‘Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Is it fair that) He has entrusted me with all the people of the Earth but you do not trust me?’ Then the man went away, and a man from among the people, whom they (the narrators) think was Khalid bin Al Walid, asked for permission to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Among the offspring of this man will be some people who will recite the Qur’an but it will not go any further than their throats. They will kill the Muslims but leave the idol worshippers alone, and they will pass through Islam as an arrow passes through the body of the target. If I live to see them, I will kill them all, as the people of ‘Ad were killed.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2578
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ خارجی لوگ ہیں جن کا ظہور علی رضی الله عنہ کی خلافت میں ہوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٦ (٣٣٤٤)، والمغازی ٦١ (٤٣٥١)، وتفسیرالتوبة ١٠ (٤٦٦٧)، التوحید ٢٣ (٧٤٣٢)، ٥٧ (٧٥٦٢) صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٣)، سنن ابی داود/السنة ٣١ (٤٧٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤١٣٢)، مسند احمد ٣/٦٨، ٧٢، ٧٣، ویأتی عند المؤلف فی تحریم الدم ٢٦ (برقم ٤١٠٦) (صحیح )
2581Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص کسی کے قرض کا ذمہ دار ہو تو اس کے لئے اس قرض کیلئے سوال کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ. ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فِيهَا فَقَالَ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ، رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ بَيْنَ قَوْمٍ فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ.

قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: مانگنا صرف تین لوگوں کے لیے جائز ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے قوم کے کسی شخص کے قرض کی ضمانت لے لی ہو (پھر وہ ادا نہ کرسکے) ، تو وہ دوسرے سے مانگے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے، پھر رک جائے ۔

It was narrated that Qubaisah bin Mukhariq said: “I undertook a financial responsibility) Then I came to the Prophet ﷺ and asked him (for help) concerning that. He said: ‘Asking (for money) is not permissible except for three: A man who undertakes a financial responsibility between people; he may ask for help with that until the matter is settled, then he should refrain (from asking).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2579
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٦ (١٠٤٤)، سنن ابی داود/الزکاة ٢٦ (١٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦٨)، مسند احمد (٣/٤٧٧، و ٥/٦٠)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٧ (١٦٨٥)، ویأتی عند المؤلف برقم ٢٥٩٢ (صحیح )
2582Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص کسی کے قرض کا ذمہ دار ہو تو اس کے لئے اس قرض کیلئے سوال کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ: أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ، حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا قَبِيصَةُ ! إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَشْهَدَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى هَذَا مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ، يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا.

قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس (ادائیگی کے لیے روپے) مانگنے آیا، تو آپ نے فرمایا: اے قبیصہ رکے رہو۔ (کہیں سے) صدقہ آ لینے دو، تو ہم تمہیں اس میں سے دلوا دیں گے ، وہ کہتے ہیں ـ: پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قبیصہ! صدقہ تین طرح کے لوگوں کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے: وہ شخص جو کسی کا بوجھ خود اٹھا لے ١ ؎ تو اس کے لیے مانگنا درست ہے، یہاں تک کہ اس سے اس کی ضرورت پوری ہوجائے، اور (دوسرا) وہ شخص جو کسی ناگہانی آفت کا شکار ہوجائے، اور وہ اس کا مال تباہ کر دے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے پالے، پھر رک جائے، (تیسرا) وہ شخص جو فاقہ کا شکار ہوگیا ہو یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد گواہی دیں کہ ہاں واقعی فلاں شخص فاقہ کا مارا ہوا ہے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے گزارہ کا انتظام ہوجائے، ان کے علاوہ مانگنے کی جو بھی صورت ہے حرام ہے، اے قبیصہ! اور جو کوئی مانگ کر کھاتا ہے حرام کھاتا ہے ۔

It was narrated that Qubaisah bin Mukhariq said: “I undertook a financial responsibility, then I came to the Prophet ﷺ and asked him (for help) concerning that. He said: ‘Hold on, Qubaisah! When we get some charity we will give you some.’ Then the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Qubaisah, charity is not permissible except for one of three: A man who undertakes a financial responsibility, so it is permissible for him to be given charity until he finds means to make him independent and to suffice him; a man who was stricken by calamity and his wealth was destroyed, so it is permissible for him to ask for help until he has enough to keep him going, then he should refrain from asking; and a man who is stricken with poverty and three wise men from among his own people testify that so-and-so is in desperate need, then it is permissible for him to ask for help until he finds means to make him independent and to suffice him. Asking for help in cases other than these, Qubaisah, is unlawful, and the one who takes it is consuming it unlawfully.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2580
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی کا قرض وغیرہ اپنے ذمہ لے لے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2583Sunan An Nasai

یتیم کو صدقہ خیرات دینا

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ: إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةٍ، وَذَكَرَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ ؟ قَالَ: وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ: أَشَاهِدٌ السَّائِلُ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلْتَ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ، ثُمَّ بَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ إِنْ أَعْطَى مِنْهُ الْيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ، وَإِنَّ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے، ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھے، آپ نے فرمایا: اپنے بعد میں تمہارے متعلق دنیا کی رونق و شادابی جس کی تمہارے اوپر بہتات کردی جائے گی سے ڈر رہا ہوں ، پھر آپ نے دنیا اور اس کی زینت کا ذکر کیا۔ تو ایک شخص کہنے لگا: کیا خیر شر لے کر آئے گا؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ تو اس سے کہا گیا: تیرا کیا معاملہ ہے کہ تو رسول اللہ ﷺ سے بات کرتا ہے، اور وہ تجھ سے بات نہیں کرتے؟ اس وقت ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی تھی۔ پھر وحی موقوف ہوئی تو آپ پسینہ پوچھنے لگے، اور فرمایا: کیا پوچھنے والا موجود ہے؟ بیشک خیر شر نہیں لاتا ہے، مگر خیر اس سبزہ کی طرح ہے جسے موسم ربیع (بہار) اگاتا ہے، (جانور کو بدہضمی سے) مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کردیتا ہے مگر اس گھاس کو کھانے والے کو (نقصان نہیں پہنچاتا) جو کھائے یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں جا کر سورج کا سامنا کرے، اور پائخانہ پیشاب کرے، پھر (جب بھوک محسوس کرے تو) پھر چرے (اس طرح) یقیناً یہ مال بھی ایک سرسبز و شیریں چیز ہے۔ وہ مسلمان کا کیا ہی بہترین ساتھی ہے اگر وہ اس سے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دے، اور جو شخص ناحق مال حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور یہ قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ sat on the Minbar, and we sat around him. He said: ‘What I fear most for you after I am gone is the (worldly) delights that will come to you.’ And he spoke of this world and its attractions. A man said: ‘Can good bring forth evil?’ The Messenger of Allah ﷺ remained silent and it was said to him (that man): ‘What is the matter with you? You speak to the Messenger of Allah ﷺ, when he does not speak to you?’ We noticed that he was receiving Revelation. Then he recovered and wiped off his sweat and said: ‘I know what the questioner meant; he meant that good never brings forth evil. But some of that which grows in the spring kills the animals or makes them sick, unless they eat Al-KHadir (a kind of plant); if they eat their fill of it then turn to face the sun and then defecate and urinate and start to graze again. This wealth is fresh and sweet. Blessed is the wealth of a Muslim from which he gives to orphans, the poor and wayfarers. The one who takes it unlawfully is like the one who eats but is never satisfied, and it will be a witness against him on the Day of Resurrection.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2581
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرے بعد جو فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگا اور جو مال و دولت اس سے تمہیں حاصل ہوگی، اس سے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تم دنیا کی رنگینیوں اور عیش و عشرت میں پڑ کر اللہ تعالیٰ سے غافل نہ ہوجاؤ، اور آخرت کو بھول بیٹھو۔ ٢ ؎: کہ اس نے مجھے ناحق حاصل کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢٨ (٩٢١) (مختصراً )، الزکاة ٤٧ (١٤٦٥)، الجھاد ٣٧ (٢٨٤٢)، الرقاق ٧ (٦٤٢٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٤١ (١٠٥٢)، (تحفة الأشراف: ٤١٦٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ١٨ (٣٩٩٥)، مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٩١) (صحیح )
2584Sunan An Nasai

رشتہ داروں کو صدقہ دینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ.

سلمان بن عامر رضی الله عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مسکین کو صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے، اور صلہ رحمی بھی ۔

It was narrated from Salman bin Amir that the Prophet ﷺ said: “Giving charity to a poor person is charity, and (giving) to a relative is two things, charity and upholding the ties of kinship.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2582
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصیام ٢١ (٢٣٥٥)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٦ (٦٥٨)، الصوم ١٠ (٦٩٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٥ (١٦٩٩)، الزکاة ٢٨ (١٨٤٤)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٦)، مسند احمد ٤/١٨، ٢١٤، سنن الدارمی/الزکاة ٣٨ (١٧٢١) (صحیح )
2585Sunan An Nasai

رشتہ داروں کو صدقہ دینا

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْزَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، قَالَتْ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقَالَتْ لَهُ: أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلِي عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ هُمَا ؟، قَالَ: زَيْنَبُ، قَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ ؟، قَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَ: نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بیوی زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے فرمایا: تم صدقہ دو اگرچہ اپنے زیوروں ہی سے سہی ، وہ کہتی ہیں: عبداللہ بن مسعود ؓ (میرے شوہر) تنگ دست و مفلس تھے، تو میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے لیے یہ گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دیا کروں؟ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اس بارے میں تم رسول اللہ ﷺ سے پوچھو۔ زینب ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ انصار کی ایک عورت اسے بھی زینب ہی کہا جاتا تھا آپ کے دروازے پر کھڑی ہے، وہ بھی اسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی جس کے بارے میں میں پوچھنا چاہتی تھی۔ اتنے میں بلال ؓ اندر سے نکل کر ہماری طرف آئے، تو ہم نے ان سے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس جائیں، اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھیں، اور آپ کو یہ نہ بتائیں کہ ہم کون ہیں، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے (اور آپ سے پوچھا) آپ نے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: زینب، آپ نے فرمایا: کون سی زینب؟ انہوں نے کہا: ایک زینب تو عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی، اور ایک زینب انصار میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں (درست ہے) انہیں دوہرا ثواب ملے گا ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا ۔

It was narrated that Zainab, the wife of ‘Abdullah (RA), said: “The Messenger of Allah ﷺ said to women: ‘Give charity, even from your jewelry.’ ‘Abdullah was not a wealthy man and she said to him: ‘Can I spend my charity on you and on my brother’s children who are orphans?’ ‘Abdullah said: ‘Ask the Messenger of Allah ﷺ about that.’ She said: ‘So I went to the Messenger of Allah ﷺ and at his door I found a woman from among the Ansar who was also called Zainab, and she was asking about the same matter as I was. Bilal (RA) came out to us and we said to him: Go to the Messenger of Allah ﷺ and ask him about that, but do not tell him who we are. He went to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Who are they?’ He said: ‘Zainab.’ He said: ‘Which Zainab?” He said: ‘Zainab the wife of ‘Abdullah and Zainab Al-Ansáriyyah.’ He said: ‘Yes, they will have two rewards, the reward for upholding the ties of kinship and the reward for giving charity.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2583
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٤٨ (١٤٦٦)، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٠)، سنن الترمذی/الزکاة ١٢ (٦٣٥، ٦٣٦)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٤ (١٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٧)، مسند احمد (٣/٥٠٢، و ٦/٣٦٣)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٦١) (صحیح )
2586Sunan An Nasai

سوال کرنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةَ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، پھر اسے بیچے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی سے مانگے، تو اسے دے یا نہ دے ۔

Aba Hurairah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If one of you were to carry a bundle of firewood on his back and sell it, that would be better than asking a man who may or may not give him something.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2584
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٤٧٠)، ٥٣ (١٤٨٠)، والبیوع ١٥ (٢٠٧٤)، والمساقاة ١٣ (٢٣٧٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣١، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٣٨ (٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٦)، مسند احمد (٢/٤٥٥) (صحیح )
2587Sunan An Nasai

سوال کرنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہوگا ۔

‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said:‘A man will keep on asking until on the Day of Resurrection he will come with not even a shared of skin on his face.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2585
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٢ (١٤٧٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ٦٧٠٢)، مسند احمد (٢/١٥، ٨٨) (صحیح )
2588Sunan An Nasai

سوال کرنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بِسْطَامَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَاب: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِي الْمَسْأَلَةِ مَا مَشَى أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ يَسْأَلُهُ شَيْئًا.

عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا۔ جب (وہ لوٹ کر چلا اور) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا (برائی) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا ۔

It was narrated from ‘A’idh bin ‘Amr that a man came to the Prophet ﷺ and asked him and he gave him, and when he placed his foot on the threshold the Messenger of Allah ﷺ said: “If you knew how bad begging is, no one would go to anyone else and ask him for anything.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2586
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٠)، مسند احمد (٥/٦٥) (حسن) (تراجع الالبانی ٤٨٦، صحیح الترغیب والترہیب ٧٩٦ )
2589Sunan An Nasai

نیک لوگوں سے سوال کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَابُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ.

فراسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں مانگوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اور اگر تمہیں مانگنا ضروری ہو تو نیکو کاروں سے مانگو ۔

It was narrated from Ibn Al Firasi that Al-Firasi said to the Messenger of Allah ﷺ “Shall I ask people (for help), Messenger of Allah ﷺ?” He said: “No, but if you have no alternative but to ask, then ask the righteous.” (Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2587
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٨ (١٦٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢٤)، مسند احمد (٤/٣٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” مسلم “ لین الحدیث ہیں، اور ” ابن الفراسی “ مجہول ہیں )
2590Sunan An Nasai

بھیک سے بچتے رہنے کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ: مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ نے انہیں دیا، ان لوگوں نے پھر سوال کیا، تو آپ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہوگیا، تو آپ نے فرمایا: میرے پاس جو ہوگا اسے میں ذخیرہ بنا کر نہیں رکھوں گا، اور جو پاک دامن بننا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنا دے گا، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا، اور صبر سے بہتر اور بڑی چیز کسی کو نہیں دی گئی ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that some of the Ansar asked the Messenger of Allah ﷺ (for help) and he gave them (something). Then they asked him and he gave them, then when he had ran out he said: “Whatever I have of good, I will never keep it from you, but whoever wants to refrain from asking, Allah, the Mighty and Sublime, will help him to do so, and whoever wants to be patient, Allah will help him to be patient. None is ever given anything better and more far-reaching than patience.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2588
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٤٦٩)، الرقاق ٢٠ (٦٤٧٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٢ (١٠٥٣)، سنن ابی داود/الزکاة ٢٨ (١٦٤٤)، سنن الترمذی/البر ٧٧ (٢٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٢)، موطا امام مالک/الصدقة ٢ (٧)، مسند احمد (٣/٩٣)، سنن الدارمی/الزکاة ١٨ (١٦٨٦) (صحیح )
2591Sunan An Nasai

بھیک سے بچتے رہنے کا حکم

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ، فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک شخص کا اپنی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر پیٹھ پر لادنا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل (مال) سے نوازا ہو، وہ اس سے مانگے، تو وہ اسے دے یا نہ دے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “By the One in Whose hand is my soul, if one of you were to take a rope and gather firewood on his back, that would be better for him than coming to a man to whom Allah, the Mighty and Sublime, has given of His bounty and asking him (for help), which he may or may not give.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2589
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة (١٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣٠)، موطا امام مالک/الصدقة ٢ (١٠)، مسند احمد (٢/٢٤٣) (صحیح )
2592Sunan An Nasai

لوگوں سے سوال نہ کرنے کی فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَضْمَنْ لِي وَاحِدَةً وَلَهُ الْجَنَّةُ، قَالَ يَحْيَى: هَاهُنَا كَلِمَةٌ مَعْنَاهَاأَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا.

ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے (یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ) وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے ۔

It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever can promise me one thing, Paradise will be his.” (One of the narrators) Yahya said: “Here a statement which means: That he will not ask the people for anything.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2590
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٢٧ (١٦٤٣)، مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٧٩، ٢٨١) (صحیح )
2593Sunan An Nasai

لوگوں سے سوال نہ کرنے کی فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ أَصَابَتْ مَالَهُ جَائِحَةٌ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَمَالَتَهُمْ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، وَرَجُلٍ يَحْلِفُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ ذَوِي الْحِجَا بِاللَّهِ لَقَدْ حَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ لِفُلَانٍ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ مَعِيشَةٍ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ.

قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے: ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہوگیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کرلے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، پھر رک جائے، (دوسرا) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے، پھر (جب قرض ادا ہوجائے) تو مانگنے سے رک جائے۔ اور (تیسرا) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کرلے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، ان (تین صورتوں) کے علاوہ مانگنا حرام ہے ۔

It was narrated that Qabisah bin Mukhariq said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘It is not right to ask (for help) except in three cases: A man whose wealth has been destroyed by some calamity, so he asks until he gets enough to keep him going, then he refrains from asking; a man who undertakes a financial responsibility, and asks for help until he pays off whatever needs to be paid; and a man concerning whom three wise men from his own people swear by Allah that it is permissible for so-and-so to ask for help, so he asks until he has enough to be independent of means, then he refrains from asking. Apart from that, (asking) is unlawful.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2591
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٨٠ (صحیح )
2594Sunan An Nasai

دولت مند کون ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَمَاذَا يُغْنِيهِ أَوْ مَاذَا أَغْنَاهُ ؟ قَالَ: خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ، قَالَ يَحْيَى، قَالَ: سُفْيَانُ، وَسَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بےنیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی (مالدار) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو ۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے (یہ حدیث) بیان کر رہے تھے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever asks when he has enough to make him independent of means will have lacerations on his face on the Day of Resurrection.’ It was said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what would make him independent of means?’ He said: ‘Fifty Dirhams or its equivalent of gold.” (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2592
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٣ (١٦٢٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٢ (٦٥١)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٦ (١٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٧) مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١)، سنن الدارمی/الزکاة ١٥ (١٦٨٠) (صحیح )
2595Sunan An Nasai

لوگوں سے لپٹ کر مانگنا

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، وَلَا يَسْأَلْنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ.

معاویہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چمٹ کر مت مانگو، اور تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز اس لیے نہ مانگے کہ میں اسے جو دوں اس میں اسے برکت دی جائے، اور حال یہ ہو کہ میں اسے نہ دینا چاہوں ۔

It was narrated from Muawiyah that the Messenger of Allah said: "Do not be demanding when asking. If one of you asks me for anything and I give it reluctantly, there will be no blessing in it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2593
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٣ (١٠٣٨)، (تحفة الأشراف: ١١٤٤٦)، مسند احمد (٤/٩٨)، سنن الدارمی/الزکاة ١٧ (١٦٨٤) (صحیح )
2596Sunan An Nasai

لوگوں سے لپٹ کر سوال کرنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَهُوَ الْمُلْحِفُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ مانگے تو وہ ملحف (چمٹ کر مانگنے والا) ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah said: Whoever asks when he has forty Dirhams I being too demanding when asking.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2594
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٦٩٩) (حسن صحیح )