زکوة سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 21 · 184 hadiths · Page 9 of 10

2597Sunan An Nasai

لوگوں سے لپٹ کر سوال کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، وَقَعَدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ: مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ، فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس (کچھ مانگنے کے لیے) بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا: جو بےنیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بےنیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوگا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (یعنی چالیس درہم) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا ، تو میں نے (اپنے دل میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے، چناچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Saeed Al-Khudri that his father said: "My mother sent me to the Messenger of Allah, and I came to him and sat down. He turned to me and said: Whoever wants to be independent of means, Allah, the Mighty and Sublime, will make him independent. Whoever wants to refrain from asking, Allah, the Mighty and Sublime, will help him to refrain. Whoever wants to be content with his lot, Allah, the Mighty and Sublime, Allah, the Mighty and Sublime, will suffice him. Whoever asks when he has something worth one Uqiyah, then he is being too demanding. I said: My she-camel Al-Yaqutah is worth more than and Uqiyah, so I came back and did not ask him for anything.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2595
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٣ (١٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٢١)، مسند احمد (٣/٩) (حسن صحیح )
2598Sunan An Nasai

جس شخص کے پاس دولت نہ ہو لیکن اس قدر مالیت کی اشیاء موجود ہوں

قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقْيعِ الغَرْقَدِ، فَقَالَتْ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ، فَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ، وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ، مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا، قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ: لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ، فَقَسَّمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں بقیع الغرقد میں اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ کر لائیے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا۔ مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا جو آپ سے مانگ رہا تھا، اور آپ اس سے فرما رہے تھے: میرے پاس (اس وقت) تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ وہ شخص آپ کے پاس سے پیٹھ پھیر کر غصے کی حالت میں یہ کہتا ہوا چلا: قسم ہے میری زندگی کی! آپ تو اسی کو دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (خواہ مخواہ) مجھ پر اس بات پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، (ہوتا تو اسے دیتا ویسے تم لوگ جان لو کہ) تم میں سے جس کے پاس چالیس درہم ہو یا چالیس درہم کی قیمت کے برابر کا مال ہو، اور اس نے مانگا تو اس نے چمٹ کر مانگا ، اسدی (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: ہماری دو دھاری اونٹنی ایک اوقیہ سے تو بہتر ہی ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، چناچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے لوٹ آیا۔ پھر آپ کے پاس جَو اور کشمش آئے، تو آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ہم کو مالدار کردیا۔

It was narrated from Atabin Yasar that a man from Banu Asad said: "My wife and I stopped at Baqi Al-Gharqad, and my wife said to me: Go to the Messenger of Allah and ask him to give us something to eat. So I went to the Messenger of Allah and found a man with him asking him (for something), and the Messenger of Allah was saying: I do not have anything to give to you. The man turned away angrily, saying: You only give to those you want. The Messenger of Allah said: He is angry with me because I did not have anything to give him. Whoever asks of you and he has an Uqiyah or its equivalent, then he has been too demanding in asking." Al-Asadi said: I said: Our milch-camel is worth more than an Uqiyah, and an Uqiyah is forty Dirhams. "So I went back and did not ask him for anything. Then the Messenger of Allah got some barley and raisins after that, and he gave us a share of them, until Allah, the Mighty and Sublime, made us independent of means.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2596
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٣ (١٦٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٤٠)، مسند احمد (٤/٣٦ و ٥/٤٣٠) (صحیح )
2599Sunan An Nasai

جس شخص کے پاس دولت نہ ہو لیکن اس قدر مالیت کی اشیاء موجود ہوں

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: It is not permissible to give charity to a rich man (or one who is independent of means) or to one who is strong and healthy.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2597
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٥ (١٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٩١٠)، مسند احمد (٢/٣٧٧، ٣٨٩) (صحیح )
2600Sunan An Nasai

کمانے کی طاقت رکھنے والے شخص کے واسطے سوال کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِيعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَلَّبَ فِيهِمَا الْبَصَرَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: بَصَرَهُ فَرَآهُمَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ.

عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے ان سے بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، دونوں آپ سے صدقہ مانگ رہے تھے، تو آپ نے نگاہ الٹ پلٹ کر انہیں دیکھا (محمد کی روایت میں (نگاہ کے بجائے) اپنی نگاہ ہے تو دونوں کو ہٹا کٹا پایا، تو آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو لے لو، (لیکن یہ جان لو) کہ مالدار اور کما سکنے والے شخص کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔

Ubaidullah bin Adiyy bin Al-Khiyar narrated that: two men told him, that they came to the Messenger of Allah asking him for charity. He looked from one to the other and he saw that they were strong. The Messenger of Allah said: "If you want, I will give you, but no rich man or one who is strong and able to earn has a share of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2598
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٣ (١٦٣٣)، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٥)، مسند احمد (٤/٢٢٤، و ٥/٣٦٢) (صحیح )
2601Sunan An Nasai

حاکم وقت سے سوال کرنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَسَائِلَ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ كَدَحَ وَجْهَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ شَيْئًا لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا.

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مانگنا خراش (زخم کی ہلکی لکیر) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر (مانگ کر) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو ۔

It was narrated that Samurah bin Jundab said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Every time a man begs, it will turn into lacerations on his face (on the Day of Resurrection). So whoever wants his face to be lacerated (let him ask), and whoever does not want that (let him not ask); except in the case of a man who asks a Sultan, or he asks when he can find no alternative.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2599
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٦ (١٦٣٩)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٨ (٦٨١)، (تحفة الأشراف: ٤٦١٤)، مسند احمد ٥/١٩، ٢٢ (صحیح )
2602Sunan An Nasai

ضروری شے کے واسطے مانگنے کا بیان

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَسْأَلَةُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا، أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ.

سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مانگنا خراش ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہیں ۔

It was narrated that Samurah bin Jundub said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Begging will be but lacerations on a man’s face (on the Day of Resurrection), unless he asks a man in authority or when he has no alternative.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2600
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2603Sunan An Nasai

ضروری شے کے واسطے مانگنے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى.

حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ (جان لو) اوپر والا (یعنی دینے والا) ہاتھ نیچے والے (یعنی لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے ۔

It was narrated that Hakim bin Hizam said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: ‘This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without insisting, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2601
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٤٧٢) مطولا، (تحفة الأشراف: ٣٤٣١)، مسند احمد (٣/٤٣٤) (صحیح )
2604Sunan An Nasai

اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ النَّفْسِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى.

حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: حکیم! یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ جو اسے طبیعت کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو نفس کی حرص و لالچ کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہو لیکن آسودہ نہ ہوتا ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے ۔

It was narrated that Hakim bin Hizam said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: ‘Hakim! This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without being greedy, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2602
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٣٢ (صحیح )
2605Sunan An Nasai

اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا بِشَيْءٍ.

حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے حکیم! یہ مال میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے نفس کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اس میں اسے برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھائے تو لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ اور (جان لو) اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے سے ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ کے بعد اب کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوجاؤں۔

Hakim bin Hizam said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: ‘Hakim, this wealth is attractive and Sweet. Whoever takes it without being greedy, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand.’ I said: ‘Messenger of Allah ﷺ! By the One Who sent you with the truth, I will never ask anyone for anything after you, until I depart this world.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2603
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٣٢ (صحیح )
2606Sunan An Nasai

جس کسی کو خداوند قدوس بغیر مانگے عطا فرمائے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِيعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَيْتُكَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ.

عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کردیا، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے، تو انہوں نے کہا: ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو (اسے) کھاؤ، اور (اس میں سے) صدقہ کرو ۔

It was narrated that Ibn As Sa’idi Al-Maliki said: “Umar bin Al Khattab (RA), appointed me in charge of the Sadaqah. When I finished collecting it and handed it over to him, he ordered that I be given some payment. I said to him: ‘I only did for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and my reward will be with Allah, the Mighty and Sublime.’ He said: ‘Take what I have given you; I did the same task during the time of the Messenger of Allah ﷺ and I said what you have said, but the Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘If you are given something without asking for it, then keep (some) and give (some) in charity.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2604
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥١ (١٤٧٣)، الأحکام ١٧ (٧١٦٣)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٧ (١٠٤٥)، سنن ابی داود/الزکاة ٢٨ (١٦٤٧)، الخراج والإمارة ١٠ (٢٩٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٨٧)، مسند احمد ١/١٧، ٤٠، ٥٢، ٢/٩٩، سنن الدارمی/الزکاة ١٩ (١٦٨٨، ١٦٨٩)، وسیأتی بعد ھذا بأرقام ٢٦٠٦-٢٦٠٨ (صحیح )
2607Sunan An Nasai

شراب کی حرمت سے متعلق خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا اے اہل ایمان! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (کے تیر) یہ تمام کے تمام ناپاک ہیں شیطان کے کام ہیں اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان میں دشمنی اور لڑائی پیدا کرا دے شراب پلا اور جوا کھلا کر اور روک دے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو تم لوگ چھوڑتے ہو یا نہیں۔

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الشَّامِ فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَتُعْطَى عَلَيْهِ عُمَالَةً فَلَا تَقْبَلُهَا، قَالَ: أَجَلْ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْمَالَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ: مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ، فَخُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.

عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ شام سے عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام پر عامل بنائے جاتے ہو، اور اس پر جو تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو اسے تم قبول نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے، میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں (اللہ کا شکر ہے کوئی کمی نہیں ہے) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہوجائے۔ تو عمر ؓ نے کہا: جو تم چاہتے ہو وہی میں نے بھی چاہا تھا۔ نبی اکرم ﷺ مجھے مال دیتے تو میں عرض کرتا: اسے آپ اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس مال میں سے جو تمہیں بغیر مانگے اور بغیر لالچ کئے دے، اسے لے لو، چاہو تم (اسے اپنے مال میں شامل کر کے) مالدار بن جاؤ، اور چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ اور جو نہ دے اسے لینے کے پیچھے مت پڑو ۔

‘Abdullah bin As-Sadi narrated that he came to ‘Umar bin Al-Khattab (RA), from Ash-Sham, and he said: “I heard that you have been doing some work for the Muslims, and you are given payment for that, but you do not accept it.” I said: “Yes (that is so); I have horses and slaves and am well off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims.” ‘Umar (RA), said: “I wanted the same thing as you. The Prophet ﷺ used to give me money, and I would say: ‘Give it to someone who is more in need of it than I am.’ Once he gave me money and I said: ‘Give it to someone who is more in need of it than I am,’ and he said: ‘Whatever Allah, the Mighty and Sublime, gives you of this wealth without you asking for it or hoping for it, take it and keep it, or give it in charity, and whatever He does not give you then do not hope for it or wish for It.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2605
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2608Sunan An Nasai

جس کسی کو خداوند قدوس بغیر مانگے عطا فرمائے

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّحُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ رَدَدْتَهَا، فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ ؟ فَقُلْتُ: لِي أَفْرَاسٌ وَأَعْبُدٌ وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ مَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.

عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے، تو عمر ؓ نے ان سے کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں (صحیح ہے) اس پر عمر ؓ نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں (مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ تو عمر ؓ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو (لیکن اس کے باوجود) رسول اللہ ﷺ مجھے عطیہ (بخشش) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ فرماتے: اسے لے کر اپنے مال میں شامل کرلو، یا صدقہ کر دو، سنو! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو ۔

‘Abdullah bin As-Sadi narrated that he came to ‘Umar bin Al-Khattab (RA) during his Caliphate and ‘Umar said to him: “I heard that you do some jobs for the people but when payment is given to you, you refuse it.” I said: “(that is so).” ‘Umar (RA), said: “Why do you do that?” I said: “I have horses and slaves and am well off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims.” ‘Umar said to him: “Do not do that. I used to want the same thing as you. The Messenger of Allah ﷺ used to give me payment and I would say, ‘Give it to someone who is more in need of it than I am.’ But the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2606
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٥ (صحیح )
2609Sunan An Nasai

جس کسی کو خداوند قدوس بغیر مانگے عطا فرمائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ، وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.

عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس آئے تو عمر ؓ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے والی ہوتے ہو تو جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں (ایسا تو ہے) انہوں نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہوجائے، اس پر عمر ؓ نے کہا: ایسا نہ کرو، کیونکہ میں بھی وہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو۔ نبی اکرم ﷺ مجھے عطایا (بخشش) دیتے تھے، تو میں عرض کرتا تھا: آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا، میں نے کہا: آپ اسے اس شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لے کر اپنے مال میں شامل کرلو، نہیں تو صدقہ کر دو۔ (سنو! ) اس مال میں سے جو بھی تمہیں بغیر کسی لالچ کے اور بغیر مانگے ملے اس کو لے لو، اور جو نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑو ۔

‘Abdullah bin As-Sadi narrated that he came to ‘Umar bin Al-Khattab (RA) during his Caliphate and ‘Umar said to him: “I heard that you do some jobs for the people but when payment is given to you, you do not like it.” I said: “Yes (that is so).” He said: “Why do you do that?” I said: “I have horses and slaves and am well off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims.” ‘Umar said to him: “Do not do that. I used to want the same thing as you. The Messenger of Allah ﷺ used to give me payment and I would say, ‘Give it to someone who is more in need of it than I am’ until, on one occasion, the Prophet ﷺ gave me payment and I said: ‘Give it to someone who is more in need of it than I am.’ The Prophet ﷺ said: ‘Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2607
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٥ (صحیح )
2610Sunan An Nasai

جس کسی کو خداوند قدوس بغیر مانگے عطا فرمائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کرلو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو ۔

‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard ‘Umar, may Allah be pleased with him, say: ‘The Prophet ﷺ used to give me payment and I would say: Give it to someone who is more in need of it than I am, until one day he gave me some money and I said to him: Give it to Someone who is more in need of it than I am. He, said: Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2608
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥١ (١٤٧٣)، الأحکام ١٧ (٧١٦٤)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٧ (١٠٤٥)، تحفة الأشراف: ١٠٥٢٠)، مسند احمد (١/٢١، سنن الدارمی/الزکاة ١٩ (١٦٨٨) (صحیح )
2611Sunan An Nasai

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل و عیال کو صدقہ لینے کیلئے مقرر کرنے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا لَهُ اسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَالَ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ، قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَنَا: إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس ؓ سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنادیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی ؓ آگئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: (ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد ﷺ کے لیے اور محمد ﷺ کے آل کے لیے جائز نہیں ۔

Abu Rabi’ah bin Al-Harith said to ‘Abdul-Muttalib bin Rabi’ah bin Al-Harith and Al-Fadal bin ‘Abbas bin ‘Abdul-Muttalib: “Go to the Messenger of Allah ﷺ and say to him: ‘Messenger of Allah ﷺ, appoint us to collect the Sadaqat!’ ‘Ali Ibn Abi Talib (RA) came along when we were like that, and he said to them: ‘The Messenger of Allah ﷺ will not appoint any of you to collect the Sadaqah.” ‘Abdul-Muttalib said: “So I went with Al-Fadal until we came to the Messenger of Allah ﷺ and he said to us: ‘This Zakah is the dirt of the people, and it is not permissible for Muhammad or for the family of Muhammad.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2609
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٥١ (١٠٧٢)، سنن ابی داود/الخراج والإمارة ٢٠ (٢٩٨٥)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٧)، مسند احمد ٤/١٦٦ (صحیح )
2612Sunan An Nasai

کسی قوم کا بھانجہ اسی قوم میں شمار ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، أَسَمِعْتَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ.

شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک ؓ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے ، انہوں نے کہا: جی ہاں (میں نے سنا ہے) ۔

Shu’bah said: “I said to Abu Iyas Muawiyah bin Qurrah: ‘Did you hear Anas bin Malik (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: The son of the daughter of a people is one of them? He said: ‘Yes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2610
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨)، مسند احمد (٣/١١٩، ١٧١، ٢٢٢، ٢٣١، سنن الدارمی/السیر ٨٢ (٢٥٦٩) (صحیح )
2613Sunan An Nasai

کسی قوم کا بھانجہ اسی قوم میں شمار ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ.

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The son of the daughter of a people is one of them.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2611
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١٤ (٣٥١٦)، الفرائض ٢٤ (٦٧٦١)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٦ (١٠٥٩) مطولا، سنن الترمذی/المناقب ٦٦ (٣٩٠١) (تحفة الأشراف: ١٢٤٤)، مسند احمد (٣/١٧٢، ١٧٣، ١٨٠، ٢٢٢، ٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٧) (صحیح )
2614Sunan An Nasai

کسی قوم کا آزاد کیا ہوا غلام (یعنی مولی ٰ) بھی ان ہی میں سے ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَرَادَ أَبُو رَافِعٍ أَنْ يَتْبَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ.

ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا، تو ابورافع نے بھی اس کے ساتھ جانا چاہا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، لوگوں کا غلام بھی انہیں میں سے شمار ہوتا ہے ۔

It was narrated from Ibn Abi Rafi’ from his father, that the Messenger of Allah ﷺ appointed a man from Banu Makhzum to collect Sadaqah. Abu Rafi’ wanted to go with him, but the Messenger of Allah ﷺ said: “The Sadaqah is not permissible for us, and the freed slave of a people is one of them.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2612
Notes · وضاحت
١ ؎: ابورافع رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٩ (١٦٥٠)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٥ (٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠١٨)، مسند احمد (٦/٨، ١٠، ٣٩٠) (صحیح )
2615Sunan An Nasai

صدقہ خیرات حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے حلال نہیں ہے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ.

بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ (کھانے کے لیے) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔

Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: “If something was brought to him, the Prophet ﷺ, would ask whether it was a gift or charity. If it was said that it was charity, he would not eat, and if it was said that it was a gift, he would stretch forth his hand.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2613
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٥ (٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٦)، مسند احمد (٥/٥) (حسن صحیح )
2616Sunan An Nasai

اگر صدقہ کسی شخص کے پاس ہو کر آئے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَتُعْتِقَهَا، وَإِنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ ؓ کو خرید کر آزاد کردینا چاہا، لیکن ان کے مالکان نے ولاء (ترکہ) خود لینے کی شرط لگائی۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے خرید لو، اور آزاد کر دو، ولاء (ترکہ) اسی کا ہے جو آزاد کرے ، اور جس وقت وہ آزاد کردی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں۔ (اسی درمیان) رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ ؓ پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، ان کے شوہر آزاد تھے۔

It was narrated from Aishah (RA) that she wanted to buy Barirah and set her free, but they stipulated that her loyalty as a freed slave (Wala’) should be to them. She mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: “Buy her and set her fee, and loyalty is due to the one who frees the slave.” She was given the choice when she was freed. Some meat was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said: “This is something that is given in charity to Barirah.” He said: “It is charity for her and gift for us.” And her husband was a free man. (Sahih)

صحيح دون قوله حر المحفوظ عبدصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2614
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٣)، العتق ١٠ (٢٥٣٦)، الھبة ٧ (٢٥٧٨)، النکاح ١٨ (٥٠٩٧)، الطلاق ١٤ (٥٢٧٩)، ١٧ (٥٢٨٤)، والأطعمة ٣١ (٥٤٣٠)، الکفارات ٨ (٦٧١٧)، الفرائض ١٩ (٦٧٥١)، ٢٠ (٦٧٥٤)، ٢٢ (٦٧٥٧)، ٢٣ (٦٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٥)، العتق ٢ (١٥٠٤)، سنن ابی داود/الفرائض ١٢ (٢٩١٦)، الطلاق ١٩ (٢٢٣٣)، سنن الترمذی/البیوع ٣٣ (١٢٥٦)، الولاء ١ (٢١٢٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٤)، موطا امام مالک/الطلاق ١٠ (٢٥)، مسند احمد ٦/٤٢، ٤٦، ١١٥، ١٢٣، ١٧٠، ١٧٢، ١٧٥، ١٧٨، ١٨٠، ١٩١، ٢٠٧، ٢٠٩، ویأتي عند المؤلف ٣٤٨٠ (صحیح) (یہ روایت ” وکان زوجھا عبدا “ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، اور ” کان حرا “ کا لفظ صرف ” الحکم عن الأسود عن عائشة “ کے طریق میں ہے، جو بقول امام بخاری راوی ” حکم “ کا ارسال ہے )