زکوة سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 21 · 184 hadiths · Page 10 of 10

2617Sunan An Nasai

صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ.

اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے (ایک آدمی کو) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کردیا، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے ۔

It was narrated from Zaid bin Aslam that his father said: “I heard ‘Umar say: ‘I gave a horse to someone to ride in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the one who kept it neglected it. I wanted to buy it back from him, and I thought that he would sell it at a cheap price. I asked the Messenger of Allah ﷺ about that and he said: Do not buy it, even if he gives it to you for a Dirham. The one who takes back his charity is like the dog that goes back to its Own vomit.’” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2615
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٩٠)، الھبة ٣٠ (٢٦٢٣)، ٣٧ (٢٦٣٦)، الوصایا ٣١ (٢٩٧٠)، الجھاد ١١٩ (٢٩٧٠)، ١٣٧ (٣٠٠٣)، صحیح مسلم/الھبات ١ (١٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١ (٢٣٩٠)، ٢ (١٣٩٢)، ما/الزکاة ٢٦ (٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٥)، مسند احمد (١/ ٢٥، ٣٧، ٤٠، ٥٤) (صحیح )
2618Sunan An Nasai

صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهَا تُبَاعُ، فَأَرَادَ شِرَاءَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعْرِضْ فِي صَدَقَتِكَ.

عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ۔

It was narrated from ‘Umar that he gave someone a horse to ride in the cause of Allah, then he saw it offered for sale and wanted to buy it. The Prophet ﷺ said to him: “Do not think of buying back what you have given in charity.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2616
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٦) (صحیح )
2619Sunan An Nasai

صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُجَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدَهَا تُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیچا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور آپ سے اس بارے میں اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنا صدقہ واپس نہ لو ۔

It was narrated from Salim bin ‘Abdullah that ‘Abdullah bin ‘Umar used to narrate that ‘Umar gave a horse in charity for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and he found it being offered for sale after that. He wanted to buy it, then he went to the Messenger of Allah ﷺ and asked him about that. The Messenger of Allah ﷺ said: “Do not take back what you have given in charity.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2617
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٩ (١٤٨٩)، (تحفة الأشراف: ٦٨٨٢) (صحیح )
2620Sunan An Nasai

صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، وَيَزِيدُ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ، فَتُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا.

تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو (درخت پر لگے) انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تاکہ اس کی زکاۃ کشمش سے ادا کی جاسکے، جیسے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ پکی کھجور سے ادا کی جاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that the Messenger of Allah ﷺ told ‘Attab bin Usaid to estimate the (harvest of) grapes, and to pay Zakah in raisins, just as the Zakah on date palms is given in dried dates. (Da’if)

حسن الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2618
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس حدیث کا تعلق اس کے باب صدقہ خریدنے کا بیان سے نظر نہیں آتا، ممکن ہے کہ مؤلف کی مراد یہ ہو کہ جب درخت پر لگے پھل کا تخمینہ لگا کر مالک کے گھر میں موجود کھجور سے اس کی زکاۃ لے لی گئی تو گویا یہ بیع ہوگئی، اور تب عمر رضی الله عنہ کے واقعہ میں ممانعت تنزیہ پہ محمول کی جائے گی، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٣ (١٦٠٣)، سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٤)، سنن ابن ماجہ/١٨ (١٨١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٨) (حسن الإسناد) (حدیث کی سند میں ارسال ہے، اور یہ سعید بن مسیب کی مرسل ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ سب سے صحیح مراسیل سعید بن مسیب ہی کی ہیں )