Sunan An Nasai 2618

زکوة سے متعلقہ احادیث

2618Sunan An Nasai

صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهَا تُبَاعُ، فَأَرَادَ شِرَاءَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَعْرِضْ فِي صَدَقَتِكَ.

عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ۔

It was narrated from ‘Umar that he gave someone a horse to ride in the cause of Allah, then he saw it offered for sale and wanted to buy it. The Prophet ﷺ said to him: “Do not think of buying back what you have given in charity.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2616
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٢ (٦٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٦) (صحیح )