Sunan An Nasai 2620

زکوة سے متعلقہ احادیث

2620Sunan An Nasai

صدقہ خیرات میں دیا ہوا مال کا دوبارہ خریدنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، وَيَزِيدُ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ، فَتُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا.

تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو (درخت پر لگے) انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تاکہ اس کی زکاۃ کشمش سے ادا کی جاسکے، جیسے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ پکی کھجور سے ادا کی جاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that the Messenger of Allah ﷺ told ‘Attab bin Usaid to estimate the (harvest of) grapes, and to pay Zakah in raisins, just as the Zakah on date palms is given in dried dates. (Da’if)

حسن الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2618
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس حدیث کا تعلق اس کے باب صدقہ خریدنے کا بیان سے نظر نہیں آتا، ممکن ہے کہ مؤلف کی مراد یہ ہو کہ جب درخت پر لگے پھل کا تخمینہ لگا کر مالک کے گھر میں موجود کھجور سے اس کی زکاۃ لے لی گئی تو گویا یہ بیع ہوگئی، اور تب عمر رضی الله عنہ کے واقعہ میں ممانعت تنزیہ پہ محمول کی جائے گی، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٣ (١٦٠٣)، سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٤)، سنن ابن ماجہ/١٨ (١٨١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٨) (حسن الإسناد) (حدیث کی سند میں ارسال ہے، اور یہ سعید بن مسیب کی مرسل ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ سب سے صحیح مراسیل سعید بن مسیب ہی کی ہیں )