کتاب اداب القضاة

Sunan An Nasai · Chapter 49 · 49 hadiths · Page 1 of 3

5381Sunan An Nasai

عادل حاکم کی تعریف اور منصف حاکم کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا. قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کرنے والے لوگ رحمان (اللہ) کے دائیں نور کے منبر پر ہوں گے ١ ؎، یعنی وہ لوگ جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ان کے تابع ہیں انصاف کرتے ہیں۔ مدد بن آدم کی روایت میں ہے: اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr bin Al-As that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Those who are just and fair will be with Allah, Most High, on thrones of light, at the right hand of the Most Merciful, those who are just in their rulings and in their dealings with their families and those of whom they are in charge." Muhammad (one of the narrators) said in his Hadith: "And both of His hands are right hands.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5379
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں انہیں نور کے منبر ملیں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں بلند درجات بھی نصیب ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الٕامارة ٥(١٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٨)، مسند احمد (٢/١٦٠) (صحیح )
5382Sunan An Nasai

انصاف کرنے والا امام

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا. فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات لوگ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن (عرش کے) سائے میں رکھے گا، جس دن کہ اس کے سوا کسی کا سایہ نہ ہوگا: انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بڑھتا جائے، وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، دو ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں دوست ہوں، ایسا شخص جسے رتبے والی خوبصورت عورت (اپنے ساتھ غلط کام کرنے کے لیے) بلائے تو وہ کہہ دے: مجھے اللہ تعالیٰ کا ڈر لگ رہا ہے، ایک ایسا شخص جو صدقہ کرے تو اس طرح چھپا کر کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے؟ ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: I fear Allah; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his right hand is doing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5380
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٦ (٦٦٠)، الزکاة ١٦ (١٤٢٣)، الرقاق ٢٤ (٦٤٧٩)، الحدود ١٩ (٦٨٠٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٠ (١٠٣١)، سنن الترمذی/الزہد ٥٣ (٢٣٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٤)، موطا امام مالک/الشعر ٥ (١٤)، مسند احمد (٢/٤٣٩) (صحیح )
5383Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص صحیح فیصلہ کرے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حاکم فیصلہ (کا ارادہ) کرے اور اجتہاد سے کام لے پھر وہ صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور اگر اجتہاد کرنے میں غلطی کر بیٹھے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a judge passes judgment and strives to reach the right conclusion and gets it right, he will have two rewards; if he strives to reach the right conclusion but gets it wrong, he will still have one reward.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5381
Notes · وضاحت
١ ؎: حاکم مراد وہ حاکم ہے جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، قدیم و جدید سارے علما مجتہدین کے اجتہادات کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی غلط فیصلہ یا اجتہاد کا گناہ حاکم یا عالم یا امام پر تو نہیں ہوگا، مگر جان بوجھ کر کسی امام یا عالم کے کسی فتوے پر اڑے رہ جانے والوں کو ضرور گناہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢١ (٧٣٥٢)، صحیح مسلم/الأقضیة (١٧١٦)، سنن ابی داود/الأقضیة ٢(٣٥٧٤)، سنن الترمذی/الاحکام ٢ (١٣٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣ (٢٣١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٨)، مسند احمد (٤/١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
5384Sunan An Nasai

جو کوئی قاضی بننے کی آرزو کرے اس کو کبھی قاضی نہ بنایا جائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَانِي نَاسٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَقَالُوا: اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَاعْتَذَرْتُ مِمَّا قَالُوا، وَأَخْبَرْتُ أَنِّي لَا أَدْرِي مَا حَاجَتُهُمْ فَصَدَّقَنِي، وَعَذَرَنِي، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا بِمَنْ سَأَلَنَا.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس قبیلہ اشعر کے کچھ لوگوں نے آ کر کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلئے، ہمیں کچھ کام ہے، چناچہ میں انہیں لے کر گیا، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم سے اپنا کوئی کام لیجئیے ١ ؎ میں نے آپ سے ان کی اس بات کی معذرت چاہی اور بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی غرض کیا تھی، چناچہ آپ نے میری بات کا یقین کیا اور معذرت قبول فرما لی اور فرمایا: ہم اپنے کام (عہدے) میں ایسے لوگوں کو نہیں لگاتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: "Some people from among the Asharis came to me and said: Go with us to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), for we have something to ask him. So I went with them, and they said: O Messenger of Allah, use us to do your work." Abu Musa said: "I apologized for what they said, and I told him that I did not know what they were going to ask. He believed me and excused me, and said: We do not appoint for our work anyone who asks for that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5382
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہمیں کوئی عہدہ دیجئیے۔ ٢ ؎: یعنی جو شخص منصب و عہدے کا طالب ہو ہم اسے یہ چیز نہیں دیتے کیونکہ اگر اسے صحیح طور پر انجام نہ دے سکا تو ایسے شخص کی صرف دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت کی تباہی و بربادی کا بھی ڈر ہے، اور عہدہ و منصب کا طالب تو وہی ہوگا جو حصول دنیا کا خواہاں ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٠٩٣)، مسند احمد (٤/٤١٧) (صحیح )
5385Sunan An Nasai

جو کوئی قاضی بننے کی آرزو کرے اس کو کبھی قاضی نہ بنایا جائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا ؟ قَالَ: إِنَّكُمْسَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ.

اسید بن حضیر ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: کیا آپ مجھے کام نہیں دیں گے جیسے فلاں کو دیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد تم پاؤ گے کہ ترجیحات ١ ؎ ہوں گی ایسے حالات میں تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ حوض پر تم مجھ سے ملو ۔

It was narrated from Usaid bin Hudair that: A man from among the Ansar came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Will you not appoint me as you appointed so-and-so?" He said: "You will encounter selfishness after I am gone, so be patient until you meet me at the cistern (Al-Hawd).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5383
Notes · وضاحت
١ ؎: مستحق اور اہلیت والے کو محروم کر کے نالائق کو کام پر رکھنا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الٔعنصار ٨ (٣٧٩٢)، الفتن ٢ (٧٠٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ١١ (١٨٤٥)، سنن الترمذی/الفتن ٢٥ (٢١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨)، مسند احمد (٤/٣٥١، ٣٥٢) (صحیح )
5386Sunan An Nasai

حکومت کی خواہش نہ کرنا

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ. ح، وَأَنْبَأَنَاعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منصب طلب مت کرو، اس لیے کہ اگر مانگے سے وہ تمہیں ملا تو تم اسی کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ١ ؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے مل گیا تو تمہاری اس میں مدد ہوگی ۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not ask for governorship. For if it is given to you because of asking, you will be left to your own devices, but if it is given to you without asking, you will be helped (by Allah).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5384
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید سے تم محروم رہو گے اور کوئی مدد نہیں ملے گی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨١٣ (صحیح )
5387Sunan An Nasai

حکومت کی خواہش نہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم لوگ منصب کی خواہش کرو گے، لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہوگی پس دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے، (اس لیے کہ ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے ) ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You will be keen for governorship but it will be regret and loss on the Day of Resurrection. What a good position it is when they are alive, but how miserable their state when they die (and leave it behind).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5385
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: حکومت اور منصب والی زندگی تو بھلی لگے گی لیکن اس کے بعد والی زندگی ابتر اور بری ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٢١٦ (صحیح )
5388Sunan An Nasai

(ایک یمنی قوم) اشعریوں کو حکومت سے نوازنا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُقَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ أَمِّرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ سورة الحجرات آية 1 - 5.

عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ابوبکر ؓ نے کہا: قعقاع بن معبد کو سردار بنائیے، اور عمر ؓ نے کہا: اقرع بن حابس کو سردار بنائیے، پھر دونوں میں بحث و تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوگئی، تو اس سلسلے میں یہ حکم نازل ہوا اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے مت بڑھو (یعنی ان سے پہلے اپنی رائے مت پیش کرو) یہاں تک کہ یہ آیت اس مضمون پر ختم ہوگئی: اگر وہ لوگ تمہارے باہر نکلنے تک صبر کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا ١ ؎۔

Abdullah bin Az-Zubair narrated that: A group from Banu Tamim came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Abu Bakr said: "Appoint Al-Qaqa bin Mabad (as commander or governor)," and Umar said: "No, (appoint) Al-Aqra bin Habis." They argued until they began to raise their voices, then the words were revealed: "O you who believe! Make not (a decision) in advance before Allah and His Messenger…" until the end of the Verse: "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5386
Notes · وضاحت
١ ؎: شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) کی بحث و تکرار کے سبب ابتداء سورة سے أجر عظیم تک ٣ آیتیں نازل ہوئیں، اور آیت: ولو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لکان خيرا لهم اقرع بن حابس ؓ کے آپ ﷺ کو زور زور سے یا محمد اخرج کہنے کی وجہ سے نازل ہوئی، ان میں سے اقرع شاعر تھے، یہی بات باب سے مناسبت ہے، یعنی: کسی شاعر ہونے کے سبب اس کو کسی عہدہ سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٨ (٤٣٦٧)، تفسیر سورة الحجرات ١ (٤٨٤٥)، ٢ (٤٨٤٧)، الاعتصام ٥ (٧٣٠٢)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجرات (٣٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥٢٦٩) (صحیح )
5389Sunan An Nasai

جس وقت کسی کو فیصلہ کے لئے ثالث مقرر کریں اور وہ فیصلہ دے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَهُ وَهُمْ يَكْنُونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ ؟، فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، فَمَا لَكَ مِنَ الْوُلْدِ ؟، قَالَ لِي: شُرَيْحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ، وَمُسْلِمٌ، قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ ؟قَالَ: شُرَيْحٌ، قَالَ: فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ، فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ.

ہانی ؓ سے روایت ہے کہ وہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ نے لوگوں کو سنا کہ وہ ہانی کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا: حکم تو اللہ ہے اور حکم کرنا بھی اسی کا کام ہے ، وہ بولے: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی چیز میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس چلے آتے ہیں، میں ان کے درمیان فیصلے کرتا ہوں اور دونوں فریق رضامند ہوجاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے، تمہارے کتنے لڑکے ہیں؟ وہ بولے: شریح، عبداللہ اور مسلم، آپ نے فرمایا: ان میں بڑا کون ہے؟ وہ بولے: شریح، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم اب سے ابوشریح ہو ، پھر آپ نے ان کے لیے اور ان کے بیٹے کے لیے دعا کی۔

It was narrated from Shuraih bin Hani from his father, that: When he came to the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) and he heard them calling Hani by the nickname of Abu Al-Hakam, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called him and said to him: "Allah is Al-Hakam (the Judge) and judgment is His. Why are you known as Abu Al-Hakam?" He said: "If my people differ concerning something, they come to me, and I pass judgment among them, and both sides accept it." He said: "How good this is. Do you have any children?" He said: "I have Shuraih, and Abdullah, and Muslim." He said: "Who is the eldest of them?" He said: "Shuraih." He said: "Then you are Abu Shuraih," and he supplicated for him and his son.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5387
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الٔیدب ٧٠(٤٩٥٥) (تحفة الأشراف: ١١٧٢٥) (صحیح )
5390Sunan An Nasai

خواتین کو حاکم بنانے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ: مَنِ اسْتَخْلَفُوا ؟، قَالُوا: بِنْتَهُ، قَالَ: لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کی وجہ سے روکے رکھا ١ ؎ جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، جب کسریٰ ہلاک ہوا تو آپ نے فرمایا: انہوں نے کسے جانشین بنایا؟ لوگوں نے کہا: اس کی بیٹی کو، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے کسی عورت کو حکومت کے اختیارات دے دیے ۔

It was narrated that Abu Bakrah said: "Allah protected me with something that I heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). When Chosroes died, he said: Whom have they appointed as his successor? They said: His daughter. He said: No people will ever prosper who entrust their leadership to a woman.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5388
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عائشہ ؓ کی طرف سے علی ؓ سے جب جنگ کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فرمان رسول ﷺ کے سبب محفوظ رکھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٢ (٤٤٢٥)، الفتن ١٨(٧٠٩٩)، سنن الترمذی/الفتن ٧٥ (٢٢٦٢)، مسند احمد (٥/٣٨، ٤٣، ٤٧، ٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٠) (صحیح )
5391Sunan An Nasai

مثال پیش کر کے ایک حکم نکالنا اور حضرت ابن عباس کی حدیث میں ولید بن مسلم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ إِلَّا مُعْتَرِضًا أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، حُجِّي عَنْهُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَضَيْتِيهِ.

فضل بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ کو) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، آپ کے پاس قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور بولی: اللہ کے رسول! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر کافی بڑھاپے میں واجب ہوا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ انہیں باندھ دیا جائے، تو کیا میں ان کی جانب سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرلو۔ اس لیے کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو وہ بھی تم ہی ادا کرتیں ١ ؎۔

It was narrated from Al-Fadl bin Abbas that: He was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the morning of the Day of Sacrifice, when a woman from Khatham came to him and said: "O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man and cannot ride unless he is tied crossways on a mount; can I perform Hajj on his behalf? He said: "Yes, perform Hajj on his behalf, for if he owed a debt you would pay it off for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5389
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا اس مثال کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس عورت پر اس کے معذور باپ کے اوپر فرض حج کی ادائیگی کا فیصلہ دیا، اسی طرح دنیا کی ہر عدالت میں اشباہ و نظائر کے سہارے فیصلہ کیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٣ (١٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٧١ (١٣٣٥)، سنن الترمذی/الحج ٨٥ (٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ١٠ (٢٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٨)، مسند احمد (١/٢١٢، ٣١٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢٣ (١٨٧٣، ١٨٧٤) (صحیح )
5392Sunan An Nasai

مثال پیش کر کے ایک حکم نکالنا اور حضرت ابن عباس کی حدیث میں ولید بن مسلم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ. ح، وَأَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْفَضْلُ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يُجْزِئُ ؟ قَالَ مَحْمُودٌ: فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهَا: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا (فضل اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے۔ ) وہ بولی: اللہ کے رسول! اللہ کا اپنے بن دوں پر عائد کردہ فرض فریضۂ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا ہے جب وہ کافی بوڑھے ہوچکے ہیں، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو ان کی طرف سے میرا حج کرنا کافی ہے؟ (محمود نے (فهل يجزي یعنی کافی ہے؟ کے بجائے) فهل يقضي (یعنی کیا ادا ہوجائے گا) کہا۔ ) آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ہاں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کو زہری سے ایک سے زائد لوگوں نے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر ولید نے کیا ١ ؎۔

It was narrated from Sulaiman bin Yasar that Ibn Abbas told him: "A woman from Khatham asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) a question when Al-Fadl was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). She said: O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, he cannot sit upright in the saddle. Will it suffice if I perform Hajj on his behalf? He said: Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5390
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ولید نے اس حدیث کو مسند فضل سے روایت کیا ہے جب کہ زہری سے روایت کرنے والے دوسرے شاگردوں نے اسے مسند ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٢٦٣٥ (صحیح )
5393Sunan An Nasai

مثال پیش کر کے ایک حکم نکالنا اور حضرت ابن عباس کی حدیث میں ولید بن مسلم پر راویوں کا اختلاف

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اتنے میں قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ سے مسئلہ پوچھنے آئی، فضل ؓ اس کی طرف دیکھنے لگے وہ ان کی طرف دیکھنے لگی، رسول اللہ ﷺ فضل کا رخ دوسری طرف موڑ دیتے، وہ بولی: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فرض کردہ فریضہ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جب وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، وہ سواری پر سیدھے بیٹھ بھی نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔

It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "Al-Fadl bin Abbas was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a woman from Khatham came to ask him a question. Al-Fadl started looking at her, and she at him, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned the face of Al-Fadl the other way. She said: O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit firmly in the saddle; can I perform Hajj on his behalf? He said: Yes. That was during the Farewell Pilgrimage.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5391
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٥ (صحیح )
5394Sunan An Nasai

مثال پیش کر کے ایک حکم نکالنا اور حضرت ابن عباس کی حدیث میں ولید بن مسلم پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ الْفَضْلُ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جبکہ وہ کافی بوڑھے ہوچکے ہیں، وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ہاں ، فضل اس کی طرف مڑ مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک حسین و جمیل عورت تھی، رسول اللہ ﷺ نے فضل کو پکڑا اور ان کا رخ دوسری جانب گھما دیا۔

It was narrated from Ibn Shihab that Sulaiman bin Yasar told him that Ibn Abbas told him that: A woman from Khatham said: "O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit upright in the saddle. Will it discharge his duty if I perform Hajj on his behalf?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: "Yes." Al-Fadl starting turning toward her, for she was a beautiful woman, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned Al-Fadls face to the other side.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5392
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٥ (صحیح )
5395Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت یحیی بن ابی اسحق پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَفَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ مُجْزِئًا ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میرے والد پر حج فرض ہوگیا ہے، اور وہ اس قدر بوڑھے ہوگئے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ اس سے مر نہ جائیں، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرلوں؟ آپ نے فرمایا: اگر ان پر کچھ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ کافی ہوتا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرلو ۔

It was narrated from Abdullah bin Abbas that: A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "The (command to perform) Hajj has come while my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle, and if I tie him, I fear that he may die. Can I perform Hajj on his behalf?" He said: "Do you think that if he owed a debt you would pay it off for him?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your father.

شاذ مضطرب والمحفوظ أن السائل امرأة والمسؤول عنه أبوهاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5393
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٥ (شاذ) (اس واقعہ میں سائل کا مرد ہونا شاذ ہے )
5396Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت یحیی بن ابی اسحق پر اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، إِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ.

فضل بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بڑی بوڑھی عورت ہیں، اگر میں انہیں سوار کر دوں تو وہ اسے پکڑ نہیں سکیں گی اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ میرے اس عمل سے مر نہ جائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے یا نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم اپنی ماں کی طرف سے حج کرو ۔

It was narrated from Al-Fadl bin Abbas, that: He was riding behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), when a man came and said: "O Messenger of Allah, my mother is an old woman; if I put her on a mount she cannot sit firmly, and if I tie her, I fear that I may kill her." He said: "Do you think that if your mother owed a debt you would pay it off for her?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your mother.

شاذ والمحفوظ خلافة كما ذکرت في الذي قبلهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5394
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٤٤ (شاذ )
5397Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت یحیی بن ابی اسحق پر اختلاف

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُهُ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَإِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ.

فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، حج نہیں کرسکتے، اگر میں انہیں سوار کر دوں، تو اسے پکڑ کر بیٹھ نہیں سکیں گے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان کا فضل بن عباس ؓ سے سماع ثابت نہیں ہے۔

It was narrated from Sulaiman bin Yasar, who narrated from Al-Fadl bin Abbas, who said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Prophet of Allah, my father is an old man and cannot perform Hajj. If I put him on a mount he cannot sit firm. Can I perform Hajj on his behalf? He said: Perform Hajj on behalf of your father.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5395
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٤٤ (شاذ )
5398Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت یحیی بن ابی اسحق پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ؟.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میرے والد کافی بوڑھے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کافی ہوتا یا نہیں؟ ۔

It was narrated from Ibn Abbas that: A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My father is an old man, can I perform Hajj on his behalf? He said: "Yes. Dont you think that if he owed a debt and you paid it off, that would suffice him?

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5396
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٣٨٩) (شاذ )
5399Sunan An Nasai

علماء جس امر پر اتفاق کریں اس کے مطابق حکم کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ هُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَكْثَرُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَلَسْنَا نَقْضِي، وَلَسْنَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ عَلَيْنَا أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْكُمْ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ فَلْيَجْتَهِدْ رَأْيَهُ وَلَا يَقُولُ إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَخَافُ فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ جَيِّدٌ.

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایک دن عبداللہ بن مسعود ؓ سے بہت سارے موضوعات پر بات چیت کی، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: ہم پر ایک زمانہ ایسا بھی گزر چکا ہے کہ ہم نہ تو کوئی فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے قابل تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر کر رکھا تھا کہ ہم اس مقام کو پہنچے جو تم دیکھ رہے ہو، لہٰذا آج کے بعد سے جس کسی کو فیصلہ کرنے کی ضرورت آپڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں ہے، پھر اگر ایسا کوئی معاملہ اسے درپیش آئے جو کتاب اللہ (قرآن) میں نہ ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم ﷺ نے کیا تھا، اور اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کا کوئی فیصلہ ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو ١ ؎، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو، نہ نبی اکرم ﷺ کا اس سلسلے میں کوئی فیصلہ ہو اور نہ ہی نیک لوگوں کا) تو اسے چاہیئے کہ اپنی عقل سے اجتہاد کرے اور یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر ہے، مجھے ڈر ہے، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں تو تم ان باتوں کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالیں اور وہ کرو جو شک سے بالاتر ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث بہت اچھی ہے۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: "The people asked Abdullah too many questions one day, and Abdullah said: There was a time when we did not pass so many judgments, but now that time is over. Now Allah, the Mighty and Sublime, has decreed that we reach a time when, as you see, (we are asked to pass many judgments). Whoever among you is asked to pass a judgment after this day, let him pass judgment according to what is in the Book of Allah. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, let him pass judgment according to the way His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah and concerning which His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass judgment, then let him pass judgment according to the way the righteous passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, and concerning which His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the righteous did not pass judgment, then let him strive to work it out, and let him not say I am afraid, I am afraid. For that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are not as clear. Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5397
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد نیک علماء ہیں، کیونکہ ابن مسعود ؓ کے زمانہ میں صالحین صحابہ کرام ہی تھے، اور ان کی اکثریت عالم تھی، خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ کرام کا اجماع مراد ہے، اسی طرح ہر زمانہ کے نیک علماء و ائمہ کرام کا اجماع بھی دلیل ہوگا، اور چونکہ مراد زمانہ کے علماء کا اجماع ہے اس لیے اس سے ایک عالم کی تقلید شخصی ہرگز مراد نہیں ہوسکتی، جیسا کہ بعض مقلدین نے اس سے تقلید شخصی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٣٩٩) (صحیح الإسناد )
5400Sunan An Nasai

علماء جس امر پر اتفاق کریں اس کے مطابق حکم کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا حِينٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، وَلَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَخَافُ، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ اس وقت نہ ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے اہل تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وہ مقام مقدر کردیا جہاں تم ہمیں دیکھ رہے ہو، لہٰذا جس کسی کو آج کے بعد کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ اس کے مطابق کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں ہے، اور اگر اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں کیا تھا، اور اگر کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں، لہٰذا جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اسے لے لو۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "There was a time when we did not pass so many judgments, but now that time is over. Now Allah, the Mighty and Sublime, has decreed that we reach a time when, as you see, (we are asked to pass many judgments). Whoever among you is asked to pass a judgment after this day, let him pass judgment according to what is in the Book of Allah. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, let him pass judgment according to the way His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, and concerning which His Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pass judgment, then let him pass judgment according to the way the righteous passed judgment. And let him not say I am afraid, I am afraid. For that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are not as clear. Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5398
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩١٩٧) (صحیح) (اس کے راوی ” حریث “ مجہول ہیں، لیکن پچھلی سند صحیح لغیرہ ہے )