ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی، قیامت کے روز اسے حکم ہوگا کہ وہ اس میں روح ڈالے اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever makes an image will be commanded on the Day of Resurrection to breathe the soul into it but he will not be able to do so.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5360
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا ۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: Breathe life into that which you have created.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5361
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا ۔
It was narrated from Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: Bring to life that which you have created.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5362
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٤٠ (٢١٠٥)، بدء الخلق ٧ (٣٢٢٤)، النکاح ٧٦ (٥١٨١)، اللباس ٩٢ (٥٩٥٧)، والتوحید ٥٦ (٧٥٥٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥ (٢١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧)، مسند احمد (٦/٧٠، ٨٠، ٢٢٣، ٢٤٦) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
It was narrated that Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to match the creation of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5363
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Among the people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be the image-makers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5364
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: اندر آئیے، وہ بولے: میں کیسے اندر آؤں؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "Jibril, peace be upon him, asked permission to enter upon the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Come in. He said: How can I come in when there is a curtain in your house on which there are images? You should either cut off their heads or make it into a rug to be stepped on, for we Angels do not enter a house in which there are images.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5365
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری اوڑھنے کی چادر میں نماز نہیں پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would not pray in our blankets.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5366
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا آپ احتیاط کے طور پر کرتے تھے، کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جو آپ کے لیے باعث تکلیف ہو، بہرحال اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ آپ کے اہل خانہ لحاف استعمال کرتے تھے۔
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If the strap of the sandal of one of you breaks, let him not walk in one sandal until he fixes it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5369
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کرنے سے آپ نے اس لیے منع کیا تاکہ ایک پاؤں اونچا اور دوسرا نیچا نہ رہے کیونکہ ایسی صورت میں پھسلنے کا خطرہ ہے، ساتھ ہی دوسروں کی نگاہ میں برا بھی ہے۔
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو دیکھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: عراق والو! تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ گھڑتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے ۔
It was narrated that Abu Razin said: "I saw Abu Hurairah clap his hand to his forehead and say: O people of Al-Iraq, you claim that I tell lies about the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). I bear witness that I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If the strap of the sandal of one of you breaks, let him not walk in the other until he fixes it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5370
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آگیا، ام سلیم ؓ اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں، نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ام سلیم! یہ تم کیا کر رہی ہو؟ وہ بولیں: میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ ہنسنے لگے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) lay down on a leather mat and sweated. Umm Sulaim got up and collected his sweat and put it in a bottle. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw her and said: "What are you doing O Umm Sulaim?" She said: "I am putting your sweat in my perfume." And the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) smiled.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5371
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نبی اکرم ﷺ کے پسینے کے ساتھ خاص تھا، چناچہ سلف میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کسی کا پسینہ محفوظ رکھا ہو۔
ابو وائل سے روایت ہے کہ سمرہ بن سہم جو ابو وائل کے قبیلے کے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ابوہاشم بن عتبہ ؓ کے یہاں ٹھہرا، وہ طاعون میں مبتلا تھے، چناچہ ان کی عیادت کے لیے معاویہ ؓ آئے، تو ابوہاشم رونے لگے، معاویہ ؓ نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا کسی تکلیف کی وجہ سے رو رہے ہو یا دنیا کے لیے؟ دنیا کی راحت تو اب گئی، انہوں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، دراصل مجھے رسول اللہ ﷺ کا ایک عہد یاد آگیا جو آپ نے مجھ سے لیا تھا، میں چاہتا تھا کہ میں اس کی پیروی کروں، آپ نے فرمایا: تیرے سامنے ایسے اموال آئیں گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے، لیکن تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا پھر اسے جمع کیا ۔
It was narrated that Samurah bin Sahm said: "I came to Abu Hashim bin Utbah when he was suffering the plague, and Muawiyah came to visit him. Abu Hashim wept. Muawiyah said to him: Why are you weeping? Is it because of some pain that is hurting you, or is it for this world, the best of which has gone? He said: Neither, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave me some advice, which I wish that I had followed. He said: "Perhaps you will live to see wealth that will be distributed among the people when all that would suffice you of that would be a servant and a mount to ride in the cause of Allah." I lived to see that, and I accumulated (wealth).
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5372
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ١٩ (٢٣٢٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١ (٤١٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٨)، مسند احمد (٣/٤٤٣، ٤٤٤، ٥/٢٩٠) (حسن )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔
It was narrated that Anas said: "The metallic end of the scabbard of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was of silver, the pommel of his sword was silver, and in between were rings of silver.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5374
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کہو: اللہم سددني واهدني اے اللہ مجھے درست رکھ اور ہدایت عطا کر اور آپ نے مجھے میاثر پر بیٹھنے سے منع فرمایا، میاثر ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے، جسے عورتیں اپنے شوہروں کے لیے پالان پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں۔ جیسے گلابی رنگ کی چھوردار چادریں۔
It was narrated that Ali said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: "Say: O Allah, make me steadfast and guide me." And he forbade me to sit on Al-Mayathir." Al-Mayathir: Qassi which the women used to put on the saddles for their husbands, such as red cushions.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5376
ابورفاعہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے، پھر ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے، رسول اللہ ﷺ اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا تھا، پھر آپ لوٹ کر آئے اور اپنا خطبہ مکمل کیا۔
It was narrated that Humaid bin Hilal said: "Abu Rifaah said: I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was delivering a Khutbah, and said: "O Messenger of Allah, a stranger has come to ask about his religion, for he does not know what his religion is." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stopped delivering his Khutbah and turned to me. A chair was brought, and I think its legs were of iron. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sat down on it and started to teach me what Allah has taught him, then he went and completed his Khutbah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5377
ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بطحاء میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ایک لال خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے، اتنے میں آپ کے پاس بلال ؓ آئے اور انہوں نے اذان دینی شروع کی، تو اپنا منہ ادھر ادھر کرنے لگے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Juhaifah said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Al-Batha and he was in a red tent, and some people were with him, and he was about to set out. Bilal came and called the Adhan, turning this way and that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5378
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے وقت اپنا رخ دائیں اور بائیں کرنے لگے۔