زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 48 · 339 hadiths · Page 16 of 17

5342Sunan An Nasai

تمام جسم پر کپڑا لپیٹنے سے متعلق اس طریقہ سے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں ممنوع ہے۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5340
Notes · وضاحت
١ ؎: اشتمال صماء اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء: یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا، اور فقہاء کے نزدیک اشتمال صماء یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ احتباء یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٧)، اللباس ٢١ (٥٨٢٢)، (تحفة الأشراف: ٤١٤٠)، مسند احمد (٣/٦، ١٣، ٤٦) (صحیح )
5343Sunan An Nasai

تمام جسم پر کپڑا لپیٹنے سے متعلق اس طریقہ سے کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں ممنوع ہے۔

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کپڑا پورے بدن پر لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں آدمی کے احتباء کرنے سے کہ شرمگاہ کھلی ہوئی ہو، منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5341
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥١٦ (صحیح )
5344Sunan An Nasai

ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت سے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Jabir that: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ishtimal As-Samma and wrapping oneself in a single garment (that did not cover the private parts).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5342
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٠، ٢١(٢٠٩٩)، سنن الترمذی/الٔڑدب ٢٠ سنن ابی داود/الٔتدب ٣٦ (٤٨٦٥)، (الاستئذان ٥٤) (٢٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٥)، مسند احمد (٣/٣٤٩) (صحیح )
5345Sunan An Nasai

سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً حَرْقَانِيَّةً.

عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔

It was narrated from Jafar bin Amr bin Huraith that his father said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a black turban.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5343
Notes · وضاحت
١ ؎: حرقانیہ لفظ حرق (جلنا) سے ہے، یعنی: جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ سرمئی ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ سوداء ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے سوداء ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب ( ١٠٩ ) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں حرقانی ۃ ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩)، سنن ابی داود/اللباس ٢٤ (٤٠٧٧)، سنن الترمذی/الشمائل ١٦(١٠٨)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٢ (٢٨٢١)، اللباس ١٤ (٣٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٦)، مسند احمد (٤/٣٠٧) (صحیح )
5346Sunan An Nasai

سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated from Jabir that: On the Day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered (the city) wearing a black turban, and he was not in Ihram.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5344
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٧٢ (صحیح )
5347Sunan An Nasai

سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن (مکہ میں) داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated that Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered (Makkah) on the Day of the Conquest wearing a black turban.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5345
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨)، سنن الترمذی/الجہاد ٩ (١٦٧٩)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٠)، مسند احمد (٣/٣٨٧) (صحیح )
5348Sunan An Nasai

دونوں کندھوں کے درمیان (عمامہ کا) شملہ لٹکانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ السَّاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ.

عمرو بن امیہ ؓ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے ہیں، اس کا کنارہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان (پیچھے) لٹکا رکھا ہے۔

It was narrated from Jafar bin Amr bin Umayyah that his father said: "It is as if I am looking now at the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Minbar, wearing a black turban, the end of which he has let hang down between his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5346
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٣٤٥ (صحیح )
5349Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ.

ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ۔

It was narrated from Abu Talhah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The angels do not enter a house in which there is a dog or an image.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5347
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٢٨٧ (صحیح )
5350Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ.

ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ ایسے گھر میں جس میں مورتیاں (مجسمے) ۔

It was narrated that Abu Talhah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The angels do not enter a house in which there is a dog or an image of an animate being.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5348
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٢٨٧ (صحیح )
5351Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَأَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزَعُ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُسَهْلٌ: لِمَ تَنْزِعُ، قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، قَالَ: أَلَمْ يَقُلْ: إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي.

عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری ؓ کے پاس عیادت کے لیے گئے، ان کے پاس انہیں سہل بن حنیف مل گئے۔ تو ابوطلحہ ؓ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ان کے نیچے سے بچھونا نکالے۔ ان سے سہل نے کہا: اسے کیوں نکال رہے ہیں؟ وہ بولے؟ اس لیے کہ اس میں تصویریں (مجسمے) ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان ہے جو تمہارے علم میں ہے، وہ بولے: کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا: اگر کپڑے میں نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں ، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن مجھے یہی بھلا معلوم ہوتا ہے (کہ میں نقش والی چادر بھی نہ رکھوں) ١ ؎۔

It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah that: He entered upon Abu Talhah Al-Ansari to visit him (when he was sick), and he found Sahl bin Hunaif there. Abu Talhah told someone to remove a blanket from beneath him, and Sahl said to him: "Why do you want to remove it?" He said: "Because there are images on it, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said what you know concerning them." He said: "Did he not say: Except for patterns on fabrics?" He said: "Yes, but this makes me feel more comfortable.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5349
Notes · وضاحت
١ ؎: تصویر کے سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ ذی روح (جاندار) کی تصویر حرام ہے، خواہ یہ تصاویر جسمانی ہیئت (مجسموں کی شکل) میں ہوں یا نقش و نگار کی صورت میں، إلا یہ کہ ان کے اجزاء متفرق ہوں، البتہ گڑیوں کی شکل کو علماء نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ١٨ (١٧٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٢) (صحیح )
5352Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ. قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ، فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّورَةِ يَوْمَ الْأَوَّلِ ؟ قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.

ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو ، بسر کہتے ہیں: پھر زید بیمار پڑگئے تو ہم نے ان کی عیادت کی، اچانک دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے جس میں تصویر ہے، میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کے بارے میں پہلے روز حدیث نہیں سنائی تھی؟ کہا: عبیداللہ نے کہا: کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا: کپڑے کے نقش کے سوا۔

It was narrated from Abu Talhah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The angels do not enter any house in which there is an image." Busr said: "Then Zaid fell sick and we went to visit him, and on his door there was a curtain on which there was an image. I said to Ubaidullah Al-Khawlani: Didnt Zaid tell us about images yesterday? Ubaidullah said: Didnt you hear him say: Except for patterns on fabrics?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5350
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٦)، اللباس ٩٢ (٥٩٥٨)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٣)، (تحفة الأشراف: ٣٧٧٥)، مسند احمد (٤/٢٨) (صحیح )
5353Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا، فَدَعَوْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ، فَدَخَلَ فَرَأَى سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَخَرَجَ، وَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم ﷺ کو مدعو کیا، چناچہ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے تو ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ١ ؎، تو آپ باہر نکل گئے اور فرمایا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں ۔

It was narrated that Ali said: "I made some food and invited the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (to come and eat). He came and entered, then he saw a curtain on which there were images, so he went out and said: The Angels do not enter a house in which there are images.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5351
Notes · وضاحت
١ ؎: جو جاندار کی تھیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الٔقطعمة ٥٦ (٣٣٥٩)، اللباس ٤٤ (٣٦٥٠) (تحفة الأشراف: ١٠١١٧) (صحیح )
5354Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرْجَةً ثُمَّ دَخَلَ، وَقَدْ عَلَّقْتُ قِرَامًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهُ، قَالَ: انْزِعِيهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ باہر نکلے پھر اندر چلے گئے، میں نے وہاں ایک باریک رنگین کپڑا لٹکا رکھا تھا جس میں پر دار گھوڑے بنے ہوئے تھے، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: اسے نکال دو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out, then he came in, and I had hung up a curtain on which there were (images of) horses with wings. When he saw it, he said: Get rid of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5352
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٢٢٩)، مسند احمد (٦/٢٢٩) (صحیح )
5355Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَيْرٍ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ إِذَا دَخَلَ الدَّاخِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ، حَوِّلِيهِ فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا، قَالَتْ: وَكَانَ لَنَا قَطِيفَةٌ لَهَا عَلَمٌ، فَكُنَّا نَلْبَسُهَا فَلَمْ نَقْطَعْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر چڑیا کی شکل بنی ہوئی تھی جب کوئی آنے والا آتا تو وہ ٹھیک سامنے پڑتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! اسے بدل دو، اس لیے کہ جب میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آتی ہے ، ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں نقش و نگار تھے، ہم اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ لیکن اسے ہم نے کاٹا نہیں ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "We had a curtain on which there were images of birds, at the entrance to the house. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Aishah, remove it, for ever time I come in and see it, I remember this world." She said: "We had a plush wrap, with a border on it, that we would wear, and it was not cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5353
Notes · وضاحت
١ ؎: بقول امام نووی: یہ تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، اس لیے آپ نے حرمت کی بجائے ذکرِ دنیا کا حوالہ دیا اور ہٹوا دیا، یا یہ غیر جاندار کے نقش و نگار تھے جنہیں دنیاوی اسراف و تبذیر کی علامت ہونے کے سبب آپ نے ہٹوا دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٦(٢١٠٧)، سنن الترمذی/صفة القیامة ٣ (٢٤٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠١)، مسند احمد (٦/٤٩٤٩، ٥٣، ٢٤١) (صحیح )
5356Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِيُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَخِّرِيهِ عَنِّي، فَنَزَعْتُهُ، فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ١ ؎، چناچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا، اور رسول اللہ ﷺ اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر آپ نے فرمایا: عائشہ! اسے ہٹا دو ، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "In my house there was a cloth on which were images, which I put in a niche of the house, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray facing it. Then he said: O Aishah, take it away from me. So I took it down and made it into pillows.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5354
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بھی تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، یا یہ بھی غیر جاندار چیزوں کے نقش و نگار تھے، لیکن دیواروں یا روشن دانوں پر پردہ اسراف وتبذیر ہے جس کی وجہ سے آپ نے ہٹوا کر بچھونے بنوا دیئے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٦٢ (صحیح )
5357Sunan An Nasai

تصاویر کے بیان سے متعلق

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ، فَقَطَعَتْهُ وِسَادَتَيْنِ. قَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ، يُقَالُ لَهُ: رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ: أَنَا سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَاسِمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ اندر آئے تو اسے نکال دیا، چناچہ میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے۔ اس وقت مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطا کہا جاتا ہے: نے کہا میں نے ابو محمد، یعنی قاسم کو، عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ بولیں: رسول اللہ ﷺ ان پر ٹیک لگاتے تھے۔

It was narrated from Aishah (RA) that: She put up a curtain on which there were images, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came in and took it down, so she cut it up (and made) two pillows. A man in the gathering there whose name was Rabiah bin Ata said: "I heard Abu Muhammad - meaning Al-Qasim - narrate that Aishah (RA) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recline on them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5355
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٤، ١٧٤٧٦)، مسند احمد ٦/١٠٣، ٢١٩) (صحیح )
5358Sunan An Nasai

سب سے زیادہ عذاب میں مبتلا لوگ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَنَزَعَهُ وَقَالَ: أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر سے آئے، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں، چناچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا: قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came from a journey, and I had hung a curtain on which there were images over a niche. He took it down and said: The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to match the creation of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5356
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٩١ (٥٩٥٤)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٨٣)، مسند احمد (٦/٣٦، ٨٣، ٨٥، ٨٦، ١٩٩، ٢١٩) (صحیح )
5359Sunan An Nasai

سب سے زیادہ عذاب میں مبتلا لوگ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ، عَنْعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ، ثُمَّ هَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصاویر تھیں، چناچہ جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا اور فرمایا: قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں ۔

It was narrated that Aishah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon me, and I had put up a curtain on which there were images. When he saw it, his face changed color, then he tore it down with his hand and said: The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to imitate the creation of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5357
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔكدب ٧٥ (٦١٠٩)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧)، (تحفة الٔاشراف: ١٧٥٥١)، مسند احمد (٦/٣٦، ٨٥، ٨٦، ١٩٩) (صحیح )
5360Sunan An Nasai

تصویر سازی کرنے والوں کو قیامت کے دن کس طرح کا عذاب ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَمَا تَقُولُ فِيهَا ؟ فَقَالَ: ادْنُهْ، ادْنُهْ، سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخِهِ.

نضر بن انس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک شخص آیا اور بولا: میں یہ تصویریں بناتا ہوں، آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: قریب آؤ۔ میں نے محمد ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے دنیا میں کوئی صورت بنائی قیامت کے روز اسے حکم ہوگا کہ اس میں روح پھونکے، حالانکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔

It was narrated that An-Nadr bin Anas said: "I was sitting with Ibn Abbas when a man from among the people of Al-Iraq came to him and said: I make these images; what do you say concerning them? He said: Come closer, come closer. I heard Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever makes an image in this world will be commanded on the Day of Resurrection to breathe a soul into it, and he will not be able to do so.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5358
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٠٤ (٢٢٢٥ تعلیقًا)، اللباس ٩٧ (٥٩٦٣)، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١١٠)، (تحفة الأشراف: ٦٥٣٦)، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٤١، ٣٥٠، ٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
5361Sunan An Nasai

تصویر سازی کرنے والوں کو قیامت کے دن کس طرح کا عذاب ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی، تو اسے عذاب ہوگا یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈال دے، اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever makes an image will be punished until (he is commanded) to breathe a soul into it, and he will not be able to do so.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5359
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التعبیر ٤٥ (٧٠٤٢)، سنن ابی داود/الٔسدب ٩٦ (٥٠٢٤)، سنن الترمذی/اللباس ١٩ (١٧٥١)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ٨ (٣٩١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٦)، مسند احمد (١/٢١٦، ٣٥٩) (صحیح )