خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ١ ؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے؟۔
It was narrated that Khabbab bin Al-Aratt said: "We complained to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was reclining on his rolled-up Burdah in the shade of the Kabah. We said: Will you not pray for victory for us, will you not pray to Allah for us?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5320
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی، جانتے ہو وہ کیسی چادر تھی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی شملہ، اس کی گوٹا کناری بنی ہوئی تھی، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے یہ اپنے ہاتھ سے بنی ہے تاکہ آپ کو پہناؤں، رسول اللہ ﷺ نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ باہر نکلے اور ہمارے پاس آئے اور آپ اسی کا تہبند باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that Sahl bin Sad said: "A woman brought a Burdah" - Sahl said: "Do you know what a Burdah is?" They said: "Yes, it is a cloak with two woven borders" - and she said: O Messenger of Allah, I wove this with my own hands for you to wear. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took it as he had need of it, then he came out to us and he was wearing it as his Izar (lower garment).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5321
سمرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کفن دیا کرو ۔ (عمرو بن علی کہتے ہیں کہ) یحییٰ نے کہا: میں نے اس روایت کو نہیں لکھا، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: میمون بن ابی شبیب کی وہ روایت جو سمرہ ؓ سے ہے وہی میرے لیے کافی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Samurah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Wear white garments, for they are purer and better, and shroud your dead in them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5322
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سفید کپڑوں کو پہنو، زندہ اسے پہنیں اور مردوں کو اسی کا کفن دو کیونکہ یہی کپڑوں میں سب سے عمدہ کپڑا ہے ۔
It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You should wear white garments; dress your living ones in them, and shroud your dead in them, for they are among the best of your garments.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5323
مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ق بائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ ؓ نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو، چناچہ میں ان کے ساتھ گیا، انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور آپ کو میرے لیے بلا لاؤ، چناچہ میں نے آپ کو بلا لایا، آپ نکل کر آئے تو آپ انہیں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: اسے میں نے تمہارے ہی لیے چھپا رکھی تھی ، مخرمہ نے اسے دیکھا اور پہن لی۔
It was narrated that Miswar bin Makhramah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) distributed some Qabas but he did not give anything to Makhramah. Makhramah said: O my son, let us go to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). So I went with him and he said: Go in and call him for me. So I called him, and he came out wearing one of the Qabas. He said: I kept this for you. And he looked at him, and Makhramah put it on.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5324
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفات میں نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جسے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے چپل نہ ملے وہ خف (چمڑے کے موزے) پہن لے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that: He heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say in Arafat: "Whoever cannot find an Izar (waist wrapper), let him wear trousers, and whoever cannot find sandals, let him wear Khuffs (leather socks).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5325
Notes · وضاحت
١ ؎: جب احرام کی حالت میں پاجامہ پہن سکتے ہیں تو احرام کے علاوہ حالت میں بدرجہ اولیٰ پہن سکتے ہیں یہی باب سے مناسبت ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص تکبر (گھمنڈ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا، ) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، چناچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "While a man was dragging his Izar out of pride, the earth swallowed him up, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5326
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آجاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور تکبر سے کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ خیلاء نہیں ہے، ازار میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣٣١ - ٥٣٣٧۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5327
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے (ٹخنے سے نیچے) اپنا کپڑا تکبر سے لٹکایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
It was narrated that Muharib said: "I heard Ibn Umar narrating that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of vanity, Allah, the Mighty and Sublime, will not look at him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5328
حذیفہ بن الیمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تہبند آدھی پنڈلی تک جہاں گوشت ہوتا ہے ہونا چاہیئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کچھ نیچے، اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو پنڈلی کے اخیر تک، اور ٹخنوں کا تہبند میں کوئی حق نہیں ۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Izar should come to the middle of the shins and the calf. If you insist, then a little lower, and if you insist, then a little further down, but the Izar has no right to (come to) the ankle." This is the wordings of Muhammad.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5329
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٤١ (١٧٨٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٧ (٣٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٣٨٣)، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکاتا ہے ۔
It was narrated that Ashath said: "I heard Saeed bin Jubair narrate from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah will not look at the Musbil (the one who lets his Izar come below the ankles).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5332
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا، نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا، (ٹخنے سے نیچے) تہبند لٹکانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are three to whom Allah (the Mighty and Sublime) will not speak on the Day of Resurrection, nor will He sanctify them, and theirs will be a painful torment: The one who reminds others of what he has given them (Al-Mannan), the one who lets his Izar come below his ankles, and the one who sells his product by means of false oaths.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5333
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تہبند، قمیص اور پگڑی میں کسی کو بھی کوئی تکبر (گھمنڈ) سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Al-Isbal may apply to the Izar, the Qamis and the turban. Whoever drags any one of these out of vanity, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5334
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبر اور گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں ہے، نیز تہبند، قمیص اور عمامہ (پگڑی) میں تکبر اور گھمنڈ کے قبیل سے جو زائد حصہ لگ رہا ہے وہ اسراف سے خالی نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنا کپڑا تکبر (گھمنڈ) سے گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر (گھمنڈ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ۔
It was narrated from Salim, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection." Abu Bakr said: "O Messenger of Allah, one side of my Izar slips unless I pay attention to it." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "You are not one of those who do that out of pride.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5335
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drags his garment out of pride, Allah will not look at him. Umm Salamah said: O Messenger of Allah, what should women do with their hems? He said: Let it down a hand span. She said: But then their feet will show. He said: Let it down a forearms length, but no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5336
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائیں ١ ؎، ام سلمہ ؓ بولیں: تب تو کھلا رہے گا؟ آپ نے فرمایا: تب ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔
It was narrated from Umm Salamah that: She mentioned womens hems to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Let it down a hand span." Umm Salamah said: "But that will uncover (her feet)." He said: "Let it down a forearms length, but no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5337
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہوجائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہوسکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ ؓ نے کہا: پھر عورتیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے! آپ نے فرمایا: پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔
It was narrated from Umm Salamah that: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said what he said about the Izar, Umm Salamah said: "What about women?" He said: "Let it down a hand span." She said: "But then their feet will show." He said: "Then (let it down) a forearms length, but no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5338
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: عورت اپنا دامن کس قدر لٹکائے؟ آپ نے فرمایا: ایک بالشت ، وہ بولیں: تب تو کھلا رہ جائے گا! آپ نے فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked how much a woman should let her hem drag. He said: A hand span. She said: But then it will uncover her (feet). He said: A forearms length, and no more than that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5339