Sunan An Nasai 5328

زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

5328Sunan An Nasai

بہت زیادہ تہہ بند لٹکانے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنِ الْخُيَلَاءِ خَسَفَ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص تکبر (گھمنڈ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا، ) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، چناچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "While a man was dragging his Izar out of pride, the earth swallowed him up, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5326
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آجاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور تکبر سے کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ خیلاء نہیں ہے، ازار میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ٥٣٣١ - ٥٣٣٧۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔنبیاء ٥٤ (٣٤٨٥)، اللباس ٥ (٥٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ٦٩٩٨)، مسند احمد (٢/٦٦) (صحیح )