عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that one of the wives of the Prophet ﷺ performed Ghusl from Janabah, and the Prophet ﷺ performed Wudu with her leftover water. She mentioned that to him and he said: “Water is not made impure by anything.” (Da`if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 325
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو پانی جنبی یا محدث کے استعمال سے بچ جائے، وہ استعمال کرنے والے کی جنابت یا حدث کی وجہ سے نجس نہیں ہوتا۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں سے وضو کریں؟ اور حال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “It was said: ‘Messenger of Allah ﷺ , you perform Wudu from the well of Buda’ah when it is a well into which the bodies of dogs, menstrual rags and garbage are thrown?’ He said: ‘Water is pure and it is not made impure by anything.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 326
Notes · وضاحت
١ ؎: بئر بضاعہ مدینہ کے ایک کنویں کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی اس کنویں کے نشیب میں واقع ہونے اور منڈیر نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب اور ہوائیں ان چیزوں کو بہا اور اڑا کر کنویں میں ڈال دیتی تھیں۔ ٣ ؎: الماء طہور میں الف لام عہد کا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سائل کے ذہن میں جس کنویں کا پانی ہے وہ نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوگا، کیونکہ اس کنویں کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی، اور اس میں ناف سے اوپر پانی رہتا تھا، اور جب کم ہوتا تو ناف سے نیچے ہوجاتا جیسا کہ امام ابوداؤد (رح) نے اپنی سنن میں اس کا ذکر کیا ہے، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ جب پانی کی مقدار زیادہ ہو تو محض نجاست کا گر جانا اسے ناپاک نہیں کرتا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطلق پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٣٤ (٦٦، ٦٧)، سنن الترمذی/فیہ ٤٩ (٦٦)، (تحفة الأشراف ٤١٤٤)، مسند احمد ٣/١٦، ٣١، ٨٦ (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبیداللہ “ مجہول الحال ہیں) قال إبن حجر: ” مستور “ من الرابعة ۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس سے وضو کر رہے ہیں حالانکہ اس میں تو ایسی بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں جو ناگوار ہوتی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
It was narrated from Ibn Abu Saeed Al-Khudri that his father said: “I passed by the Prophet ﷺ when he was performing Wudu’ from the well of Buda’ah. I said: ‘Are you performing Wudu’ from it when garbage is thrown into it?’ He said: ‘Water is not made impure by anything.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 327
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یہ اس وقت ہے جب پانی دو قلہ کی مقدار کو پہنچ گیا ہو، اور جب تک وہ اس کے رنگ، بو اور مزہ میں سے کسی وصف کو بدل نہ دے، اگر دو قلہ سے کم ہو تو نجاست پڑنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا، اسی طرح اگر رنگ مزہ اور بو کو نجاست نے بدل دیا، تو گویا وہ پانی نہیں رہا، اور جب پانی نہیں رہا تو اس میں پاک ہونے اور پاک کرنے کی صفت باقی نہیں رہی کیونکہ یہ صفت پانی ہی کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ٤١٢٥)، مسند احمد ٣/ ١٥ (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” خالد “ ١ ؎ اور ” سلیط “ ٢ ؎ وضاحت ١ ؎: قال إبن حجر: ” مقبول “ من السادسة ٢ ؎: قال إبن حجر: ” مقبول “ من السادسة
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ١ ؎ ہو تو وہ گندگی کو دفع کردیتا ہے ٢ ؎۔
It was narrated from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Umar that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ was asked about water and how some animals and carnivorous beasts might drink from it. He said: ‘If the water is more than two Qullahs, it will not become filthy.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 328
Notes · وضاحت
١ ؎: قلہ کے معنی بڑے گھڑے کے ہیں، اس کی جمع قلال آتی ہے یہاں قلہ ھجر مراد ہے جس میں دو مشکیزہ یا کچھ زیادہ پانی آتا ہے، اس طرح دو قلہ پانچ مشکیزہ پانی ہوگا جو پانچ سو بغدادی رطل کے برابر ہوتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی نجاست پڑنے سے نجس نہیں ہوتا کچھ لوگوں نے لم يحمل الخبث کا ترجمہ کیا ہے کہ وہ نجاست کا متحمل نہیں ہوسکتا یعنی نجس ہوجاتا ہے لیکن یہ ترجمہ دو وجہوں سے مردود اور باطل ہے، ایک یہ کہ ابوداؤد کی ایک صحیح روایت میں إذا بلغ الماء قلتين لم ينجس آیا ہے، لہٰذا وہ روایت اسی پر محمول ہوگی اور لم يحمل الخبث کے معنی لم ينجس کے ہوں گے، دوسری یہ کہ قلتین سے نبی اکرم ﷺ نے پانی کی تحدید کی ہے، اور یہ معنی لینے کی صورت میں تحدید باطل ہوجائے گی کیونکہ قلتین سے کم اور قلتین دونوں ایک ہی حکم میں آجائیں گے۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس کی طرف بڑھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ روکو (پیشاب کرلینے دو ) جب وہ پیشاب کرچکا تو آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid, and some of the people went after him, but the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not restrain him.” When he had finished he called for a bucket (of water) and poured over it. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 329
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) ، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، اس لیے کہ تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A Bedouin stood up and urinated in the Masjid, so the people grabbed him. The Messenger of Allah ﷺ said to them: ‘Leave him alone, and pour a bucket of water over his urine. For you have been sent to make things easy for people, you have not been sent to make things difficult.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 330
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں، اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو ہم پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا، اور مردار حلال ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah (RA) said: “A man asked the Prophet ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ , we travel by sea and we take a little water with us, but if we use it for Wudu’, we will go thirsty. Can we perform Wudu with seawater?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Its water is a means of purification and its dead meat is permissible.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 332
Notes · وضاحت
١ ؎: سائل کو سمندر کے پانی کے سلسلہ میں تردد تھا اس میں مرجانے والے جانوروں کے سلسلہ میں بدرجہ اولیٰ تردد رہا ہوگا، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے حکیمانہ اسلوب اختیار کیا تاکہ سائل کا دوسرا شبہ بھی جس کے متعلق اس نے سوال نہیں کیا ہے رفع ہوجائے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح صاف کر دے جس طرح تو سفید کپڑے کو میل سے صاف کردیتا ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to say:wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart of sin as a white garment is cleansed of filth).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 333
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے: اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں کے ذریعہ دھو دے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would say: (Allah, wash away my sins with the water of snow and hail).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 334
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو (جو اس میں ہے) اسے بہا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھو ڈالے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If a dog licks the vessel of any one of you, let him throw (the contents) away and wash it seven times.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 335
عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اور شکاری کتوں کی نیز بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھو لو، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, but he made an exception for hunting dogs and sheepdogs and said: “If a dog licks a vessel then wash it seven times and rub it the eighth time with dust.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 336
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار؟ اور آپ ﷺ نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ، ابوہریرہ ؓ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mughaffal said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed. He said: ‘What do they have to do with dogs?’ And he granted a concession regarding hunting dogs and sheepdogs. And he said: ‘If a dog licks a vessel, wash it seven times, and rub it the eighth time with dust.’ Abu Hurairah (RA) differed from him and said: ‘Rub it one time with dust.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 337
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے ایک روایت میں عفروه الثامنة اور دوسری روایت میں إحداهن بالتراب کے الفاظ آئے ہیں، ان تینوں روایتوں میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ إحداهن والی مبہم روایت أولاهن والی معین روایت پر محمول کی جائے گی، اب سات اور آٹھ کی عدد میں جو اختلاف باقی رہ گیا ہے تو سات کو وجوب، اور آٹھ کو ندب اور احتیاط پر محمول کیا جائے گا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “If a dog licks the vessel of any one of you, let him wash it seven times, the first time with dust.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 338
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “If a dog licks the vessel of any one of you, let him wash it seven times, the first time with dust.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 339
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ ؓ ان کے پاس آئے (پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی (لوٹے میں) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے ۔
It was narrated from Kabshah bint Ka’b bin Malik that Abu Qatadah entered upon her, then she narrated the following: “I poured some water for him for Wudu’, and a cat came and drank from it, so he titled the vessel for it to drink.” Kabshah said: “He saw me looking at him and said: ‘Are you surprised, daughter of my brother?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: ‘They are not impure, rather they are among the males and females (animals) who go around among you.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 340
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت نوچتی تھی، تو رسول اللہ ﷺ اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی تھی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی۔
It was narrated that Aishah (RA) , said: “While I was menstruating, I would nibble meat from a bone and the Messenger of Allah ﷺ would put his mouth where mine had been. And while I was menstruating, I would drink from a vessel and he would put his mouth where mine had been.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 341
حکم بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Al Hakam bin ‘Amr that the Messenger of Allah ﷺ forbade a man from performing Wudu the leftovers of a woman’s (water for) Wudu’. (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 343
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی تحریمی نہیں تنزیہی ہے، (دیکھیں پچھلی حدیث)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٤٠ (٨٢)، سنن الترمذی/فیہ ٤٧ (٦٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٤ (٣٧٣)، (تحفة الأشراف ٣٤٢١)، مسند احمد ٤/٢١٣ و ٥/٦٦ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that she used to perform Ghusl with the Messenger of Allah ﷺ from a single vessel. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 344
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں تعارض ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ نہی والی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے، اور اس حدیث کو بیان جواز پر۔