پاکی کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 1 · 327 hadiths · Page 17 of 17

320Sunan An Nasai

ایک اور دوسری قسم کا تیمم

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ. قَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ. قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: مَا تَقُولُ ؟ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، فَشَكَّ سَلَمَةُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا.

عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر ؓ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہوگیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا (کیا کروں؟ ) تو عمر ؓ نے کہا: (جب تک پانی نہ ملے) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہوگئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم ﷺ نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ (میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک) ۔ عمر ؓ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑگئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ (ذر نے) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔

It was narrated from Ibn ‘Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man came to ‘Umar, may Allah be pleased with him, and said: “I have become Junub and I cannot find any water.” ‘Umar said: “Do not pray.” ‘Ammar said: “Do you not remember, Commander of the Believers, when you and I were on a campaign and became Junub, and we could not find any water. You did not pray, but I rolled in the dust then prayed. When we came to the Messenger of Allah ﷺ I told him about that and he said: ‘This would have been sufficient for you,’ and the Prophet ﷺ struck the earth with his hands then blew on them and wiped his face and hands — (one of the narrators) Salamah was uncertain and said: “I do not know if he said it should be up to the elbows or just the hands.” — ‘Umar said: “We will let you bear the burden of what you took upon yourself.” (One of the narrators) Shu’bah said: “He used to say the hands, face and forearms.” (Another) Mansur said to him: “What are you saying? No one mentions the forearms except you. ”Salamah was not certain and said: “I do not know whether he mentioned the forearms or not.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 319
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٣ (صحیح )
321Sunan An Nasai

جنبی شخص کو تیمم کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَوْ لَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ، لِعُمَرَ ؟ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى كَفَّيْهِ وَوَجْهِهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَ لَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ ؟.

ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ابوموسیٰ نے کہا: ١ ؎ آپ نے عمار ؓ کی بات جو انہوں نے عمر ؓ سے کہی نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی ضرورت سے بھیجا، تو میں جنبی ہوگیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں آپ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اس طرح کرلینا ہی کافی تھا ، اور آپ نے اپنا دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا، پھر انہیں جھاڑا، پھر آپ نے اپنی بائیں (ہتھیلی) سے اپنی داہنی (ہتھیلی) پر اور داہنی ہتھیلی سے اپنی بائیں (ہتھیلی) پر مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرے کا مسح کیا، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمر ؓ عمار ؓ کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟۔

It was narrated that Shaqiq said: “I was sitting with ‘Abdullah and Abu Musa, and Abu Musa said: ‘Have you not heard what ‘Ammar said to ‘Umar (RA) : ‘The Messenger of Allah ﷺ sent me on an errand and I became Junub, and I could not find water, so I rolled in the earth then I came to the Prophet ﷺ and told him about that.’ He said: ‘It would have been sufficient for you to do this,’ and he struck the earth with his hands, then wiped his hands, then knocked them together to remove the dust, then he wiped his right hand with his left and his left hand with his right, palm to palm, and wiped his face.” Then ‘Abdullah said: “Did you not see that ‘Umar was not convinced by what ‘Ammar said?” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 320
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوموسیٰ کا کہنا تھا کہ تیمم کا حکم عام ہے، محدث اور جنبی دونوں کو شامل ہے، اور ابن مسعود ؓ کا کہنا تھا کہ یہ صرف محدث کے لیے خاص ہے اس پر ابوموسیٰ نے بطور اعتراض ان سے یہ بات کہی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٧ (٣٤٦، ٣٤٥)، ٨ (٣٤٧)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٨)، سنن ابی داود/الطھارة ١٢٣ (٣٢١)، مسند احمد ٤/٢٦٤، ٢٦٥، ٣٩٦، (تحفة الأشراف ١٠٣٦٠) (صحیح )
322Sunan An Nasai

مٹی سے تیمم کے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔

It was narrated that Abu Raja’ said: “I heard ‘Imran bin Hussain (say) that the Prophet ﷺ saw a man who was by himself and did not pray with the people. He said: ‘So and so, what kept you from praying with the people?’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ , I have become Junub and there is no water.’ He said: ‘You should use earth for that will suffice you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 321
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٦ (٣٤٤)، ٩ (٣٤٨)، (تحفة الأشراف ١٠٨٧٦)، مسند احمد ٤/ ٣٣٤ (صحیح )
323Sunan An Nasai

ایک ہی تیمم سے متعدد نمازیں ادا کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Clean earth is the Wudu’ of the Muslim, even if he does not find water for ten years.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 322
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٥ (٣٣٢) مطولاً، سنن الترمذی/فیہ ٩٢ (١٢٤) مطولاً، (تحفة الأشراف ١١٩٧١)، مسند احمد ٥/١٥٥، ١٨٠ (صحیح )
324Sunan An Nasai

جو شخص وضو کے لئے پانی اور تیمم کرنے کے لئے مٹی نہ پا سکے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَنَاسًا يَطْلُبُونَ قِلَادَةً كَانَتْ لِعَائِشَةَ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ. قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسید بن حضیر ؓ اور کچھ اور لوگوں کو بھیجا، یہ لوگ ام المؤمنین عائشہ ؓ کا ہار ڈھونڈ رہے تھے جسے وہ اس جگہ بھول گئیں تھیں جہاں وہ (آرام کرنے کے لیے) اتری تھیں، (اسی اثناء میں) نماز کا وقت ہوگیا، اور یہ لوگ نہ تو باوضو تھے اور نہ ہی انہیں (کہیں) پانی ملا، تو انہوں نے بلا وضو نماز پڑھ لی، پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، تو اسید بن حضیر ؓ نے (ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا) اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے بہتری رکھ دی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ sent Usaid bin Hudair and some other people to look for a necklace that Aishah (RA) had left behind in a place where she had stopped (while traveling). The time for prayer came and they did not have Wudu’, and they could not find any water, so they prayed without Wudu’. They mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ , and Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Uudair said: ‘May Allah reward you with good, for by Allah, nothing ever happened to you that you dislike, but Allah makes it good for you and the Muslims.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 323
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٢٣ (٣١٧)، (تحفة الأشراف ١٧٢٠٥) (صحیح )
325Sunan An Nasai

جو شخص وضو کے لئے پانی اور تیمم کرنے کے لئے مٹی نہ پا سکے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتَ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ.

طارق ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہوگیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہوگیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا ۔

It was narrated from Tariq that a man became Junub and did not pray, then he came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He said: “You did the right thing.” Another man became Junub and performed Tayammum and prayed, and he came to him and he said something similar to what he had told the other man — meaning, you did the right thing. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 324
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ٤٩٨٢)، ویاتی عندالمؤلف برقم ٤٣٥ (صحیح )