عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کرلیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب سمع اللہ لمن حمده کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ١ ؎، اور ربنا ولک الحمد کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: I saw the Messenger of Allah ﷺ when he said the opening Takbir of the prayer, raise his hands until they were level with his shoulders. When he said the Takbir before bowing he did likewise, and when he said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), he did likewise, then he said: Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise). But he did not do that when he prostrated or when he raised his head from prostration.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 876
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں کیونکہ اگر رفع یدین کا نہ کرنا کبھی کبھی ثابت بھی ہوجائے تو یہ رفع یدین کے سنت نہ ہونے پر دلیل نہیں، کیونکہ سنت کی شان ہی یہ ہے کہ اسے کبھی کبھی ترک کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوجاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور سمع اللہ لمن حمده کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ, when he stood to pray, raise his hands until they were in level with his shoulders, then he said the takbir. He did that when he said the Takbir before bowing, and he did that when he raised his head from bowing and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him). Bu he did not do that during the prostration".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 877
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے، اور سمع اللہ لمن حمده، ربنا ولک الحمد کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Umar (RA): that when the Messenger of Allah ﷺ started to pray, he would raise his hands in level with his shoulders, and when he bowed and when he raised his head from bowing, he would raise them likewise and say "Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord, to You be praise".And he did not do that when he prostrated.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 878
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورة فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ١ ؎۔
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wail that his father said: "I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ and when he started to pray he said the Takbir and raised his hands until they were in level with his ears. Then he recited the Opening of the Book, and when he had finished he said Amin and raised his voice with it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 879
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایتوں میں یرفع بہا صوتہ کے بجائے یخفض بہا صوتہ ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل ؓ سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٣)، مسند احمد ٤/٣١٨، سنن الدارمی/الصلاة ٣٥ (١٢٧٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٤) (بدون ذکر آمین)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤ (٨٥٥)، (بدون ذکر رفع الیدین)، مسند احمد ٤/٣١٥ (بدون ذکر رفع الیدین)، ٣١٦ (بدون ذکر آمین) ٣١٨ (بتمامہ)، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند: صحیح مسلم/الصلاة ١٥ (٤٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥ (٨٦٧)، مسند احمد ٤/٣١٦، ٣١٧، ٣١٨، ٣١٩ (صحیح )
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے (تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے) ۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith (RA) who was one of the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ﷺ- that: When the Messenger of Allah ﷺ prayed he would raise his hands-when he said the Takbir- until they were parallel to his ears, and when he wanted to bow and when he raised his head from bowing.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 880
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩١)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٨ (٧٤٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥ (٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٤)، مسند احمد ٣/٤٣٦، ٤٣٧، ٥/٥٣، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٢٨٦)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٠٢٥، ١٠٥٧، ١٠٨٦، ١٠٨٧، ١٠٨٨، ١١٤٤ (صحیح )
مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا (تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہوگئے۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ, when he started to pray, raise his hands, and when he bowed, and when he raised his head from bowing, until they were parallel with the top of his ears."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 881
Notes · وضاحت
١ ؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر ؓ دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لیے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہوجاتے۔
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wail, from his father, that: He saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ﷺ, when he started to pray, raise his hands until his thumbs were almost level with his earlobes.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 882
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٩)، مسند احمد ٤/٣١٦ (ضعیف الإسناد) (لیکن شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت صحیح ہے، دیکھئے رقم: ٨٨٠ کی تخریج )
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ١ ؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ٢ ؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔
Saeed bin Saman said Abu Hurairah (RA) came to the Masjid of Banu Zuraiq and said: "There are three things that the Messenger of Allah ﷺ used to do and the people have abandoned; he used to raise his hands extended when praying, and he would fall silent briefly, and say takbir when he prostrated and when he sat up".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 883
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام ؓ ہی کے وقت میں بعض سنتوں پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ٢ ؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، جیسا کہ حدیث رقم ( ٨٩٦ ) میں جو آرہی ہے صراحت ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے (پھر) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے (نماز پڑھنا) سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ١ ؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہوجائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah ﷺ entered the Masjid, then a man entered and prayed, then he came and greeted the Messenger of Allah ﷺ with Salam. The Messenger of Allah ﷺ returned his greeting and said: Go back and pray, for you have not prayed". So he went back and prayed as he has prayed before, then he came to the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)and greeted him with Salam, and the Messenger of Allah ﷺ said to him: "Wa alaika as-salam (and upon you be peace). Go back and pray for you have not prayed". He did that three times, then the man said: "By the One Who sent you with the truth, I cannot do any better than that; teach me". He said: "When you stand to pray, say the Takbir, then recite whatever is easy for you of Quran. Then bow until you have tranquility in your bowing, then stand up until you are standing straight. Then prostrate until you have tranquility in your prostration, then sit up until you have tranquility in your sitting. Then do that throughout your entire prayer".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 884
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مؤلف نے تکبیر تحریمہ کی فرضیت پر استدلال کی۔ ٢ ؎: اس سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: اللہ أكبر کبيرا والحمد لله كثيرا و سبحان اللہ بكرة وأصيلا اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا ٢ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that: A man stood behind the Prophet of Allah ﷺ and said: "Allahu Akbaru kabira wal-hamdu Lillahi kathira, wa subhan-Allahi bukratan was asila (Allah is Most Great and much praise be to Allah and glorified be Allah at the beginning and end of the day)". The Prophet (صلی اللہ علیProphet of وآلہ وسلم) said: "Who spoke these words"? A man said: "I did, O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) of Allah (صلیProphet of "Twelve angels rushed (to take them up)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 885
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر ایک چاہتا تھا کہ اسے اللہ کے حضور لے جانے کا شرف اسے حاصل ہو۔ ٢ ؎: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان صحیح احادیث میں متعدد اذکار اور ادعیہ کا ذکر آیا ہے، ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جاسکتی ہے، اور بعض لوگوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ سبحانک اللہم کے علاوہ باقی دیگر دعائیں نماز تہجد، اور دیگر نفل نمازوں کے لیے ہیں تو یہ مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں میں سے ایک شخص نے: اللہ أكبر کبيرا والحمد لله كثيرا و سبحان اللہ بكرة وأصيلا اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں کہا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: مجھے اس کلمہ پر حیرت ہوئی ، اور آپ نے ایک ایسی بات ذکر کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "While we were praying with the Messenger of Allah ﷺ, a man among the people said: Allahu Akbaru kabira, wal-hamdu Lillahi kathira, wa subhan-Allahi bukratan was asila (Allah is Most Great and much praise be to Allah and glorified be Allah at the beginning and end of the day). The Messenger of Allah ﷺ said: Who is the one who said such and such? A man among the people said: I did, O Messenger of Allah. He said: I like it, and he said words to the effect that the gates of the Heavens had been opened for it". Ibn Umar said: "I never stopped saying it since I heard the Messenger of Allah ﷺ say that".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 886
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ پکڑتے۔
It was narrated that Musa bin Umair Al-Anbari and Qais bin Sulaim Al-Anbari said: "Alqamah bin Wail told us that his father said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ, when he was standing in prayer, holding his left hand with his right".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 887
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٧٧٨)، مسند احمد ٤/٣١٦، ٣١٨ (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
It was narrated that Al Hajjaj bin Abi Zainab said: "I heard Abu Uthman narrate that Ibn Masud (RA) said: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)saw me when I had placed my left hand on my right in prayer. He took hold of my right hand and placed it on my left".
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 888
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢٠ (٧٥٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٣ (٨١١)، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٨)، مسند احمد ١/٣٤٧ (حسن )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ ﷺ نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چناچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی (کی پشت) ، کلائی اور بازو پر رکھا ١ ؎، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا، پھر آپ نے قعدہ کیا، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ٢ ؎ کرلیا، اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ (دائرہ) بنا لیا، پھر آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے۔
Wail bin Hujr (RA) said: "I said: I am going to watch how the Messenger of Allah ﷺ prays. So I watched him and he stood and said the takbir, and raised his hands until they were in the level with his ears, then he placed his right hand over his left hand, wrist and lower forearm. When he wanted to bow he raised his hands likewise. Then he prostrated and placed his hands in level with his ears. Then he sat up and placed his left leg under him; he put his left hand on his left thigh and knee, and he put the edge of his right elbow on his right thigh, then he held two of his fingers together and made a circle, and raised his forefinger, and I saw him moving it and supplicating with it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 889
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا مسنون ہے، اور حدیث رقم ( ٨٨٨ ) میں داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کے پکڑنے کا ذکر ہے یہ دونوں طریقے مسنون ہیں، بعض لوگوں نے جو یہ صورت ذکر کی ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے، اور اپنے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کی کلائی پکڑے تو یہ بدعت ہے، اس کا ثبوت نہیں، رہا یہ سوال کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھ کہاں رکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے اپنے سینے پر رکھے، کیونکہ ہاتھوں کا سینے پر ہی رکھنا ثابت ہے، اس کے خلاف جو بھی روایت ہے یا تو وہ ضعیف ہے یا تو پھر اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ ٢ ؎: یعنی خنصر اور بنصر کو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)forbade praying with ones hands on ones waist.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 890
Notes · وضاحت
١ ؎ نماز بارگاہ الٰہی میں عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے، اس کے برخلاف کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے تکبر کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو اسی طرح چلتا ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث إسحاق بن إبراہیم تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٥١٦)، وحدیث سوید بن نصر أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ١١ (٥٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة ١٧ (١٢٢٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٦ (٩٤٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٥ (٣٨٣)، مسند احمد ٢/٢٣٢، ٢٩٠، ٢٩٥، ٣٣١، ٣٩٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٨ (١٤٦٨) (صحیح )
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر ؓ ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روکا ہے۔
It was narrated that Ziyad bin Subaih said: "I prayed beside Ibn Umar (RA) and put my hand on my waist, and he did this to me-knocked it with his hand. When I had finished praying I said to a man: Who is this? He said: "Abdullah bin Umar (RA). I said: O Abu Abdur-Rahman (RA), why are you angry with me? He said: This is the posture of crucifixion, and the Mesenger of Allah ﷺ forbade us to do this".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 891
ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سنت کی مخالفت کی ہے، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Ubaidah (RA) that: Abdullah saw a man who was praying with his feet together. He said: He is going against the Sunnah; if he shifted his weight from one to the other that would be better".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 892
Notes · وضاحت
١ ؎: سنداً اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، مگر بات یہی صحیح ہے کہ نمازی اپنے دونوں قدموں کو آپس میں ملائے نہیں، کیونکہ اس کو جماعت میں اپنے بغل کے نمازی کے قدم سے قدم ملانا ہے، اگر منفرد ہے تب بھی اپنے قدموں کو آپس میں ملانے سے اس کو پریشانی ہوگی، الگ الگ رکھنے میں راحت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٦٣١) (ضعیف الإسناد) (ابو عبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہونے کی وجہ سے سنداً یہ روایت ضعیف ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔
It was narrated from Abdullah that: He saw a man praying with his feet together. He said: "He is not following the Sunnah. If he were to shift his weight from one to the other I would like that better".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 893
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (سند میں ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود ؓ کے مابین انقطاع ہے) ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے، تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں کہتا ہوں: اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد اے اللہ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے، اے اللہ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ started to pray he would pause briefly. I said: May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah ﷺ, what do you say when you pause briefly between the takbir and reciation? He said: I say: Allahuma baid bayni wa bayna khatayaya kama baadta bayna al-mashriqi wal-maghrib; Allahumma naqqini min khatayaya kama yunaqqa ath-thawb al-abyad min ad-danas; Allahumma ighsilni min khatayaya bil maI wa ath-thalji wal-barad. (O Allah, put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the East and the West; O Allah, cleanse me of my sins as a white garment is cleansed from filth; O Allah, wash away my sins with water and snow and hail)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 895