Sunan An Nasai 880

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

880Sunan An Nasai

کان تک ہاتھ اٹھانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: آمِينَ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورة فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ١ ؎۔

It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wail that his father said: "I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ and when he started to pray he said the Takbir and raised his hands until they were in level with his ears. Then he recited the Opening of the Book, and when he had finished he said Amin and raised his voice with it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 879
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایتوں میں یرفع بہا صوتہ کے بجائے یخفض بہا صوتہ ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل ؓ سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٣)، مسند احمد ٤/٣١٨، سنن الدارمی/الصلاة ٣٥ (١٢٧٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٤) (بدون ذکر آمین)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤ (٨٥٥)، (بدون ذکر رفع الیدین)، مسند احمد ٤/٣١٥ (بدون ذکر رفع الیدین)، ٣١٦ (بدون ذکر آمین) ٣١٨ (بتمامہ)، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند: صحیح مسلم/الصلاة ١٥ (٤٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٦ (٧٢٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥ (٨٦٧)، مسند احمد ٤/٣١٦، ٣١٧، ٣١٨، ٣١٩ (صحیح )