جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا من المسلمين اللہم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! مجھے حسن اعمال اور حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھے برے اعمال اور قبیح اخلاق سے بچا، تیرے سوا کوئی ان برائیوں سے بچا نہیں سکتا ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah (RA) said: "When the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)started to pray, he would say the takbir, then say: Inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-alamin, la sharika lahu, wa bidhalika umirtu wa ana min al-muslimin. Allahummahdini liahsanil-amali wa ahsanil-akhlaqi la yahdi li ahsaniha illa anta wa qini sayyal-amali wa sayyal-ahaqi la yaqi sayyaha illa ant. (Indeed my salah (prayer), my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am one of the Muslims. O Allah, guide me to the best of deeds and the best of manners, for none can guide to the best of them but You. And protect me from bad deeds and bad manners, for none can protect against them but You ").
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 896
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا من المسلمين اللہم أنت الملک لا إله إلا أنت أنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بک وإليك تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اے اللہ! تو صاحب قوت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیرا غلام ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کوئی نہیں کرسکتا، اور مجھے حسن اخلاق کی توفیق دے، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا، اور مجھ سے برے اخلاق پھیر دے، تیرے سوا اس کی برائی مجھ سے کوئی پھیر نہیں سکتا، میں تیری تابعداری کے لیے باربار حاضر ہوں، اور ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے، اور شر سے تیرا کوئی علاقہ نہیں ٢ ؎، میں تیری وجہ سے ہوں، اور مجھے تیری ہی طرف پلٹنا ہے، تو صاحب برکت اور صاحب علو ہے، میں تجھ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں ۔
It was narrated from Ali (RA), that: When the Messenger of Allah ﷺ started to pray, he would say Takbir, then say: "Wajahtu wajhi lilladhi fataras-samawatiwal-arda hanifan wa ma ana minal-mushrikin. Inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-alamin, la sharika lahu, wa bidhalika umirtu wa ana min al-muslimin. Allahumma! Antal-maliku la ilaha illa ant, ana abduka zalamtu nafsi wataraftu bidhanbi faghfirli dhunubi jamian, la yaghfirudhunuba illa anta, wahdini lihasanil-ahklaqi, la yahdi li ahsaniha illa anta wasrif anni sayyaha la yasrifu anni sayyaha illa anta, labaika wa sadaika, wal-khairu kulluhu fi yadaika wash-sharru laisa ilaika ana bika wa ilaika ana bika wa ilaika tabarkta wa taalaita astaghfiruka wa atubu ilaik. (Verily, I have turned my face toward Him who created the Heavens and the Earth hanifa (worhsipping none but Allah Alone), and I am not of the idolaters. Verily, my salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am one of the Muslims. O Allah, You are the Sovereign and there is none worthy of worship but You. I am Your slave, I have wronged myself and I acknowledge my sin. Forgive me all my sins for no one forgives sins but You. Guide me to the best of manners for none can guide to the best of them but You. Protect me from bad manners for none can protect against them but You. I am at Your service, all goodness is in Your hands, and evil is not attributed to You. I rely on You and turn to You, blessed and exalted are You, I seek Your forgiveness and repent to You".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 897
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن حبان ( ٣ /١٣١) کے الفاظ ہیں: جب نماز شروع کرتے … اس سے ثابت ہوا کہ بعض حضرات کا یہ کہنا کہ یہ دعائیں نوافل میں پڑھتے تھے، درست نہیں، یہ ساری دعائیں وقتاً فوقتاً بدل بدل کر پڑھی جاسکتی ہیں۔ ٢ ؎: شر کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ اس کے فعل میں کوئی شر نہیں، بلکہ اس کے سارے افعال خیر ہیں، اس لیے کہ وہ سب سراسر عدل و حکمت پر مبنی ہیں، علامہ ابن قیم (رح) لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ خیر و شر دونوں کا خالق ہے پس شر اس کی بعض مخلوقات میں ہے، اس کی تخلیق و عمل میں نہیں، اسی لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس ظلم سے پاک ہے۔
محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے: اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملک لا إله إلا أنت سبحانک وبحمدک اللہ بہت بڑا ہے، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب (پالنہار) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو صاحب قدرت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تیری ذات تمام عیوب سے پاک ہے، اور تو لائق حمد وثناء ہے)، پھر قرآت فرماتے ۔
It was narrated from Muhammad bin Maslamah that: When the Messenger of Allah ﷺ stood to offer a voluntary prayer he would say: "Allahu Akbar Wajahtu wajhi lilladhi fataras-samawatiwal-arda hanifan musliman wa ma ana minal-mushrikin. Inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-alamin, la sharika lahu, wa bidhalika umirtu wa ana awwalul-muslimin. Allahumma antal-maliku la ilaha illa anta subhanaka wa bihamdik (Allah is Most Great. Verily, I have turned my face toward Him who created the Heavens and the Earth hanifa (worhsipping none but Allah Alone), as a Muslim, and I am not of the idolaters. Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of the all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am the first of the Muslims. O Allah, You are the Sovereign and there is none worthy of worship but You, glory and praise be to You"). Then he would recite.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 898
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو کہتے: سبحانک اللہم وبحمدک تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك اے اللہ! تو (شرک اور تمام عیبوں سے) پاک ہے، اور لائق حمد ہے، تیرا نام بابرکت ہے، اور تیری شان بلند و بالا ہے، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
It was narrated from Abu Saeed (RA) that: When the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)started to pray he would say: "Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa taala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You").
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 899
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو کہتے: سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالى جدک ولا إله غيرك اے اللہ! تو (تمام عیبوں سے) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
It was narrated that Abu Saeed (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ started to pray, he would say: Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa taala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You".)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 900
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا، اور مسجد میں داخل ہوا اس کی سانس پھول گئی تھی، تو اس نے اللہ أكبر الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ایسی تعریف جو پاکیزہ بابرکت ہو کہا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے تھے؟ لوگ خاموش رہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تو اس شخص نے کہا: میں نے اے اللہ کے رسول! میں آیا اور میری سانس پھول رہی تھی تو میں نے یہ کلمات کہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا سب جھپٹ رہے تھے کہ اسے کون اوپر لے جائے ۔
It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was leading us in prayer when a man came and entered the masjid, and he was out of breath. He said: Allahu Akbar, al-hamdulillahi hamdan kathiran tayiban mubarakan fih. (Allah is Most Great, praise be to Allah, much good and blessed praise.) When the Messenger of Allah ﷺ had finished his prayer he said: Which of you is the one who spoke these words? The people kept quiet. He said: He did not say anything bad. The man said: I did, O Messenger of Allah. I came and I was out of breath, and I said it. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (ﷺصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I saw twelve angels rushing to see which of them would take it up".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 901
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ الحمد لله رب العالمين سے قرآت شروع کرتے تھے۔
It was narrated from Anas (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ﷺ, Abu Bakr and Umar (RA) would start their recitation with: "All the praise and thanks be to Allah, the Lord of all that exists.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 902
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٦٨ (٢٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤ (٨١٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥)، مسند احمد ٣/١٠١، ١١١، ١١٤، ١٨٣ (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر ؓ کے ساتھ نماز پڑھی تو ان لوگوں نے الحمد لله رب العالمين سے قرآت شروع کی۔
It was narrated from Anas (RA): "I prayed with the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)and with Abu Bakr and ۔Umar (RA), and they started with "All the praise and thanks be to Allah, the Lord of all that exists".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 903
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤ (٨١٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٢)، مسند احمد ٣/١١١ (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے بسم اللہ الرحمن الرحيم * إنا أعطيناک الکوثر * فصل لربک وانحر * إن شانئك هو الأبتر شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بےنام و نشان ہے ، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں ۔
It was narrated that Anas in Malik (RA) said: "One day when he-the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)was still among us, he took a nap, then he raised his head, smiling. We said to him: Why are you smiling, O Messenger of Allah? He said: Just now this Surah was revealed to me: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. Verily, We have granted you (O Muahmmad) Al-Kawthar. Therefore turn in prayer to your Lord and sacrifice (to Him only). For he who hates you, he will be cut off. Then he said: Do you know what Al-Kawthar is? We said: Allah and His Messenger know best. He said: It is a river that my Lord has promised me in Paradise. Its vessels are more than the number of the stars. My Ummah will come to me, then a man among them will be pulled away and I will say: "O Lord, he is one of my Ummah" and He will say to me: You do not know what he did after you were gone".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 904
نعیم المجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحيم کہا، پھر سورة فاتحہ پڑھی، اور جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين پر پہنچے آمین کہی، لوگوں نے بھی آمین کہی ١ ؎، اور جب جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔
It was narrated that Nuaim Al-Mujmir said: "I prayed behind Abu Hurairah (RA) and he recited: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful, then he recited Umm Al-Quran (Al Fatihah), and when he reached: not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, he said: Amin and the people said Amin. And every time he prostrated he said: Allahu Akbar and when he stood up from sitting after two Rakahs he said: Allahu Akbar. And after he had said the Salam he said: By the One in Whose Hand is my soul! My prayer most closely remembers the prayer of the Messenger of Allah".
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 905
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ امام و مقتدی دونوں بلند آواز سے آمین کہیں گے، ایک روایت میں صراحت سے اس کا حکم آیا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے گی تو اس کے سارے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے، اس سے امام کے آمین نہ کہنے پر امام مالک کا استدلال باطل ہوجاتا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو آپ نے ہمیں بسم اللہ الرحمن الرحيم کی قرآت نہیں سنائی، اور ہمیں ابوبکر و عمر ؓ نے بھی نماز پڑھائی، تو ہم نے ان دونوں سے بھی اسے نہیں سنا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer, and we did not hear him recite: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. And Abu Bakr and Umar (RA) led us in prayer and we did not hear it from them either".
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 906
Notes · وضاحت
١ ؎: بسم اللہ سے متعلق زیادہ تر روایتیں آہستہ ہی پڑھنے کی ہیں، جو روایتیں زور (جہر) سے پڑھنے کی آئی ہیں ان میں سے اکثر ضعیف ہیں، سب سے عمدہ روایت نعیم المجمر کی ہے جس میں ہے صليت وراء أبي هريرة فقرأ: بسم الله الرحمن الرحيم: ثم قرأ بأم القرآن اس روایت پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اسے نعیم کے علاوہ اور بھی لوگوں نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں بسم اللہ کا ذکر نہیں، اس لیے ان کی روایت شاذ ہوگی، لیکن اس کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ نعیم ثقہ ہیں اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، اس لیے اس سے جہری پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے، لیکن اس میں اشکال یہ ہے کہ ان کی مخالفت ثقات نے کی ہے، اس لیے یہ تفرد غیر مقبول ہوگا۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحيم زور سے پڑھتے نہیں سنا۔
It was narrated that Anas (RA) said: "I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr, Umar and Uthman (RA) and I did not hear any of them say out loud: In the Name of Allah, The Most Gracious, The Most Merciful".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 907
عبداللہ بن مغفل کے بیٹے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل ؓ جب ہم میں سے کسی سے بسم اللہ الرحمن الرحيم پڑھتے ہوئے سنتے تو کہتے: میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز پڑھی، اور عمر ؓ کے پیچھے بھی نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحيم پڑھتے نہیں سنا ١ ؎۔
Ibn Abdullah bin Mughaffal said: "If Abdullah bin Mughaffal heard any one of us recite: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful, he would say: I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ and behind Abu Bakr (RA) and behind Umar (RA) and I did not hear any of them recite: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 908
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زور سے پڑھتے نہیں سنا، نہ کہ بالکل پڑھتے ہی نہیں تھے (دیکھئیے پچھلی دونوں حدیثیں)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٦٦ (٢٤٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٤ (٨١٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٧)، مسند احمد ٤/٨٥ و ٥/٥٤، ٥٥ (ضعیف) (بعض ائمہ نے ” ابن عبداللہ بن مغفل ‘ کو مجہول قرار دے کر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ حافظ مزی نے ان کا نام ” یزید “ لکھا ہے، اور حافظ ابن حجر نے ان کو ” صدوق “ کہا ہے )
ابوسائب مولی ہشام بن زہرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ،
Abu As-Saib- the freed slave of Hisham bin Zuhrah-said: "I heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever offers a prayer in which he does not recite Umm Al-Quran (Al Fatihah), it is deficient, it is deficient, it is deficient, incomplete".
میں نے پوچھا: ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو (کیسے پڑھوں؟ ) تو انہوں نے میرا ہاتھ دبایا، اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ١ ؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، تو آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سورة فاتحہ پڑھو، جب بندہ الحمد لله رب العالمين کہتا ہے ٢ ؎ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد (تعریف) کی، اسی طرح جب بندہ الرحمن الرحيم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ مالک يوم الدين کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعظیم و تمجید کی، اور جب بندہ إياک نعبد وإياک نستعين کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ آیت میرے اور میرے بندے دونوں کے درمیان مشترک ہے، اور جب بندہ اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تینوں آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
I (Abu As-Saib) said: O Abu Hurairah, sometimes I am behind the Imam. He poked me in the arm and said: Recite it to yourself, O Persian! For I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Allah says: "I have divided prayer between Myself and My slave into two halves, and My slave shall have what he has asked for". The Messenger of Allah ﷺ said: "Recite, for when the slave says: All the praises and thanks be to Allah, the Lord of all that exists, Allah says: My slave has praised Me. And when he says: The Most Gracious, the Most Merciful, Allah says: My slave has extolled Me. And when he says: The only Owner (and the Only Ruling Judge) of the Day of Recompense (i.e. the Day of Resurrection), Allah says: My slave has glorified Me. And when he says: You (alone) we worship, and You (alone) we ask for help (for each and everything), He says: This is between Me and My slave, and My slave shall have what he has asked for. And when he says: Guide us to the straight way, the way of those on whom You have bestowed Your grace, not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, He says: This is for My slave, and My slave shall have what he asked for".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 909
Notes · وضاحت
١ ؎: صلاۃ سے مراد سورة فاتحہ ہے کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔ ٢ ؎: اسی سے مؤلف نے سورة فاتحہ میں بسم الله الرحمن الرحيم نہ پڑھنے پر استدلال کیا ہے، حالانکہ یہاں بات صرف یہ ہے کہ اصل سورة فاتحہ تو الحمد للہ سے ہے، اور رہا پڑھنا بسم الله ‘ تو ہر سورة کی شروع میں ہونے کی وجہ سے اس کو تو پڑھنا ہی ہوتا ہے، وہ ایک الگ مسئلہ ہے، اس لیے یہاں اس کو نہیں چھیڑا گیا ہے۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورة فاتحہ نہ پڑھے ١ ؎۔
It was narrated from Ubadah bin As-Samit that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "There is no Salah for one who does not recite Fatihatil-Kitab".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 910
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے خواہ وہ فرض ہو یا نفل، اور خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے، امام ہو یا مقتدی، ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، کیونکہ لاء نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے، اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے لیے اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو، اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ از روئے شرع صلاۃ مخصوص اقوال و افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہٰذا جز یا کُل کی نفی سے ذات کی نفی ہوجائے گی، اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہوسکتی ہو تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو، اور وہ صحت کی نفی ہے نہ کہ کمال کی، اس لیے کہ صحت اور کمال ان دونوں مجازوں میں سے صحت ذات سے اقرب (زیادہ قریب) اور کمال ذات سے ابعد (زیادہ دور) ہے، اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلے میں ذات سے ابعد (بعید تر) ہے۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ مزید نہ پڑھے ١ ؎۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Salah for one who does not recite Fatihatil-Kitab or more".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 911
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ ایسے ہی ہے جیسے چوری کی سزا قطع ید (ہاتھ کاٹنے) کے سلسلے میں صحیح حدیث میں ہے لا تقطع الید إلا فی ربع دینار فصاعدا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا یعنی چوتھائی دینار سے کم پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لہٰذا حدیث میں وارد اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ اس شخص کی صلاۃ نہیں ہوگی جس نے سورة فاتحہ سے کم پڑھا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور جبرائیل (علیہ السلام) ایک ساتھ ہی تھے کہ اچانک جبرائیل (علیہ السلام) نے آسمان کے اوپر دروازہ کھلنے کی آواز سنی، تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: یہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، پھر اس سے ایک فرشتہ اترا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے کہا: مبارک ہو! آپ کو دو نور دیا گیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا، سورة فاتحہ اور سورة البقرہ کی آخری آیتیں، ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تم پڑھو گے تو (اس کا ثواب) تمہیں ضرور دیا جائے گا۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "When Jibril was with the Messenger of Allah ﷺ, he heard a sound from above like a door opening. Jibril علیہ السلام looked up toward the sky and said: This is a gate in Heaven that has been opened, but it was never opened before". He said: "An Angel came down from it and came to the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)and said: Receive the glad tidings of two lights that have been given to you and were never given to any Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) before you: The Opening of the Book (Al-Fatihah) and the last verses of Surat Al-Baqarah. You will never recite a single letter of them but you will be granted it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 912
ابوسعید بن معلی ؓ کہتے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے، اور انہیں بلایا، تو میں نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ابوسعید تمہیں مجھے جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟ کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے!: يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاکم لما يحييكم اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات بخش ہو (الحجر: ٨٧ ) کیا تم کو مسجد سے نکلنے سے پہلے میں ایک عظیم ترین سورت نہ سکھاؤں؟ آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو کہا تھا بتا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سورت الحمد لله رب العالمين ہے، اور یہی سبع المثاني ١ ؎ ہے جو مجھے دی گئی ہے، یہی قرآن عظیم ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed bin Al-Mualla that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)passed by him when he was praying, and called him. He said: "I finished praying, then I came to him, and he said: What kept you from answering me? He said: I was praying. He said: Does not Allah say: O you who believe! Answer Allah (by obeying Him) and (His) Messenger, when he calls you to that which will give you life? Shall I not teach you the greatest surah before I leave the masjid? Then he went to leave, and I said: O Messenger of Allah, what about what you said? He said: "All praise and thanks be to Allah, Lord of all that exists. These are the seven oft-recited that I have been given, and the Grand Quran".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 913
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة فاتحہ کا نام سبع المثاني ہے، سبع اس لیے ہے کہ یہ سات آیتوں پر مشتمل ہے، اور مثانی اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے، اس کی اسی اہمیت و خصوصیت کے اعتبار سے اسے قرآن عظیم کہا کیا ہے، گرچہ قرآن کی ہر سورت قرآن عظیم ہے جس طرح کعبہ کو بیت اللہ کہا جاتا ہے گرچہ اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، لیکن اس کی عظمت و خصوصیت کے اظہار کے لیے صرف کعبہ ہی کو بیت اللہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة ١ (٤٤٧٤)، تفسیر الأنفال ٣ (٤٦٤٧)، تفسیر الحجر ٣ (٤٧٠٣)، فضائل القرآن ٩ (٥٠٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٠ (١٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٧)، مسند احمد ٣/٤٥٠، ٤ (٢١١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٢ (١٥٣٣)، فضائل القرآن ١٢ (٣٤١٤)، موطا امام مالک/ الصلاة ٨ (٣٧) من حدیث أبی بن کعب (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سورة فاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تو رات میں اتاری ہے اور نہ انجیل میں، یہی سبع المثاني ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ بٹی ہوئی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Mighty and Sublime, did not reveal in the Tawrah or the Injil anything like Umm Al-Quran (Al-Fatihah), which is the seven oft-recited, and (Allah said) it is divided between Myself and My slave will have what he asked for".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 914
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر الحجر (٣١٢٥)، (تحفة الأشراف: ٧٧)، مسند احمد ٥/١١٤، سنن الدارمی/الفضائل ١٢ (٣٤١٥) (صحیح )