نماز کے دوران الحمد شریف کی تلاوت لازمی ہے
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِقال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا.
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ مزید نہ پڑھے ١ ؎۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Salah for one who does not recite Fatihatil-Kitab or more".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 911
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ ایسے ہی ہے جیسے چوری کی سزا قطع ید (ہاتھ کاٹنے) کے سلسلے میں صحیح حدیث میں ہے لا تقطع الید إلا فی ربع دینار فصاعدا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا یعنی چوتھائی دینار سے کم پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لہٰذا حدیث میں وارد اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ اس شخص کی صلاۃ نہیں ہوگی جس نے سورة فاتحہ سے کم پڑھا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٩١١ (صحیح )