نماز کے دوران الحمد شریف کی تلاوت لازمی ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورة فاتحہ نہ پڑھے ١ ؎۔
It was narrated from Ubadah bin As-Samit that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "There is no Salah for one who does not recite Fatihatil-Kitab".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 910
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے خواہ وہ فرض ہو یا نفل، اور خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے، امام ہو یا مقتدی، ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، کیونکہ لاء نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے، اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے لیے اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو، اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ از روئے شرع صلاۃ مخصوص اقوال و افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہٰذا جز یا کُل کی نفی سے ذات کی نفی ہوجائے گی، اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہوسکتی ہو تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو، اور وہ صحت کی نفی ہے نہ کہ کمال کی، اس لیے کہ صحت اور کمال ان دونوں مجازوں میں سے صحت ذات سے اقرب (زیادہ قریب) اور کمال ذات سے ابعد (زیادہ دور) ہے، اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلے میں ذات سے ابعد (بعید تر) ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٦)، صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٤)، سنن ابی داود/فیہ ١٣٦ (٨٢٢)، سنن الترمذی/فیہ ٦٩ (٢٤٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١١ (٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥١١٠)، مسند احمد ٥/٣١٤، ٣٢١، ٣٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ٣٦ (١٢٧٨) (صحیح )