عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو سبع المثاني یعنی سات لمبی سورتیں ١ ؎ عطا کی گئی ہیں۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)was given seven oft-recited; the seven long ones".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 915
Notes · وضاحت
١ ؎: اور وہ یہ ہیں: بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، اعراف، ہود اور یونس، یہ ابن عباس ؓ کا قول سند میں شریک ضعیف ہیں، نیز ابواسحاق بیہقی مدلس و مختلط لیکن سابقہ سند سے تقویت پا کر یہ حسن ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے اللہ عزوجل کے قول: سبعا من المثاني کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: Concerning the words of Allah, the Mighty and Sublime: "Seven of Al-Mathani (seven repeatedly-recited): "The seven long ones".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 916
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٥٩٠) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف اور ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن لغیرہ ہے، اور اصل حدیث صحیح ہے کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥/٢٠٠، رقم: ١٣١٢) اور مشہور حسن کے نسخے میں ضعیف لکھا ہے اور حوالہ صحیح ابی داود کا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اس کی سند میں ضعف ہے اور اصل حدیث صحیح ہے ۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورة سبح اسم ربک الأعلى پڑھی، جب آپ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورة سبح اسم ربک الأعلى کس نے پڑھی؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ۔
It was narrated that Imran bin Hussain said: "The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)prayed Zuhr and a man behind him recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High. When he had finished praying, he said: Who recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High"? A man said: I did. He said: I realized that some of you were disputing with me over it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 917
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: تم میں سے سورة سبح اسم ربک الأعلى کس نے پڑھی ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورة پڑھنے میں خلجان میں دال دیا ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)prayed Zuhr or Asr, and a man was reciting behind him. When he had finished he said: "Which one of you recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High"? A man among the people said: "I did, but I did not intend anything but good". The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "I realized that some of you were disputing with me over it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 918
Notes · وضاحت
١ ؎: خلجان مطلق سورة فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زور سے پڑھنے کی وجہ سے ہوا، یہی بات قرین قیاس ہے بلکہ حتمی ہے، اس لیے اس حدیث سے سورة فاتحہ نہ پڑھنے پر استدلال واضح نہیں ہے، نیز عبادہ ؓ کی حدیث (رقم: ٩٢١ ) سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ آپ نے باضابطہٰ سورة فاتحہ پڑھنے کی صراحت فرما دی ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ ﷺ زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA): "The Messenger of Allah ﷺ finished a prayer in which he recited out loud, then he said: Did any one of you recite with me just now? A man said: Yes, O Messenger of Allah. He said: I was wondering what was distracting me in reciting Quran". So the people stopped reciting in prayers in which the Messenger of Allah ﷺ recited out loud when they heard that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 919
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قول کہ جب لوگوں نے … زہری کا ہے، ائمہ حدیث نے اس کی تصریح کردی ہے، اور زہری تابعی صغیر ہیں، وہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، ان کی یہ روایت مرسل ہے، اور مرسل ضعیف کی قسموں میں سے ہے، یا اس کا یہ معنی ہے کہ لوگ زور سے قرات کرتے تھے، اسی سے آپ ﷺ کو خلجان ہوتا تھا، اور خلجان کا واقعہ جہری سری دونوں میں پیش آیا ہے (جیسا کہ حدیث رقم: ٩١٨ میں گزرا) اس واقعہ کے بعد لوگ زور سے قرات کرنے سے رک گئے۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورة فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے ۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in one of the prayers in which the recitation is done out loud, and he said: None of you should recite when I recite out loud, apart from the Umm Al_quran (Al Fatihah)".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 920
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٣٦ (٨٢٤) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٥١١٦)، مسند احمد ٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢ (حسن صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن صحیح ہے، بعض ائمہ نے محمود میں کچھ کلام کیا ہے، جب کہ بہت سوں نے ان کی توثیق کی ہے، نیز وہ اس روایت میں منفرد بھی نہیں ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قرآت کرے تو تم خاموش رہو ١ ؎، اور جب سمع اللہ لمن حمده کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir, and when he recites, be silent, and when he says: "Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him)", say: "Allahumma rabbana lakal-hamd (Our Lord, to You be praise)".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 921
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اقوال میں آپس میں ٹکراؤ ممکن ہی نہیں، نیز رسول اللہ ﷺ کے اپنے اقوال میں بھی ٹکراو محال ہے، یہ مسلّمہ عقیدہ ہے، اس لیے سورة فاتحہ کے وجوب پر دیگر قطعی احادیث کے تناظر میں اس صحیح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے علاوہ کی قرات کے وقت امام کی قرات سنو، اور چپ رہو، رہا سورة فاتحہ پڑھنے کے مانعین کا آیت و إذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا سے استدلال، تو ایک تو یہ آیت نماز فرض ہونے سے پہلے کی ہے، تو اس کو نماز پر کیسے فٹ کریں گے؟ دوسرے مکاتب میں ایک طالب علم کے پڑھنے کے وقت سارے بچوں کو خاموش رہ کر سننے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ جب کہ یہ حکم وہاں زیادہ فٹ ہوتا ہے، اور نماز کے لیے تو لا صلاة إلا بفاتحة الکتاب والی حدیث سے استثناء بھی آگیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مخرمی کہتے تھے: وہ یعنی محمد بن سعد الانصاری ثقہ ہیں۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir, and when he recites, be silent".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 922
ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کیا ہر نماز میں قرآت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! (اس پر) انصار کے ایک شخص نے کہا: یہ (قرآت) واجب ہوگئی، تو ابو الدرداء ؓ میری طرف متوجہ ہوئے اور حال یہ تھا کہ میں ان سے سب سے زیادہ قریب تھا، تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کی امامت کرے تو (امام کی قرآت) انہیں بھی کافی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرنا غلط ہے، یہ تو صرف ابو الدرداء ؓ کا قول ہے، اور اسے اس کتاب کے ساتھ انہوں نے نہیں پڑھا ہے ١ ؎۔
Kathir bin Murrah Al-Hadrami narrated that: He heard Abu Ad-Darda (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ was asked: Is there recitation in every prayer? He said: Yes. A man among the Ansar said: Is that obligatory? He (Abu Ad-Darda) turned to me (Kathir), as I was closest of the people to him, and said: I think that if the Imam leads the people, that is sufficient for them".
صحيح الإسناد والموقوف منه فالتفت إليصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 923
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مؤلف کے شاگرد ابوبکر ابن السنی کا قول ہے، یعنی ابن السنی نے مؤلف پر اس کتاب کو پڑھتے وقت یہ حدیث نہیں پڑھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٩)، مسند احمد ٥/١٩٧، ٦/٤٤٨ وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة ١١ (٨٤٢)، (من طریق أبی ادریس الخولانی إلی قولہ: وجب ھذا) (حسن الإسناد )
ابن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa (RA) said: "A man came to the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)and said: I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran. He said: Say: Subhan Allah, wal-hamdulilah, wa la ilaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent )".
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب قاری (امام) آمین کہے، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوجائے ١ ؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the reciter says Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 925
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مؤلف نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا، اور جب انہیں اس کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب قاری (امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوجائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "When the reciter says: Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 926
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٦٣ (٦٤٠٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٤ (٨٥١)، مسند احمد ٢/٢٣٨، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوجائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: Amin for the angels say Amin and the Imam says Amin, and if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 927
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤ (٨٥٢) مختصراً، مسند احمد ٢/٢٣٣، ٢٧٠، سنن الدارمی/الصلاة ٣٨ (١٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوجائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah(RA) that: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the Imam says Amin, say Amin, for if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 928
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوجائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: Amin, for if a persons Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 929
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہوجائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah ﷺ said: "If any one of you says: Amin and the angels in Heaven say Amin, and the one coincides with the other, his previous sins will be forgiven".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 930
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١١ (٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢٦)، موطا امام مالک/الصلاة ١١ (٤٦)، مسند احمد ٢/٤٥٩ (صحیح )
رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آگئی، تو میں نے الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضى اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے کہا، تو جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے کیسے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضى اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے ۔
It was narrated from Muadh bin Rifaah bin Rafi that: His father said: "I prayed behind the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)and I sneezed and said: Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, mubarakanalaihi, kama yuhibbu rabbuna wa yarda (Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.) When he finished praying, the Messenger of Allah ﷺ said: Who is the one who spoke during the prayer? But no one said anything. Then he said it a second time: Who is the one who spoke during the prayer? So Rifaah bin Rafi bin Afrah said: It was me, O Messenger of Allah. He said: I said: "Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with". The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: By the One in Whose hand is my soul, thirty-odd angels hastened to see which of them would take it up".
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 931
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٧٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٠ (٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٦)، موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٥)، مسند احمد ٤/٣٤٠ (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ١ ؎، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیرلیا تو پوچھا: نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی ۔
It was narrated from Abdul Jabbar bin Wail that: His father said: "I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ and when he said the takbir, he raised his hands to the bottom of his ears. When he recited: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray), he said: Amin, and I could hear him although I was behind him. The Messenger of Allah ﷺ heard a man saying: Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, (Praise be to Allah, much good and blessed praise). When the Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said the salam and finished his prayer, he said: Who spoke those words during the prayer? The man said: I did, O Messenger of Allah, but I did not mean anything bad thereby. The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "Twelve angels hastened (to take it) and nothing is stopping it going all the way to the Throne".
صحيح لغيره دون قوله فما نهنههاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 932
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز سے آمین کہی، رہا بعض حاشیہ نگاروں کا یہ کہنا کہ پہلی صف والوں کے بالخصوص ایسے شخص سے سننے سے جو نبی اکرم ﷺ کے بالکل پیچھے ہو جہر لازم نہیں آتا، تو یہ صحیح نہیں کیونکہ صاحب ہدایہ نے یہ تصریح کی ہے کہ جہر یہی ہے کہ کوئی دوسرا سن لے، اور کرخی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جہر کا ادنی مرتبہ یہ ہے کہ بولنے والا آدمی خود اسے سنے، رہی وائل بن حجر ؓ کی خفض والی روایت تو شعبہ نے اس میں کئی غلطیاں کی ہیں، جس کی تفصیل سنن ترمذی حدیث رقم ( ٢٤٨ ) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ١١٧٦٤)، مسند احمد ٤/٣١٥، ٣١٧ (صحیح) (اس سند میں عبدالجبار اور ان کے باپ وائل بن حجر ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ” فما نھنھھا ۔۔۔ “ کے جملے کے علاوہ اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر بقیہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہوجاتی ہے اور میں اسے یاد کرلیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ: How does the Revelation come to you? He said: Like the ringing of a bell, and when it departs I remember what he (the Angel) said, and this is the hardest on me. And sometimes he (the Angel) comes to me in the form of a man and gives it to me".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 933
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل ٢٣ (٢٣٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢٤)، موطا امام مالک/القرآن ٤ (٧)، مسند احمد ٦/١٥٨، ١٦٣، ٢٥٧ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہوجاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ١ ؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں ، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔
It was narrated from Aishah (RA) that: Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ: How does the Revelation come to you? He said: Like the ringing of a bell, and this is the hardest on me. When it departs I remember what he said. And sometimes the Angel appears to me in the form of a man and speaks to me, and I remember what he said". Aishah said: "I saw him when the Revelation came to him on a very cold day, and his forhead was dripping with sweat".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 934
Notes · وضاحت
١ ؎: یتمثل لي الملک رجلاً میں رَجَلاً منصوب بنزع الخافض ہے، تقدیر یوں ہوگی یتمثل لي الملک صورۃ رجل، صور ۃ جو مضاف تھا حذف کردیا گیا ہے، اور رجل جو مضاف الیہ کو مضاف کا اعراب دے دیا گیا ہے۔