Sunan An Nasai 921

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

921Sunan An Nasai

جس وقت امام جہری نماز میں قرأت کرے تو مقتدی کچھ نہ پڑھیں لیکن سورت فاتحہ پڑھیں

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورة فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے ۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in one of the prayers in which the recitation is done out loud, and he said: None of you should recite when I recite out loud, apart from the Umm Al_quran (Al Fatihah)".

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 920
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٣٦ (٨٢٤) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٥١١٦)، مسند احمد ٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢ (حسن صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن صحیح ہے، بعض ائمہ نے محمود میں کچھ کلام کیا ہے، جب کہ بہت سوں نے ان کی توثیق کی ہے، نیز وہ اس روایت میں منفرد بھی نہیں ہیں )