Sunan An Nasai 919

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

919Sunan An Nasai

امام کی اقتداء میں سری نماز میں (سوا سورت فاتحہ کے) قرأت نہ کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَىفَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: تم میں سے سورة سبح اسم ربک الأعلى کس نے پڑھی ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورة پڑھنے میں خلجان میں دال دیا ١ ؎۔

It was narrated from Imran bin Husain that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)prayed Zuhr or Asr, and a man was reciting behind him. When he had finished he said: "Which one of you recited: Glorify the Name of your Lord, the Most High"? A man among the people said: "I did, but I did not intend anything but good". The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "I realized that some of you were disputing with me over it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 918
Notes · وضاحت
١ ؎: خلجان مطلق سورة فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زور سے پڑھنے کی وجہ سے ہوا، یہی بات قرین قیاس ہے بلکہ حتمی ہے، اس لیے اس حدیث سے سورة فاتحہ نہ پڑھنے پر استدلال واضح نہیں ہے، نیز عبادہ ؓ کی حدیث (رقم: ٩٢١ ) سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ آپ نے باضابطہٰ سورة فاتحہ پڑھنے کی صراحت فرما دی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )