Sunan An Nasai 893

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

893Sunan An Nasai

دوران نماز دونوں پاؤں ملا کر کھڑا ہونا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْأَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ: خَالَفَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ.

ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سنت کی مخالفت کی ہے، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Ubaidah (RA) that: Abdullah saw a man who was praying with his feet together. He said: He is going against the Sunnah; if he shifted his weight from one to the other that would be better".

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 892
Notes · وضاحت
١ ؎: سنداً اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، مگر بات یہی صحیح ہے کہ نمازی اپنے دونوں قدموں کو آپس میں ملائے نہیں، کیونکہ اس کو جماعت میں اپنے بغل کے نمازی کے قدم سے قدم ملانا ہے، اگر منفرد ہے تب بھی اپنے قدموں کو آپس میں ملانے سے اس کو پریشانی ہوگی، الگ الگ رکھنے میں راحت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٦٣١) (ضعیف الإسناد) (ابو عبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہونے کی وجہ سے سنداً یہ روایت ضعیف ہے )