جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 1 of 14

1819Sunan An Nasai

موت کی خواہش سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے، (کیونکہ) یا تو وہ نیک ہوگا تو ہوسکتا ہے زیادہ نیکی کرے، یا برا ہوگا تو ہوسکتا ہے وہ برائی سے توبہ کرلے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "None of you should wish for death. Either he is a doer of good, so perhaps he may do more good, or he is an evil-doer but perhaps he will give up his evil ways."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1818
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے زندہ رہنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤١١٧)، مسند احمد ٢/٢٣٦ (صحیح )
1820Sunan An Nasai

موت کی خواہش سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعِيشَ يَزْدَادُ خَيْرًا وَهُوَ خَيْرٌ لَهُ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے (کیونکہ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے (اور) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کرلے ۔

It was narrated from Abu Ubaid the freed slave of Abdur-Rahman bin Awf that he heard Abu Hurairah say: None of you should wish for death. Either he is a doer of good, so if he lives he will do more good or he is a doer of evil but perhaps he will give up his evil ways."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1819
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المرضی ١٩ (٥٦٧٣)، التمني ٦ (٧٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٤)، مسند احمد ٢/٣٠٩، ٥١٤، سنن الدارمی/الرقاق ٤٥ (٢٨٠٠) (صحیح )
1821Sunan An Nasai

موت کی خواہش سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَلَكِنْ لِيَقُلْ، اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ١ ؎، بلکہ یہ کہے: اللہم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔

It was narrated form Anas that the Messenger of Allah said: "None of you should wish for death because of some harm that befalls him, rather he should say: Allahumma ahini ma kanatil-hayatu khairanli wa tawaffani idha kanatil-wafatu khairanli (O Allah, keep me alive so alive so long as life is good for me, and cause me to die when death is good for me.)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1820
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ زندگی کا جو حصہ باقی ہے اس کے دین و دنیا کے لیے بہتر ہو، اس لیے موت کی آرزو کرنا منع ہے، شہادت کی یا مقدس جگہ مرنے کی آرزو کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٠٥، حم ٣/١٠٤ (صحیح )
1822Sunan An Nasai

موت کی خواہش سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ. ح وَأَنْبَأَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو نہ کرے، اس مصیبت کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے، اگر موت کی آرزو کرنا ضروری ہو تو یہ کہے: اللہم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah said: None of you should wish for death because of some harm that befalls him. If he must wish for death, let him say: Allahumma ahini ma kanatil-hayatu khairantli wa tawaffani idha kanatil-wafatu khairanli (O Allah, keep me alive so long as life is good for me, and cause me to die when death is good for me)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1821
Takhrij · تخریج
حدیث إسماعیل ابن علیّة، عن عبدالعزیز أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات ٣٠ (٦٣٥١)، صحیح مسلم/الذکر ٤ (٢٦٨٠)، سنن الترمذی/الجنائز ٣ (٩٧١)، (تحفة الأشراف: ٩٩١)، مسند احمد ٣/١٠١، وحدیث عبدالوارث، عن عبدالعزیز أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ١٣ (٣١٠٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣١ (٤٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧) (صحیح )
1823Sunan An Nasai

موت کی دعا مانگنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدْعُوا بِالْمَوْتِ وَلَا تَتَمَنَّوْهُ فَمَنْ كَانَ دَاعِيًا لَا بُدَّ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم موت کی دعا نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تمنا (مگر) جسے دعا کرنا ضروری ہو وہ کہے: اللہم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور موت دیدے جب میرے لیے موت بہتر ہو ۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah said: Do not pray for death or wish for it. Whoever insists on praying for it let him say: Allahumma ahini ma kanatil-hayatu khairalli wa tawaffani idha kanatil-wafatu khairalli (O Allah, keep me alive so long as life is good for me, and cause me to die when death is good for me.)"

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1822
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٩٦) (صحیح الإسناد )
1824Sunan An Nasai

موت کی دعا مانگنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىخَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ دَعَوْتُ بِهِ.

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں میں خباب ؓ کے پاس آیا، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے: اگر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں (شدت تکلیف سے) اس کی دعا کرتا۔

Qais said: "I entered upon Khabbab when he had been cauterized on his stomach seven times. He said: Were it not that the Messenger of Allah ﷺﷺ forbade us to pray for death, I would have prayed for it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1823
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المرضی ١٩ (٥٦٧٢)، والدعوات ٣٠ (٦٣٤٩)، والرقاق ٧ (٦٤٣٠)، والتمني ٦ (٧٢٣٤)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٤ (٢٦٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة ٤٠ (٢٤٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٨)، مسند احمد ٥/١٠٩، ١١٠، ١١١، ١١٢ و ٦/٣٩٥ (صحیح )
1825Sunan An Nasai

موت کو زیادہ یاد کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو. ح وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالِدُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لذتوں کو کاٹنے والی ١ ؎ کو خوب یاد کیا کرو ٢ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن ابراہیم ابوبکر بن ابی شیبہ کے والد ہیں۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Remember often the destroyer of pleasures." (Hasan) Abu Abdur-Rahaman (An-Nasai) said: Muhammad bin Ibrahim (one of the narrators) is the father of Abu Bakr Ibn Abi Shaibah.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1824
Notes · وضاحت
١ ؎: لذتوں کو کاٹنے والی سے مراد موت ہے۔ ٢ ؎: موت کو کثرت سے یاد کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس سے نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے، اور برائیوں سے توبہ کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث فضل بن موسی، عن محمد بن عمرو قد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد ٤ (٢٣٠٧)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣١ (٤٢٥٨)، مسند احمد ٢/٢٩٣، (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٠)، وحدیث محمد بن إبراہیم، عن موسیٰ بن عمرو قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٧) (حسن صحیح )
1826Sunan An Nasai

موت کو زیادہ یاد کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً، فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ چناچہ جب ابوسلمہ مرگئے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ تو آپ نے فرمایا ـ: تو کہو: اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة اے اللہ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد ﷺ کو عطا کیا ١ ؎۔

It was narrated that Umm Salamah said: "I heard the Messenger of Allah say: When you see the dead, say something good, for the angels say Amin to whatever you say; When Abu Salamah died, I said: O Messenger of Allah, what should I say? He said: Say" Allahummaghfirlanaa wa lahu wa a qibni minhu uqbai hasanah (O Allah, forgive us and him, and compensate me well for this loss.)" Then Allah, the Mighty and Sublime, compensated me with Muhammad ﷺ."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1825
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی الله عنہا کا نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوگیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں بدل ہی نہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣ (٩١٩)، سنن ابی داود/الجنائز ١٩ (٣١١٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٧)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٧)، ٥٥ (١٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٢)، موطا امام مالک/الجنائز ١٤ (٤٢)، مسند احمد ٦/٢٩١، ٣٠٦، ٣٢٢ (صحیح )
1827Sunan An Nasai

مرنے والے کو موت کے وقت سکھلانا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا إله إلا اللہ کی تلقین کرو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah said: Prompt your dying ones to say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1826
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد ہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں، ان سے پڑھنے کے لیے نہ کہا جائے کیونکہ موت کے شدت سے گھبراہٹ میں جھنجھلا کر وہ کہیں اس کلمہ کا انکار نہ کر دے، لیکن البانی صاحب (رح) کے نزدیک تلقین کا مطلب یہی ہے کہ اس سے لا إله إلا الله پڑھنے کے لیے کہا جائے، تفصیل کے لیے دیکھئیے احکام الجنائز للالبانی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١ (٩١٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٢٠ (٣١١٧)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣ (١٤٤٥)، مسند احمد ٣/٣، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٣) (صحیح )
1828Sunan An Nasai

مرنے والے کو موت کے وقت سکھلانا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِّنُوا هَلْكَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا إله إلا اللہ کی تلقین کرو ۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah said: Prompt your dying ones to say La ilaha illahllah (there is none worthy of worship except Allah)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1827
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦١) (صحیح )
1829Sunan An Nasai

مومن کی موت کی علامت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ.

بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے ١ ؎۔

It is narrated from Abdullah bin Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah said: "The believer dies with sweat on his forehead."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1828
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دوچار ہوتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کی بخشش ہوجائے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ رزق حلال اور ادائیگی فرض کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٠ (٩٨٢)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥ (١٤٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٩٩٢)، مسند احمد ٥/٣٥٠، ٣٥٧، ٣٦٠ (صحیح )
1830Sunan An Nasai

مومن کی موت کی علامت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ.

بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود رہتی ہے ۔

It was narrated from (Ibn Buraidah) that his father said: "I heard the Messenger of Allah say: The believer dies with sweat on his forehead."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1829
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٩٩٦) (صحیح )
1831Sunan An Nasai

موت کی سختی سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ ﷺ کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah died while he was between my chest and my chin, and I never disliked the agony of death for anyone after I saw the Messenger of Allah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1830
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی برے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات، اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٣ (٤٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣١)، مسند احمد ٦/٦٤، ٧٧ (صحیح )
1832Sunan An Nasai

سوموار کے روز موت آنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَرْتَدَّ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ امْكُثُوا وَأَلْقَى السِّجْفَ، وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَذَلِكَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا (جب) آپ نے (حجرے کا) پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر ؓ کے پیچھے صف باندھے (کھڑے تھے) ، ابوبکر ؓ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا (پھر) آپ اسی دن کے آخری (حصہ میں) انتقال فرما گئے، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔

It was narrated that Anas said: "The last time I saw the Messenger of Allah, he drew back the curtain when the people were in rows behind Abu Bakr, may Allah be pleased with him. Abu Bakr wanted to step back, but he gestured to them to stay as they were, and let the curtain drop. He died at the end of that day, and that was a Monday."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1831
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٩)، سنن الترمذی/الشمائل ٥٣ (٣٦٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧)، مسند احمد ٣/١١٠، ١٦٣، ١٩٦، ١٩٧ (صحیح )
1833Sunan An Nasai

وطن کے علاوہ دوسری جگہ موت آنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ، قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس (کے جنازے) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! (یہ شخص) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: Would that he had died somewhere other than the place where he was born. They said: Why is that, O Messenger of Allah? He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died."

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1832
Notes · وضاحت
١ ؎: جنت میں یہ جگہ اس لیے ملتی ہے کہ وہ اجنبیت کی موت مرتا ہے، یا مراد یہ ہے کہ اس کی قبر اتنی کشادہ کردی جاتی ہے جتنا اس کی جائے پیدائش اور جائے وفات میں فاصلہ ہوتا، اس سے مسافرت اور اجنبیت کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، جب کسی برے کام کے لیے نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦١ (١٦١٤)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٦)، مسند احمد ٢/١٧٧ (حسن )
1834Sunan An Nasai

روح نکلتے وقت مومن کا اکرام

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ، فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ، فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ، فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ: أَمَا أَتَاكُمْ ؟ قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطًا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مومن کی موت آتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں، اور (اس کی روح سے) کہتے ہیں: نکل، تو اللہ سے راضی ہے، اور اللہ تجھ سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور رزق کی طرف اور (اپنے) رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے، تو وہ پاکیزہ خوشبودار مشک کی مانند نکل پڑتی، ہے یہاں تک کہ (فرشتے) اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، (جب) آسمان کے دروازے پر اسے لے کر آتے ہیں تو (دربان) کہتے ہیں: کیا خوب ہے یہ خوشبو جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے، (پھر) وہ اسے مومن کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں، تو انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جو گمشدہ شخص کے لوٹ کر آجانے سے بڑھ کر ہوتی ہے، وہ روحیں اس سے ان لوگوں کا حال پوچھتی ہیں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ گئے تھے: فلاں کیسے ہے، اور فلاں کیسے ہے؟ وہ کہتی ہیں: انہیں چھوڑو، یہ دنیا کے غم میں مبتلا تھے، تو جب وہ (نووارد روح) کہتی ہے: کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ (وہ تو مرگیا تھا) تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہوگا، اور جب کافر قریب المرگ ہوتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر آتے ہیں، (اور) کہتے ہیں: اللہ کے عذاب کی طرف نکل، تو اللہ سے ناراض ہے، اور اللہ تجھ سے ناراض ہے، تو وہ نکل پڑتی ہے جیسے سڑے مردار کی بدبو نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں (پھر) کہتے ہیں: کتنی خراب بدبو ہے یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جا کر (چھوڑ دیتے ہیں) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When the believer is dying, the angels of mercy come to him with white silk and sya: Come out content and with the pleasure of Allah upon you to the mercy of Allah, fragrance and a Lord Who is not angry; So it comes out like the best fragrance of musk. They pass him from one to another until they bring him to the gate of heaven, where they say: ; How good is this fragrance that has come to you from the Earth! Then the souls of the believers come to him and they rejoice more over him than any one of you rejoices when his absent loved one comes to him. They ask him: What happened to so-and-so, what happened to so-and-so? They say: Let him be, for he was in the hardship of the world. When he says, Did he not come here? They say: He was taken to the pit (of Hell). Come out discontent, subject of Divine wrath, to the punishment of Allah, the Mighty and Sublime; So it comes out like the foulest stench of a corpse. They bring him to the gates of the Earth, where they say: How foul is this stench! Then they bring him to the souls of the disbelievers."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1833
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٢٩٠) (صحیح )
1835Sunan An Nasai

جو شخص خداوند قدوس کی ملاقات چاہے

أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُقَالَ شُرَيْحٌ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا، قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَتْ: قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا طَمَحَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۔ شریح کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور میں نے کہا: ام المؤمنین! میں نے ابوہریرہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہوگئے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا لیکن ہم میں سے کوئی (بھی) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ تو انہوں نے کہا: بیشک یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے، سینہ میں دم گھٹنے لگے، اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said; "The Messenger of Allah said: Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him." (One of the narrators) Shuraih said: I went to Aishan and said: O mother of the believers! I heard Abu Hurairah narrate from the Messenger of Allah a Hadith which, if that is the case, we are all doomed. She said: What is that? He said: The Messenger of Allah said: Whoever loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him. But there is no one among us who does not hate death. She said: The Messenger of Allah did say that, but it is not what you think. When the eyes begin to stare, the death rattle sounds in the chest and the flesh shiver, at that point, whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1834
Notes · وضاحت
١ ؎: خود رسول اللہ ﷺ نے اس کی صراحت فرما دی ہے (دیکھئیے حدیث رقم: ١٨٣٩ ) مطلب یہ ہے کہ مومن کو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خوشی ہوتی ہے، اور کافر کو گھبراہٹ ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٥ (٢٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٢)، مسند احمد ٢/٣١٣، ٣٤٦، ٤٢٠ (صحیح )
1836Sunan An Nasai

جو شخص خداوند قدوس کی ملاقات چاہے

قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَاالْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو میں (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو میں (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہوں ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Allah, the Most High, said: If My slave loves to meet Me, I love to meet him, and if he hates to meet Me, I hate to meet him."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1835
Takhrij · تخریج
حدیث أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ٥ (٧٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣١)، وحدیث مغیرة، عن أبي الزناد قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٩٠٨)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٠)، مسند احمد ٢/٤١٨ (صحیح الإسناد )
1837Sunan An Nasai

جو شخص خداوند قدوس کی ملاقات چاہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے، اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۔

It was narrated from Ubadah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1836
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤١ (٦٥٠٧) مطولاً، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٥ (٢٦٨٣)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٧ (١٠٦٦)، والزھد ٦ (٢٣٠٩)، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٠)، مسند احمد ٥/٣١٦، ٣٢١، سنن الدارمی/الرقاق ٤٣ (٢٧٩٨) (صحیح )
1838Sunan An Nasai

جو شخص خداوند قدوس کی ملاقات چاہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "The Messenger of Allah said: whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah, hates to meet him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1837
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )