ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا، (عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے) اس پر اللہ کے رسول سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! (اگر) اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرنا موت کو ناپسند کرنا ہے، تو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کے مرنے کے وقت کی بات ہے، جب اسے اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے (جلد) ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جب اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو (ڈر کی وجہ سے) ملنا ناپسند کرتا ہے، اور وہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah, hates to meet him." Amr (one of the narrators) added in his narration: "t was said: O Messenger of Allah mean hating death? Fore all of us hate death. He said; That is when he is dying; if he is given the glad tidings of the mercy and forgiveness of Allah, he loves to meet Allah and Allah loves to meet him. But if he is given the tidings of the punishment of Allah, he hates to meet Allah and Allah hates to meet him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1838
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں بتایا ہے کہ ابوبکر سُنح میں واقع اپنے مکان سے ایک گھوڑے پر آئے، اور اتر کر (سیدھے) مسجد میں گئے، لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ عائشہ ؓ کے پاس (ان کے حجرے میں) آئے، رسول اللہ ﷺ کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا تو انہوں نے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک کھولا، پھر وہ آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا، اور رو پڑے، پھر کہا: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم! اللہ کبھی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا، رہی یہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی تو یہ ہوچکی ٢ ؎۔
It was narrated that Aishah said that: Abu Bakr came riding a horse from his home in As-Sunuh, then he dismounted and entered the Masjid. He did not speak to the people until he met Aishah and the Messenger of Allah was covered with a Hibrah Burd. He uncovered his face, bent over him and kissed him, and wept. Then he said: "May my father be ransomed for you. By Allah! Allah will never cause you to die twice; the death that was decreed for you, you have died."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1841
Notes · وضاحت
١ ؎: سُنح یہ عوالی مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں نبی حارث بن خزرج کے لوگ رہتے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے انہیں میں شادی کی تھی، اور یہ رہائش گاہ ان کی اہلیہ کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں وہاں جانے کی اجازت دی تھی۔ ٢ ؎: ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ جملہ عمر رضی الله عنہ کی تردید میں کہا تھا جو کہہ رہے تھے کہ آپ پھر دنیا میں واپس آئیں گے۔
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا، انہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا گیا، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا، (پھر) رسول اللہ ﷺ نے انہیں (اٹھانے) کا حکم دیا، انہیں اٹھایا گیا، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے، آپ نے فرمایا: مت روؤ، یا فرمایا: کیوں روتی ہو؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے ۔
Jabir said: "My father was brought on the day of Uhud and he had been mutilated. He was placed in front of the Messenger of Allah covered with a cloth. I wanted to uncover him but my people forbade m3e to do so. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that he was lifted up, he heard the voice of a woman weeping. He said: Who is this? They said: This is the daughter of Amr, or the sister of Amr. He said: Do not weep, or She should not weep, for the angels kept on sHading him with their wings until he was lifted up,""
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1842
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے اسے (اپنی گود میں) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ ﷺ کے سامنے ہی مرگئی، ام ایمن ؓ رونے لگیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول ﷺ تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول ﷺ (خود) رو رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When a young daughter of the Messenger of Allah was dying, the Messenger of Allah picked her up and held her to his chest, then he put his hand on her, and she died in front of the Messenger of Allah. Umm Ayman wept and the Messenger of Allah said Oh Umm Ayman, do you weep while the Messenger of Allah is with you? She said: Why shouldnt I weep when the Messenger of Allah is weeping." So the Messenger of Allah said "Verily, I am not weeping. Rather it is compassion. Then the Messenger of Allah said: The believer is fine whatever the situation; even when his soul is being pulled from his body and he praises Allah, the Mighty and Sublime"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1843
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی وفات پر رونے لگیں، اور کہنے لگیں: ہائے، ابا جان! آپ اپنے رب سے کس قدر قریب ہوگئے، ہائے، ابا جان! مرنے کی خبر ہم جبرائیل (علیہ السلام) کو دے رہے ہیں، ہائے، ابا جان! آپ کا ٹھکانا جنت الفردوس ہے۔
It was narrated from Anas that Fatimah wept for the Messenger of Allah when he died. She said: "O my father, how close he is now to his Lord! O my father, we announce the news (of his death) to Jibril! O my father, Jannat Al-Firdawas is now his abode!"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1844
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٨٣ (٤٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٥ (١٦٣٠)، مسند احمد ٣/١٩٧ (صحیح )
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کردیئے گئے، میں ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانے اور رونے لگا، لوگ مجھے روک رہے تھے، اور رسول اللہ ﷺ نہیں روک رہے تھے، میری پھوپھی (بھی) ان پر رونے لگیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان پر مت روؤ، فرشتے ان پر برابر اپنے پروں سے سایہ کیے رہے یہاں تک کہ تم لوگوں نے اٹھایا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that his father was killed on the day of Uhud. He saide: "I started to uncover his face, weeping. The people told me not to do that but the Messenger of Allah did not forbid me. My paternal aunt started to weep, and the Messenger of Allah said: Do not weep, for angels kept on sHading him with their wings until you lifted him up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1845
Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہو رہا ہے، رہیں وہ روایتیں جن میں رونے سے منع کیا گیا ہے تو وہ اس رونے پر محمول کی جائیں گی جس میں بین اور نوحہ ہو۔
جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن ثابت ؓ کی عیادت (بیمار پرسی) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آگئی ہے، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا (لیکن) انہوں نے (کوئی) جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اناللہ وانا اليہ راجعون پڑھا، اور فرمایا: اے ابو ربیع! ہم تم پر مغلوب ہوگئے (یہ سن کر) عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہوجائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے ۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! (یہ) واجب ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مرجانا ، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے (کیونکہ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کرلیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت (کی) سات (قسمیں) ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مرجائے وہ شہید ہے ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah bin Atik that Atik bin Al-Harith who was the grandfather of Abdullah bin Abdullah, his mothers fathr told him that the Jabir bin "Atik told him that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to visit Abdullah bin Thabit (when he was sick) and found him very close to death. He called out to him and he did not respond, so the Messenger of Allah said: "Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return," and said: "We wanted you to live but we were overtaken by the decree of Allah, O Abu Ar-Rabi." The women screamed and wept, and Ibn "Atik started telling them to quiet. The Messenger of Allah said: "Leave them; when the inevitable comes, no one should weep." They said: "What is the inevitable, O Messenger of Allah?" He said: "Death." His daughter said: "I had hoped that you would become a martyr, for you had prepared yourself for it." The Messenger of Allah said: "Allah, the Mighty and Sublime, has rewarded him according to his intention. What do you think martyrdom is?" They said: "Being killed for the sake of Allah." The Messenger of Allah said: "Martyrdom is of seven types besides being killed for the sake of Allah. The one who dies of the plague is a martyr; the one who is crushed by a falling building is a martyr; the one who is crusheds by a falling building is a martyr; the one who dies of pleurisy is a martyr; the one who dies of pleurisy is a martyr; the one who is burned to death is a martyr, and the woman who dies in pregnancy is a martyr."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1846
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن ثابت کی کنیت ہے مطلب یہ ہے کہ تقدیر ہمارے ارادے پر غالب آگئی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ١٥ (٣١١١)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٧ (٢٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣١٧٣)، موطا امام مالک/الجنائز ١٢ (٣٦)، مسند احمد ٥/٤٤٦، ویأتی عند المؤلف فی الجھاد ٤٨ (بأرقام: ٣١٩٦، ٣١٩٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کے مرنے کی خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھے (اور) آپ (کے چہرے) پر حزن و ملال نمایاں تھا، میں دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی (اتنے میں) ایک شخص آیا اور کہنے لگا: جعفر (کے گھر) کی عورتیں رو رہی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: جاؤ انہیں منع کرو ، چناچہ وہ گیا (اور) پھر (لوٹ کر) آیا اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا (لیکن) وہ نہیں مانیں، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں منع کرو (پھر) وہ گیا (اور پھر لوٹ کر آیا، اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا (لیکن) وہ نہیں مان رہی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ، عائشہ ؓ نے کہا: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے، تو اللہ کی قسم! نہ تو رسول اللہ ﷺ کو پریشان کرنا چھوڑ رہا ہے، اور نہ تو یہی کرسکتا ہے (کہ انہیں سختی سے روک دے) ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: When news of the death of Zaid bin Harithah, Jafar bin Abi Talib and Abdullah bin Rawahah was announced, the Messenger of Allah sat down and it could be seen that he was grieving. I was looking through a crack in the door, and a man came and said: Jafars womenfolk are weeping. The Messenger of Allah said: Go and prevent them. He went away, then he came back, and said: I told them not to do that, but they refused to stop; He said: Go and prevent them; He went away then he came back, and said: I told them not to do that, but they refused to stop. He said: Throw dust in their mouths." Aishah said: "I said: May Allah rub his nose in the dust, the one who is over there! You did not leave the Messenger of Allah alone but you were not going to do (what he told you to do).""
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1847
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ تو بار بار شکایات کر کے رسول اللہ ﷺ کو پریشان کرنے سے بھی باز نہیں آتا ہے، اور نہ یہی کرتا ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ کر عورتوں کو رونے سے منع کر دے۔
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar, from Umar, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The deceased is punished due to the weeping of his family for him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1848
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین ؓ کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
It was narrated that Abdullah bin Subaih said: "I heard Muhammad bin Sirin say: It was mentioned in the presence of Imran bin Husain that the deceased is punished due to the weeping of the living. Imran said: "The Messenger of Allah said it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1849
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
It was narrated that Ibn Shihab said: "Salim said: I heard Abdullah bin Umar say: Umar said: The Messenger of Allah said: The deceased is punished due to his familys weeping for him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1850
قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے۔
It was narrated from Hakim bin Qais, that Qais bin Asim said: "Do not wail over me, for no one wailed over the Messenger of Allah." This is an abridgment.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1851
Notes · وضاحت
١ ؎: میت پر اس کے اوصاف بیان کر کے چلا چلا کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، تو عورتوں نے کہا: اللہ کے رسول! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں (نوحہ کرنے میں) ہماری مدد کی ہے، تو کیا ہم ان کی مدد کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں (نوحہ پر) کوئی مدد نہیں ۔
It was narrated from Anas that: when the Messenger of Allah accepted the womens oath of allegiance, he accepted their pledge that they would not wail (over the death). They said: "O Messenger of Allah, there are women who helped us to mourn during the Jahiliyyah should we help them to mourn?" The Messenger of Allah said: "There is no helping to mourn in Islam."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1852
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا: مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، (یہ بات عقل میں آنے والی نہیں) ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا، اور تو جھوٹا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Imran bin Husain said: "The deceased is punished due to his familys wailing for him." A man said to him: "A man died in Khurasan and his family wailed for him here; will he be punished due to his familys wailing?" He said: "The Messenger of Allah spoke the truth and you are a liar."
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1854
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی جواب ہے اس شخص کا جو حدیث کے ہوتے ہوئے عقل اور قیاس کے گھوڑے دوڑائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٨١٠) (صحیح) (اس سند میں ” ہشیم “ اور ” حسن بصری “ مدلس ہیں، مگر پچھلی سند (١٨٥٠) سے یہ روایت صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: انہیں (ابن عمر کو) غلط فہمی ہوئی ہے (اصل واقعہ یوں ہے) رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا: اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (فاطر: ١٨ ) ۔
It was narrated that Ibn Umar said; "The Messenger of Allah said: The deceased is punished due to his familys weeping over him; Mention of that was made to Aishah and she said: He is wrong; rather the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a grave and said: The occupant of this grave is being punished and his family are weeping for him." Then she recited: And no bearer of burdens shall bear anothers burden.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1855
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سنا جب ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو عائشہ ؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت کرے، سنو! انہوں نے جھوٹ اور غلط نہیں کہا ہے، بلکہ وہ بھول گئے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے (اصل بات یہ ہے) رسول اللہ ﷺ ایک یہودیہ عورت (کی قبر) کے پاس سے گزرے جس پر (اس کے گھر والے) رو رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
It was narrated from Amrah that she heard Aishah say: , when she was told that Ibn Umar said that the deceased is punished due to the weeping of the living for him, Aishah said: "May Allah forgive Abu Abdur-Rahman; he is not lying, but he has forgotten or made a mistake. The Messenger of Allah passed by a (deceased) Jewish woman for whom people were weeping and he said: They are weeping for her and she is being punished."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1856
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
Ibn Abbas said: "Aishah said: Rather the Messenger of Allah said: Allah, the Mighty and Sublime increases the punishment of the disbeliever due to some of his familys weeping for him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1857