Sunan An Nasai 1827

جنائز کے متعلق احادیث

1827Sunan An Nasai

مرنے والے کو موت کے وقت سکھلانا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا إله إلا اللہ کی تلقین کرو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah said: Prompt your dying ones to say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1826
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد ہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں، ان سے پڑھنے کے لیے نہ کہا جائے کیونکہ موت کے شدت سے گھبراہٹ میں جھنجھلا کر وہ کہیں اس کلمہ کا انکار نہ کر دے، لیکن البانی صاحب (رح) کے نزدیک تلقین کا مطلب یہی ہے کہ اس سے لا إله إلا الله پڑھنے کے لیے کہا جائے، تفصیل کے لیے دیکھئیے احکام الجنائز للالبانی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١ (٩١٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٢٠ (٣١١٧)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣ (١٤٤٥)، مسند احمد ٣/٣، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٣) (صحیح )