نمازوں کے اوقات کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 6 · 133 hadiths · Page 1 of 7

495Sunan An Nasai

کسی نے قصدا ایک جانب چہرہ کیا پھر صیحح علم ہوا تو بھی نماز ہوجائے گی

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُعُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کردی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائی ١ ؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود ؓ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔

It was narrated from Ibn Shihab that ‘Umar bin ‘ Abdul Aziz delayed the ‘Asr prayer a little. ‘Urwah said to him: “Jibril came down and led the Messenger of Allah ﷺ in prayer.” ‘Umar said: “Watch what you are saying, ‘Urwah!” He said: “I heard Bashir bin Abi Mas’ud say: ‘I heard Abi Mas’ud say: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Jibril came down and led me in prayer, and I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him — and he counted off five prayers on his fingers.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 494
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے عروہ کا مقصود یہ تھا کہ نماز کے اوقات کا معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے، اس کے اوقات کی تحدید کے لیے جبرائیل (علیہ السلام) آئے، اور انہوں نے عملی طور پر نبی اکرم ﷺ کو اسے سکھایا، اس لیے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢١)، بدء الخلق ٦ (٣٢٢١)، المغازي ١٢ (٤٠٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢ (٣٩٤)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١ (٦٦٨)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٧)، مسند احمد ٤/١٢٠، ٥/٢٧٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢ (١٢٢٣) (صحیح )
496Sunan An Nasai

ظہر کا اول وقت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ: كَمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ، فَقَالَ: أَبِي يَسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَلَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا. قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، قَالَ: كَانَيُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: وَكَانَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُهُ فَيَعْرِفُهُ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.

سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ ابوبرزہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے (سیار بن سلامہ سے) پوچھا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: (میں نے اسی طرح سنا ہے) جس طرح میں اس وقت آپ کو سنا رہا ہوں، میں نے اپنے والد سے سنا وہ (ابوبرزہ سے) رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ آدھی رات تک عشاء کی تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر سیار سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ ظہر اس وقت پڑھتے جس وقت سورج ڈھل جاتا، اور عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی (عصر پڑھ کر) مدینہ کے آخری کنارہ تک جاتا، اور سورج زندہ رہتا ١ ؎ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے مغرب کا کون سا وقت ذکر کیا، اس کے بعد میں پھر ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ فجر پڑھتے تو آدمی پڑھ کر پلٹتا اور اپنے ساتھی کا جسے وہ پہچانتا ہو چہرہ دیکھتا تو پہچان لیتا، انہوں نے کہا: آپ ﷺ فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے تھے۔

Shu’bah said: “Sayyar bin Salamah, narrated to us, he said: ‘I heard my father ask Abu Barzah about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ .’ I said: ‘Did you really hear him?’ He said: ‘As I can hear you now.’ He said: ‘I heard my father ask about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ .‘ He said: ‘He would not mind if he delayed it — meaning ‘Isha’ until midnight, and he did not like to sleep before it or speak after it.” Shu’bah said: “Then I met him later on and asked him. He said: ‘He used to pray Zuhr when the sun had passed its zenith, and (he would pray) ‘Asr and a man could walk to the farthest point in Al-Madinah and the sun would still be clear and hot. And Maghrib, I do not know the time he mentioned.’ After that I met him and asked him, and he said: ‘He used to pray Fajr then after the prayer a man could regarding it, sitting next to him, look at the face of someone he knew and he could recognize it.’ He said: ‘And he used to recite in it between sixty and one hundred (verses).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 495
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زرد نہیں پڑتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١١ (٥٤١)، ١٣ (٥٤٧)، ٢٣ (٥٦٨)، ٣٨ (٥٩٩)، الأذان ١٠٤ (٧٧١)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣ (٣٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣ (٦٧٤) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١١٦٠٥)، مسند احمد ٤/٤٢٠، ٤٢١، ٤٢٣، ٤٢٤، ٤٢٥، سنن الدارمی/الصلاة ٦٦ (١٣٣٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٢٦، ٥٣١ (صحیح )
497Sunan An Nasai

ظہر کا اول وقت

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے انہیں ظہر پڑھائی۔

It was narrated from Az Zuhri he said: “Anas told me that the Messenger of Allah ﷺ went out when the sun had passed its zenith, and led them in Zuhr prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 496
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥)، وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری عن أنس بن مالک: صحیح البخاری/المواقیت ١١ مطولاً (٥٤٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٧ (٢٣٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣ (١٢٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣) (صحیح )
498Sunan An Nasai

ظہر کا اول وقت

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا. قِيلَ لِأَبِي إِسْحَاقَ: فِي تَعْجِيلِهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.

خباب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ١ ؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی) ۔

It was narrated that Khabbab said: “We complained to the Messenger of Allah ﷺ about how hot the sand was, but he did not respond to our complaint.” It was said to Abu Is (one of the narrators): “Did they complain regarding his praying it early?” He said: “Yes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 497
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظہر تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی، جیسا کہ مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٩)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ٣٥١٣)، مسند احمد ٥/١٠٨، ١١٠ (صحیح )
499Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز ظہر میں جلدی کرنے کا حکم

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ.

حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ (ظہر سے پہلے) جب کسی جگہ اترتے ١ ؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ٢ ؎۔

Hamzah Al-’A’idhi said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘When the Prophet ﷺ halted, he would not move on until he had prayed Zuhr.’ A man said: ‘Even if it was the middle of the day?’ He said:‘Even if it was the middle of the day.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 498
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے اترتے، جیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ ٢ ؎: مراد زوال کے فوراً بعد ہے، کیونکہ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٣ (١٢٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥)، مسند احمد ٣/١٢٠، ١٢٩ (صحیح )
500Sunan An Nasai

سردی کے موسم میں نماز ظہر میں جلدی کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ نماز ١ ؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ٢ ؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔

Khalid bin Dinar Abu Khaldah said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘When it was hot, the Messenger of Allah ﷺ would wait until it cooled down to pray, and when it was cold he would hasten to pray.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 499
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی روایت میں کسی راوی نے صلاة کی تفسیر جمعہ سے کی ہے، کیونکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ کسی سائل نے انس ؓ سے جمعہ ہی کے بارے میں پوچھا تھا (فتح الباری) مؤلف نے اس کے مطلق لفظ الصلاة سے استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ جمعہ اور ظہر کا وقت معتاد ایک ہی ہے۔ ٢ ؎: یعنی گرمی کی شدت کے سبب اس کے معتاد وقت سے اسے اتنا مؤخر کرتے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہوجاتا کہ اس میں چل کر لوگ مسجد آسکیں، اور گرمی کی شدت کم ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٧ (٩٠٦)، وفیہ ” یعنی الجمعة “، (تحفة الأشراف: ٨٢٣) (صحیح )
501Sunan An Nasai

جس وقت گرمی کی شدت ہو تو نماز ظہر ٹھنڈے وقت ادا کرنے کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If it is very hot, wait until it cools down before you pray, for intense heat is a breeze from Hell.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 500
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے، یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے اس لیے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو اور احتیاط کرو۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٤٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٤ (٦٧٧)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٦)، مسند احمد ٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٣٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠٠، ٤١١، ٤٦٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٤ (١٢٤٣)، والرقاق ١١٩ (٢٨٨٧)، وعن طریق أبی سلمة بن عبدالرحمن عن أبی ہریرة، (تحفة الأشراف: ١٥٢٣٧) (صحیح )
502Sunan An Nasai

جس وقت گرمی کی شدت ہو تو نماز ظہر ٹھنڈے وقت ادا کرنے کا حکم

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَأَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، يَرْفَعُهُ، قال: أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ۔

It was narrated from Abu Musain a Marfu report: “Wait until it cools down to pray Zuhr, for the heat you experience is a breeze from Hell.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 501
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٣) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ثابت بن قیس نخعی “ لین الحدیث ہیں )
503Sunan An Nasai

نماز ظہر کا آخر وقت کیا ہے؟

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ رَأَى الظِّلَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ شَفَقُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى بِهِ الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ قَلِيلًا، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ صَلَاتِكَ أَمْسِ وَصَلَاتِكَ الْيَوْمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، تو انہوں نے نماز فجر اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی، اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب انہوں نے سایہ کو اپنے مثل دیکھ لیا، پھر مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہوگیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق یعنی رات کی سرخی ختم ہوگئی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن آئے، اور آپ کو فجر اس وقت پڑھائی جب تھوڑی روشنی ہوگئی، پھر ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہوگیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل ہوگیا، پھر مغرب (دونوں دن) ایک ہی وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہوگیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب رات کا ایک حصہ گزر گیا، پھر کہا: نمازوں کا وقت یہی ہے تمہارے آج کی اور کل کی نمازوں کے بیچ میں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: This is ‘Jibril, peace be upon you, he came to teach you your religion. He prayed ‘ub when the dawn appeared, and he prayed uhr when the sun had (passed its zenith), and he prayed ‘Asr when he saw that the shadow of a thing was equal to its height, then he prayed Maghrib when the sun had set and it is permissible for the fasting person to eat. Then he prayed ‘Isha’ when the twilight had disappeared. Then he came to him the following day and prayed Subh when it had got a little lighter, then he prayed Zuhr when the shadow of a thing was equal to its height, then he prayed ‘Asr when the shadow of a thing was equal to twice its height, then he prayed Maghrib at the same time as before, then he prayed ‘Isha’ when a short period of the night had passed. Then he said: ‘The prayer is between the times when you prayed yesterday and the times when you prayed today.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 502
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٥) (حسن )
504Sunan An Nasai

نماز ظہر کا آخر وقت کیا ہے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَذْرَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: كَانَقَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي الصَّيْفِ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ إِلَى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ، وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ گرمی میں رسول اللہ ﷺ کی ظہر کا اندازہ تین قدم سے پانچ قدم کے درمیان، اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم کے درمیان ہوتا۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Prophet ﷺ prayed Zuhr when the length of (a person’s shadow) was between three and five feet in summer, and between five and seven feet in winter.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 503
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٨٦) (صحیح )
505Sunan An Nasai

نماز عصر کے اول سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: صَلِّ مَعِي فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ كَانَ قُبَيْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: ثُمَّ قَالَ: فِي الْعِشَاءِ أُرَى إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: تم میرے ساتھ نماز پڑھو ، تو آپ ﷺ نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہوگیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہوگیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔

It was narrated that Jabir said: “A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the times of prayer. He said: ‘Pray with me.’ So he prayed Zuhr when the sun had passed its zenith, ‘Asr when the shadow of a thing was equal to its height, Maghrib when the sun had set and ‘Isha’ when the twilight had disappeared.” He said: “Then he prayed Zuhr when the shadow of a man was equal in length to his height, ‘Asr when the length of a man’s shadow was twice his height, and Maghrib just before the twilight disappeared.” (One of the narrators) ‘Abdullah bin Al-Harith said: “Then he said: ‘With regard to ‘Isha’ I think it is up to one-third of the night.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 504
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢ (٣٩٥) (تعلیقا ومختصراً )، (تحفة الأشراف: ٢٤١٧)، مسند احمد ٣/٣٥١ (صحیح )
506Sunan An Nasai

نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed ‘Asr when the sun was in her room and the shadow had not appeared on her wall. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 505
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢)، ١٣ (٥٤٥)، الخمس ٤ (٣١٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ ٦ (١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٥)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٢) (صحیح )
507Sunan An Nasai

نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر پڑھتے تھے، پھرجانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔

It was narrated from Anas (RA) : “The Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr, then a person could go to Quba’.” One of them said: “And he would come to them when they were praying.” The other said: “And the sun was still high.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 506
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٣ (٥٤٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (١٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠٢) (صحیح )
508Sunan An Nasai

نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray ‘Asr when the sun was still high and bright, and a person could go to Al-‘Awali when the sun was still high.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 507
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤٠٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، مسند احمد ٣/ ٢٢٣ (صحیح )
509Sunan An Nasai

نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں عصر پڑھاتے اور سورج سفید اور بلند ہوتا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to lead us in ‘Asr prayer when the sun was still bright and high.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 508
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٧١٠)، مسند احمد ٣/١٣١، ١٦٩، ١٨٤، ٢٣٢ (صحیح الإسناد )
510Sunan An Nasai

نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، قُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي.

ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے، یہاں تک کہ انس بن مالک ؓ کے پاس آئے، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے پوچھا: میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی، یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے۔

It was narrated that Abu Bakr (RA) bin ‘Uthman bin Sahl bin Hunaif said: “I heard Abu Umamah bin Sahl say: ‘We prayed Zuhr with ‘Umar bin ‘ Abdul Aziz (RA) , then we went out and entered upon Anas bin Malik (RA), and we found him praying ‘Asr.” I said: “uncle, what is this prayer that you prayed?” He said: “Asr; this is the prayer of the Messenger of Allah ﷺ that we used to pray with him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 509
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المواقیت ١٣ (٥٤٩)، صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢٣)، (تحفة الأشراف: ٢٢٥) (صحیح )
511Sunan An Nasai

نماز عصر میں جلدی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قال: صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا: أَصَلَّيْتُمْ ؟ قُلْنَا: صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ، فَقِالُوا لَهُ: عَجَّلْتَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ.

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی، پھر انس بن مالک ؓ کے پاس آئے تو انہیں (بھی) نماز پڑھتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا: تم نماز پڑھ چکے ہو؟ ہم نے کہا: (ہاں) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو عصر پڑھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے جلدی پڑھ لی، انہوں نے کہا: میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Abu Salamah said: “We prayed at the time of ‘Umar bin ‘ Abdul Aziz, then we went to Anas bin Malik (RA) and found him praying. When he finished he said to us: ‘Have you prayed?’ We said: ‘We prayed Zuhr.’ He said: ‘I prayed ‘Asr.’ They said: ‘You have prayed early.’ He said: ‘Rather I prayed as I saw my companions pray.” (Hasan)

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 510
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧١٨) (حسن الإسناد )
512Sunan An Nasai

نماز عصر میں تاخیر کرنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ؟ قُلْنَا: لَا، إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، قَالَ: فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، جَلَسَ يَرْقُبُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا.

علاء کہتے ہیں کہ وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک ؓ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں، تو انہوں نے کہا: تو عصر پڑھ لو، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی، جب ہم پڑھ چکے تو انس ؓ کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوجائے، (غروب کے قریب ہوجائے) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے ۔

Al-’Ala’ narrated to us that he entered upon Anas bin Malik (RA) in his house in Al-Basrah, when he had finished Zuhr, and his house was beside the Masjid. “When we entered upon him, he said: ‘Have you prayed ‘Asr?’ We said: ‘No, we have just finished Zuhr.’ He said: ‘Pray ‘Asr.’ So we got up and prayed, and when we finished he said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “That is the prayer of the hypocrite: he sits and delays ‘Asr prayer until (the sun) is between the horns of the Shai then he gets up and pecks four (Rak’ahs) in which he only remembers Allah a little.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 511
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٦ (١٦٠)، موطا امام مالک/القرآن ١٠(٤٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢)، مسند احمد ٣/١٠٢، ١٠٣، ١٤٩، ١٨٥، ٢٤٧ (صحیح )
513Sunan An Nasai

نماز عصر میں تاخیر کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “The one who misses Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 512
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٩)، مسند احمد ٢/٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٧ (١٢٦٦) (صحیح )
514Sunan An Nasai

نماز عصر میں تاخیر کرنا

أخبرنا قتيبة عن مالك عن نافع عن ابن عمر - رضى الله عنهما - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالالذي تفوته صلاة العصر فكأنما وتر أهله وماله.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that Jibril came to the Prophet ﷺ to teach him the times of prayer. Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ and he prayed Zuhr when the sun had passed its zenith. Then he came to him when the shadow of a person was equal to his height, and did as he had done before; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed Asr. Then Jibril came to him when the sun had set; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed Maghrib. Then he came to him when the twilight had disappeared; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed ‘Isha’. Then he came to him when dawn broke; Jibril went forward, with the Messenger of Allah ﷺ behind him and the people behind the Messenger of Allah ﷺ , and he prayed Al-Ghadah) Then he came to him on the second day when a man’s shadow was equal to his height, and did as he had done the day before, he prayed Zuhr. Then he came to him when the shadow of a man was twice his height, and did what he had done the day before, and prayed ‘Asr. Then he came to him when the sun had set and did what he had done the day before, and prayed Maghrib. Then we slept and got up, and slept and got up again. Then he came to him and did what he had done the day before and prayed ‘lsha’. Then he came to him when the (the light of) dawn was spread (on the horizon) and the stars were still clear in the sky, and he did the same as he had done the day before, and prayed Al-Ghadah. Then he said: ‘The time between these two is the time for prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 512