براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ ﷺ قبلہ (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔
It was narrated that Al-Bara’ said: “We prayed toward Bait Al Maqdis (Jerusalem) with the Messenger of Allah ﷺ for sixteen or seventeen months — Safwan was not sure — then it was changed to the Qiblah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 488
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، تو ایک آدمی جو آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں، (لوگوں نے یہ سنا) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھرگئے ١ ؎۔
It was narrated that Al-Barabin ‘ Azib (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah and prayed toward Bait Al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to face toward the Ka’bah. A man who had prayed with the Prophet ﷺ passed by some of the Ansar and said: ‘I bear witness that the Messenger of Allah ﷺ has been commanded to face toward the Ka’bah’ so they turned to face the Ka’bah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 489
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے خبر واحد جو ظنی ہے سے قرآن سے ثابت حکم قطعی کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نسخ کے علم سے پہلے منسوخ کے مطابق جو عمل کیا گیا ہو وہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٨٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ٣٠ (٤٠)، الصلاة ٣١ (٣٩٩)، تفسیر البقرة ١٢ (٤٤٨٦)، أخبار الآحاد ١ (٧٢٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (٣٤٠)، تفسیر البقرة (٢٩٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٥٦ (١٠١٠)، مسند احمد ٤/٢٨٣، ویأتي عند المؤلف في القبلة ١ (برقم: ٧٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نفل پڑھتے تھے، وہ چاہے جس طرف متوجہ ہوجاتی، نیز آپ اس پر وتر (بھی) پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray voluntary prayers (Usabbih) while riding his mount, facing whatever direction it was facing, and he would pray Witr likewise, but he would not offer the prescribed prayers on it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 490
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر (نفل) نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے، اسی سلسلہ میں یہ آیت کریمہ: فأينما تولوا فثم وجه اللہ تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے (البقرہ: ١١٥ ) نازل ہوئی۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray while on his animal when he was coming back from Makkah to Madinah. Concerning this, the verse was revealed: So wherever you turn (yourselves or your faces) there is the Face of Allah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 491
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جس طرف بھی وہ متوجہ ہوتی، مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار نے کہا: اور ابن عمر ؓ بھی ایسا کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray on his mount while on a journey, no matter what direction it was facing.” Malik said: “Abdullah bin Dinar said: ‘And Ibn ‘Umar used to do likewise.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 492
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، موطا امام مالک/سفر ٧ (٢٦)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٨)، مسند احمد ٢/١٣ (٦٦)، ویأتي عند المؤل برقم: ٧٤٤ (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ پر آج رات (وحی) نازل کی گئی ہے، اور آپ کو حکم ملا ہے کہ (نماز میں) کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اسی کی طرف رخ کرلو، (اس وقت) ان کے چہرے شام (بیت المقدس) کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “While the people were in Quba’, praying the Subh prayer, someone came to them and said that revelation had come to the Messenger of Allah ﷺ the night before, and he had been commanded to face the Ka’bah. So they turned around, and they had been facing toward Ash-Sham, but now they turned to face toward the Ka’bah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 493
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح پھرجانے سے لوگ آگے ہوجائیں گے، اور امام لوگوں کے پیچھے ہوجائے گا، إلا یہ کہ یہ کہا جائے کہ پہلے امام مسجد کے پچھلے حصہ میں چلا گیا ہوگا پھر لوگ اپنی جگہ پر گھوم گئے ہوں گے، اس طرح پہلے جو اگلی صف تھی اب وہ پچھلی ہوگئی ہوگی، اور حدیث کا مستفاد یہ ہے کہ جس کو حالت نماز میں صحیح قبلہ کے بارے میں علم ہوجائے وہ بھی اسی طرح قبلہ رخ ہوجائے۔