نماز کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 5 · 46 hadiths · Page 2 of 3

469Sunan An Nasai

نماز سے متعلق گرفت ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَجُلًا، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ، ذَرْهَا كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ.

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Ayyub that a man said: “Messenger of Allah ﷺ , tell me of a deed that will gain me admittance to Paradise.” The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Worship Allah and do not associate anything with Him, establish the ‘salah, pay the Zakah and uphold the ties of kinship. Let go!” — as if he was riding his camel. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 468
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اعرابی سامنے آ کر اونٹنی کی باگ تھام کر پوچھ رہا تھا آپ ﷺ جواب دے چکے تو آپ نے اس سے فرمایا: اونٹنی کی باگ چھوڑ دے اسے جانے دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١ (١٣٩٦)، والأدب ١٠ (٥٩٨٣، ٥٩٨٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٤ (١٣) مطولاً، (تحفة الأشراف: ٣٤٩١)، مسند احمد ٥/٤١٧، ٤١٨ (صحیح )
470Sunan An Nasai

حالت قیام یعنی مقیم ہونے کی حالت میں کس قدر رکعات پڑھنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسًا، قال: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ.

ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Al Munkadir and Ibrahim bin Maisarah, that they heard Anas say: “I prayed Zuhr with the Prophet ﷺ in AI-Madinah, four Rak’ahs, and ‘Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak’ahs.”

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 469
Notes · وضاحت
١ ؎: قصر اس لیے پڑھی کہ آپ حج کے لیے مکہ جا رہے تھے، نہ اس لیے کہ ذوالحلیفہ قصر کی حد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٥ (١٠٨٩)، والحج ٢٤ (١٥٤٧)، ٢٥ (١٥٤٨)، ١١٩ (١٧١٤)، والجہاد ١٠٤ (٢٩٥١)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین ١ (٦٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧١ (١٢٠٢)، والمناسک ٢١ (١٧٧٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٩١ (٥٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٦، ١٥٧٣)، مسند احمد ٣/١١٠، ١١١، ١٧٧، ١٨٦، ٢٣٧، ٢٦٨، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٩) (صحیح )
471Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز ظہر کی کتنی رکعت پڑھنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قال: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: إِلَى الْبَطْحَاءِ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ.

حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔

It was narrated that Al Hakam bin ‘Utaibah said: “I heard Abu Juhaifah say: ‘The Messenger of Allah ﷺ set off at midday, during the time of intense heat’ — (One of the narrators) Ibn Al Muthanna said, to Al-Batha’ — and he performed Wuii and prayed Zuhr, two Rak’ahs, and ‘Asr, two Rak with a short spear (‘Anzah) in front of him. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 470
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٠ (١٨٧)، الصلاة ٩٣ (٤٩٩)، ٩٤ (٥٠١)، المناقب ٢٣ (٣٥٥٣)، مطولاً صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣)، وقد أخرجہ (تحفة الأشراف: ١١٧٩٩)، مسند احمد ٤/٣٠٧، ٣٠٨، ٣٠٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٤٩) (صحیح )
472Sunan An Nasai

فضیلت نماز عصر

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَالْبَخْتَرِيُّ بْنُ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، كُلُّهُمْ سَمِعْوُهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا.

عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Bakr (RA) bin ‘Umarah bin Ruwaibah Ath-Thaqafi that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘He will never enter the Fire, the one who prays before the sun rises and before it sets.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 471
Notes · وضاحت
١ ؎: فجر اور عصر کی نمازوں کا ذکر ان کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ صرف ان نمازوں کی پابندی کرنے والا جہنم سے محفوظ رہے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو ان دونوں کی پابندی کرے گا وہ یقیناً دوسری نمازوں میں بھی کوتاہی نہیں کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٦٣٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٩ (٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧٨)، مسند احمد ٤/١٣٦، ٢٦١ ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٨٨ (صحیح )
473Sunan An Nasai

عصر کی نماز کی حفاظت کی تاکید

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، فَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ. ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، اور کہا: جب اس آیت کریمہ: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى (البقرہ: ٢٨٣ ) پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چناچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، تو انہوں نے مجھے املا کرایا حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين پھر انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Yunus, the freed slave of Aishah (RA) the wife of the Prophet ﷺ said: Aishah (RA) told me to copy a Mu for her, and she said: ‘When you reach this verse, call my attention: Guard strictly the Salawat especially the middle (Al-Wusta) Salah. When I reached it, I called her attention and she dictated to me: ‘Guard strictly the Salawat especially the middle (Al-Wusta) Salah and the ‘Asr prayer, and stand before Allah with obedience.’ Then she said: ‘I heard it from the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 472
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ عصر کے علاوہ کوئی اور صلاۃ ہے إلاّ یہ کہ اسے عطف تفسیری مانا جائے، اور صحیح بھی یہی لگتا ہے کہ اسے نبی اکرم ﷺ نے آیت کی تفسیر کے طور پر ذکر کیا ہوگا، اور اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے آیت کا جزء سمجھ لیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٢٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٠)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٨٢)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٨ (٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٩)، مسند احمد ٦/٧٣، ١٧٨ (صحیح )
474Sunan An Nasai

عصر کی نماز کی حفاظت کی تاکید

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْعَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (جنگ خندق کے موقع پر) فرمایا: ان لوگوں (کافروں) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کردیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ۔

It was narrated from ‘Ali that the Prophet ﷺ said: “They distracted us from Salatul- Wusta (the middle prayer) until the sun went down.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 473
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩٨ (٢٩٣١) مطولاً، المغازي ٢٩ (٤١١١) مطولاً، تفسیر البقرة ٤٢ (٤٥٣٣)، الدعوات ٥٨ (٦٣٩٦)، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٧)، ٣٦ (٦٢٧) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤٠٩) مطولاً، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٨٤) مطولاً، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٢)، مسند احمد ١/٧٩، ١٢٢، ١٣٥، ١٣٧، ١٤٤، ١٥٢، ١٥٣، ١٥٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢٨ (١٢٦٨) (صحیح )
475Sunan An Nasai

جو شخص نماز عصر ترک کرے اس کا حکم

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قال: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ.

ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ ؓ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Qilabah said: “Abu Al-Malih narrated to me: ‘We were with Buraidah on a cloudy day and he said: “Pray early, for the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever abandons Salat Al-’Asr, his good deeds will perish.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 474
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اس معصیت کی سنگینی کا اظہار مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٥ (٥٥٣)، ٣٤ (٥٩٤)، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: ٢٠١٣)، مسند احمد ٥/٣٤٩، ٣٥٠، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦١ (صحیح )
476Sunan An Nasai

مقیم ہونے کی حالت میں نماز عصر کتنی ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورة السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “We used to estimate how long the Messenger of Allah ﷺ stood when praying in Zuhr and ‘A We estimated that he stood in Zuhr for as long as it takes to recite thirty verses, as long as Sarat As-Sajdah in the first two Rak’ahs, and half that in the last two. And we estimated that he stood for as long in the first two Rak’ahs of ‘Asr as he stood in the last two Rak ‘ahs of uhr, and we estimated that he stood half as long as that in the last two Rak’ahs of ‘Asr.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 475
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٣٠ (٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٤)، مسند احمد ٣/٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ٦٢ (١٢٢٥، ١٢٢٦) (صحیح )
477Sunan An Nasai

مقیم ہونے کی حالت میں نماز عصر کتنی ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقُومُ فِي الظُّهْرِ فَيَقْرَأُ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز ظہر میں قیام کرتے تھے تو ہر رکعت میں تیس آیت کے بقدر پڑھتے تھے، پھر عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں پندرہ آیت پڑھنے کے بقدر قیام کرتے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri ‘said: “The Messenger of Allah ﷺ used to stand in Zuhr and recite the equivalent of thirty verses in each Rak’ah, then in the first two Rak’ahs of ‘Asr he would stand for the equivalent of fifteen verses.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 476
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٩)، مسند احمد ٣/٢ (صحیح )
478Sunan An Nasai

نماز سفر میں نماز عصر کی کتنی رکعت ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ prayed Zuhr in Al-Madinah, four Rak’ahs, and he prayed ‘Asr in Dhul-Hulaifah, two Rak’ahs. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 477
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢٤ (١٥٤٧)، ٢٥ (١٥٤٨)، ٢٧ (١٥٥١)، ١١٩ (١٧١٤، ١٧١٥)، الجہاد ١٠٤ (٢٩٥١)، ١٢٦ (٢٩٨٦)، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین (٦٩٠)، سنن ابی داود/المناسک ٢٤ (١٧٩٦)، الضحایات (٢٧٩٣)، مسند احمد ٣/ ١١١، ١٦٤، ١٨٦، ٢٦٨ (صحیح )
479Sunan An Nasai

نماز سفر میں نماز عصر کی کتنی رکعت ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّعِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ. قَالَ عِرَاكٌ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ. خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ.

نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔

‘Irak bin Malik narrated that Nawfal bin Muawiyah told him that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever misses ‘Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” ‘Irak said: ‘And ‘Abdullah bin ‘Umar informed me that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: ‘Whosoever misses ‘Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” (Sahih) Yazid bin Abl Habib contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 478
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، تحفة الأشراف: (١١٧١٧)، وحدیث عراک بن مالک عن عبداللہ بن عمر قد تفرد بہ النسائی (أیضاً )، تحفة الأشراف: (٧٣٢٠)، وقد أخرجہ عن طریق مالک عن نافع عن عبداللہ بن عمر: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٢)، مواقیت ١٤ (٥٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٥)، طا/وقوت الصلاة ٥ (٢١)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٥)، مسند احمد ٢/٨، ١٣، ٢٧، ٤٨، ٥٤، ٦٤، ٧٥، ٧٦، ١٠٢، ١٣٤، ١٤٥، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٧ (١٢٦٧) (صحیح) یزید نے (آنے والی روایت میں) جعفر کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔ وضاحت ١ ؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں اس طرح کہ جعفر کی روایت میں ہے کہ نوفل نے عراک سے بیان کی ہے اور یزید کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا، دونوں میں فرق واضح ہے پہلی صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے خود سنا ہے، اور دوسری صورت سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں واسطہ ہے، متن میں مخالفت اس طرح ہے کہ جعفر کی روایت میں ” من فاتته صلاة العصر “ کے الفاظ ہیں، اور یزید کے الفاظ اس طرح ہیں ” من الصلاة صلاة من فاتته “۔
480Sunan An Nasai

نماز سفر میں نماز عصر کی کتنی رکعت ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّنَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ. خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ.

نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہوجائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: یہ عصر کی نماز ہے ۔ محمد بن اسحاق نے (آنے والی روایت میں) لیث کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Irak bin Malik that he heard that Nawfal bin Muawiyah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Among the prayers is a prayer which, if a person misses it, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘It is ‘Asr prayer.” (Sahih) Muhammad bin Ishaq contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 479
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بھی سند اور متن دونوں میں مخالفت ہے، سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے سنا ہے، اور لیث کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا ہے، اور متن میں اس طرح کہ محمد بن اسحاق نے اسے موقوف قرار دیا ہے، اور لیث نے مرفوع قرار دیا ہے، اور وقف اور رفع میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ صحابی کبھی مرفوع روایت کو بصورت فتوی بیان کرتا ہے، اور اسے نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب نہیں کرتا، اور کبھی اسے مرفوعاً روایت کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٩ (صحیح )
481Sunan An Nasai

نماز مغرب سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قال: سَمِعْتُ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ.

نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہوجائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ عصر کی نماز ہے ۔

It was narrated that ‘Irak bin Malik said: “I heard Nawfal bin Muawiyah say: ‘There is a prayer which if a person misses it, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘It is ‘Asr prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 480
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٩ (صحیح )
482Sunan An Nasai

نماز مغرب سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قال: رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى يَعْنِي الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ.

سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی، اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ابن عمر ؓ نے ان کے ساتھ اسی جگہ میں ایسا ہی کیا، اور ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (بھی) اس جگہ میں ایسا ہی کیا تھا۔

It was narrated that Salamah bin Kuhail said: “I saw Saeed bin Jubair in Jam’. He stood and prayed Maghrib, three Rak’ahs, then he stood and prayed ‘Isha’, two Rak’ahs. Then he mentioned that Ibn ‘Umar had done the same thing in that place, and he mentioned that the Messenger of Allah ﷺ had done the same thing in that place. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 481
Notes · وضاحت
١ ؎: مزدلفہ کو جمع اس لیے کہتے ہیں کہ آدم و حوّا جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو اسی مقام پر دونوں جمع ہوئے، یا مغرب اور عشاء دونوں نمازیں یہاں جمع کی جاتی ہیں اس لیے اسے جمع کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٨)، سنن ابی داود/الحج ٦٥ (١٩٣٠، ١٩٣١)، سنن الترمذی/الحج ٥٦ (٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٢)، مسند احمد ١/٢٨٠، ٢/٣، ٣٣، ٥٩، ٦٢، ٧٩، ٨١، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٣ (١٥٥٩، ١٥٦٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٨٤، ٤٨٥، ٦٠٧، ٦٥٨، ٣٠٣٣ (صحیح )
483Sunan An Nasai

نماز عشاء کے فضائل

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ. وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ عمر ؓ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کو (اس وقت) پڑھ رہا ہو ، ان دنوں اہل مدینہ کے سوا کوئی اور نماز پڑھنے والا نہیں تھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ delayed ‘Isha’ until ‘Umar called him and said: ‘The women and children have gone to sleep.’ Then the Messenger of Allah ﷺ came out and said: ‘There is no one who is offering this prayer but you.’ And at that time no one used to pray except the people of Al-Madinah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 482
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٢) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: ١٦٦٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٨)، مسند احمد ٦/٣٤، ١٩٩، ٢١٥، ٢٧٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩ (١٢٤٩) (صحیح )
484Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز عشائ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، قال: صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.

حکم کہتے ہیں کہ ہمیں سعید بن جبیر نے مزدلفہ میں ایک اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھائی، پھر ذکر کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے ایسا ہی کیا، اور انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (بھی) ایسا ہی کیا تھا۔

Al-Hakam said: “Saeed bin Jubair led us in prayer in Jam’. (He prayed) Maghrib, three Rak’ahs with an Iqamah, then he said the Taslim, then he prayed ‘Isha’, two Rak’àhs. Then he mentioned that ‘Abdullah bin ‘Umar had done that, and he mentioned that the Messenger of Allah ﷺ had done that.” (Sahih)

صحيح ق بلفظ ثم أقام فصلى العشاء وهو المحفوظصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 483
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ بلفظ ” ثم اقام فصلی یعنی العشاء “ وھو المحفوظ (صحیح )
485Sunan An Nasai

بحالت سفر نماز عشائ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قال: سَمِعْتُسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قال: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَصَلَّى بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي هَذَا الْمَكَانِ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو مزدلفہ میں نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر (دوسری اقامت سے) عشاء کی دو رکعت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جگہ ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔

Salamah bin Kuhail narrated: “I heard Saeed bin Jubair say: ‘I saw ‘Abdullah bin ‘Umar pray in Jam’; he made the Iqamah and prayed Maghrib, three Rak’ahs, then he prayed ‘Jsha’, two Rak’ahs, then he said: ‘This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ do in this place.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 484
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢ (صحیح )
486Sunan An Nasai

فضیلت جماعت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے ١ ؎ باری باری آتے جاتے ہیں، اور فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھا ہوجاتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے پاس رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، ٢ ؎ ہمارے بندوں کو تم کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انہیں نماز کی حالت میں چھوڑا ہے، اور ہم ان کے پاس آئے تھے تو بھی وہ نماز ہی میں مصروف تھے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Angels come to you in succession by night and day, and they meet at Fajr prayer and ‘Asr prayer. Then those who spent the night among you ascend, and He (Allah) will ask them, although He knows best: ‘In what condition did you leave My slaves.’ They will say: ‘We left them when they were praying and we came to them when they were praying.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 485
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں، اور جنہیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے، وہ فرشتوں سے اپنے بندوں کی بابت اس لیے پوچھتا ہے تاکہ فرشتوں پر بھی اہل ایمان کا فضل وشرف واضح ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مواقیت ١٦ (٥٥٥)، بدء الخلق ٦ (٣٢٢٣)، التوحید ٢٣ (٧٤٢٩)، ٣٢ (٧٤٨٦)، صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٦٣٢)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٩)، مسند احمد ٢/٢٥٧، ٣١٢، ٤٨٦ (صحیح )
487Sunan An Nasai

فضیلت جماعت

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماعت کی نماز تمہاری تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے ١ ؎ رات اور دن کے فرشتے نماز فجر میں اکٹھا ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو آیت کریمہ وقرآن الفجر إن قرآن الفجر کان مشهودا ٢ ؎ پڑھ لو (الاسراء: ٢٨ ) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of any one of you offered on his own. The angels of the night and the day meet at Fajr prayer. Recite if you wish: Verily, the recitation of the Qur’an in the early dawn is ever witnessed.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 486
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ٢٥ گنا کا ذکر ہے، اور صحیحین کی ایک روایت میں ٢٧ گنا وارد ہے، اس کی توجیہ اس طرح کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٢٥ گنا بتایا گیا پھر ٢٧ گنا، تو جیسے جیسے آپ کو بتایا گیا آپ نے صحابہ کرام ؓ کو بھی اسی طرح بتلایا، اور بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ کمی و بیشی صلاۃ کے خشوع و خضوع اور صلاۃ کی ہیئت و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: ١٣٢٥٩)، کلہم مقتصرا إلی قولہ ” خمس وعشرین جزائ “ إلا البخاری وأحمد (صحیح )
488Sunan An Nasai

فضیلت جماعت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ.

عمارہ بن رویبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا ١ ؎۔

Abu Bakr (RA) bin ‘Umarah bin Ruwaibah narrated that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘No one will enter the Fire who prays before the sun rises and before it sets.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 487
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کی محافظت کرے گا کیونکہ جو ان دونوں نمازوں کی محافظت کرے گا وہ دیگر فرائض کی بدرجہ اولیٰ محافظت کرے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٢ (صحیح )