Sunan An Nasai 479

نماز کا بیان

479Sunan An Nasai

نماز سفر میں نماز عصر کی کتنی رکعت ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّعِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ. قَالَ عِرَاكٌ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ. خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ.

نوفل بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔

‘Irak bin Malik narrated that Nawfal bin Muawiyah told him that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever misses ‘Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” ‘Irak said: ‘And ‘Abdullah bin ‘Umar informed me that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: ‘Whosoever misses ‘Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth.” (Sahih) Yazid bin Abl Habib contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 478
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، تحفة الأشراف: (١١٧١٧)، وحدیث عراک بن مالک عن عبداللہ بن عمر قد تفرد بہ النسائی (أیضاً )، تحفة الأشراف: (٧٣٢٠)، وقد أخرجہ عن طریق مالک عن نافع عن عبداللہ بن عمر: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٢)، مواقیت ١٤ (٥٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٥)، طا/وقوت الصلاة ٥ (٢١)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٥)، مسند احمد ٢/٨، ١٣، ٢٧، ٤٨، ٥٤، ٦٤، ٧٥، ٧٦، ١٠٢، ١٣٤، ١٤٥، ١٤٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٧ (١٢٦٧) (صحیح) یزید نے (آنے والی روایت میں) جعفر کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔ وضاحت ١ ؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں اس طرح کہ جعفر کی روایت میں ہے کہ نوفل نے عراک سے بیان کی ہے اور یزید کی روایت میں ہے کہ عراک کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوفل بن معاویہ نے کہا، دونوں میں فرق واضح ہے پہلی صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عراک نے نوفل بن معاویہ سے خود سنا ہے، اور دوسری صورت سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں واسطہ ہے، متن میں مخالفت اس طرح ہے کہ جعفر کی روایت میں ” من فاتته صلاة العصر “ کے الفاظ ہیں، اور یزید کے الفاظ اس طرح ہیں ” من الصلاة صلاة من فاتته “۔