ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو فرمایا: اللہ عزوجل نے تم پر حج فرض کیا ہے ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہاں تک اس نے اسے تین بار دہرایا تو آپ نے فرمایا: اگر میں کہہ دیتا ہاں، تو وہ واجب ہوجاتا، اور اگر واجب ہوجاتا تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، تم مجھے میرے حال پر چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھوں ١ ؎، تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے، جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ addressed the people and said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined upon you Hajj.’ A man said: ‘Every year?’ He remained silent until he had repeated it three times. Then he said: ‘If I said yes, it would be obligatory, and if it were obligatory you would not be able to do it. Leave me alone so long as I have left you alone. Those who came before you were destroyed because they asked too many questions and differed with their Prophets علیھم السلام. If I command you to do something then follow it as much as you can, and if I forbid you to do something then avoid it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2619
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ غیر ضروری سوال نہ کیا کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٣ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٧)، مسند احمد (٢/٥٠٨) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (٧٢٨٨)، سنن الترمذی/العلم ١٧ (٢٦٧٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٤٧، ٢٥٨، ٣١٣، ٤٢٨، ٤٤٨، ٤٥٧، ٤٦٧، ٤٨٢، ٤٩٥، ٥٠٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے ، تو اقرع بن حابس تمیمی ؓ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال (حج) فرض ہوجاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ stood up and said: “Allah, Most High, has decreed Hajj for you.” Al-Aqra’ bin Habis At-Tamimi said: “Every year, Messenger of Allah ﷺ ?” But he remained silent, then he said: “If I said yes, it would become obligatory, then you would not hear and obey. Rather it is just one Hajj.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2620
ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کرسکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کرلو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Razin that he said: “Messenger of Allah ﷺ, my father is an old man and he cannot perform Hajj or ‘Umrah, nor can he travel.” He said: “Perform Hajj and ‘Umrah on behalf of your father.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2621
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں بطور نیابت حج و عمرہ کرنے کی تاکید ہے لیکن نائب کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ خود حج کرچکا ہو۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مبرور و مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں اور ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Hajj Al-Mabrur brings no reward other than Paradise, and from one ‘Umrah to another is an expiation for what came in between.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2622
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حج مبرور (مقبول) کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ، اس سے آگے پہلے کی حدیث کے مثل ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس میں کفارة لما بينهما کے بجائے تكفر ما بينهما کا لفظ آیا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “ Al-Hajj Al-Mabrur brings no reward other than Paradise,” The report is the same except that he said, “ expiates for what came in between.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2623
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! اعمال میں سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا ، اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، اس نے پوچھا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: پھر حج مبرور (مقبول) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A man asked the Prophet ﷺ, which deed is best?’ He said: ‘Faith in Allah.’ He said: ‘Then what?’ He said: ‘Jihad in the cause of Allah.’ He said: ‘Then what?’ He said: ‘Then Hajj Al-Mabrur.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2624
Notes · وضاحت
١ ؎: حج مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو بعض کہتے ہیں کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے جملہ شرائط و آداب کا التزام کیا گیا ہو اور ایک قول یہ ہے کہ حج مبرور سے مراد حج مقبول ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد وہ انسان عبادت گزار بن جائے جب کہ اس سے پہلے وہ غافل تھا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Jihad of the elderly, the young, the weak, and women, is Hajj and ‘Umrah.” (Sahih)
حسن وفقرة المرأة صحيحة من حديث عائشةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2626
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٠٠٢)، مسند احمد (٢/٤٢١) (حسن) (شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤١٤ )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (یعنی خانہ کعبہ) کا حج کیا، نہ بیہودہ بکا ١ ؎ اور نہ ہی کوئی گناہ کیا، تو وہ اس طرح (پاک و صاف ہو کر) ٢ ؎ لوٹے گا جس طرح وہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever performs pilgrimage to this House, and does not Yarfuth (utter any obscenity or commit sin), will go back as (on the day) his mother bore him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2627
Notes · وضاحت
١ ؎: رفث: کے اصل معنی ہیں جماع کرنا یہاں مراد فحش گوئی، بیہودگی، اور بیوی سے زبان سے جنسی خواہش کی آرزو کرنا ہے دوران حج چونکہ بیوی سے ہمبستری ممنوع ہے اس لیے اس موضوع پر بیوی سے گفتگو اور دل لگی کی بات بھی ناپسندیدہ ہے اور فسق سے نافرمانی اور لوگوں سے لڑائی جھگڑا کرنا مراد ہے۔ ٢ ؎: یہ پاگیزگی صرف ان صغیرہ گناہوں سے ہوتی ہے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے ورنہ حقوق اللہ سے متعلق بڑے بڑے گناہ اور اسی طرح حقوق العباد سے متعلق کوتاہیاں خالص توبہ اور ادائیگی حقوق کے بغیر معاف نہیں ہوں گی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم نکل کر آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں کیونکہ میں قرآن میں جہاد سے زیادہ افضل کوئی عمل نہیں دیکھتی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے بہتر اور کامیاب جہاد بیت اللہ کا حج مبرور (مقبول) ہے ۔
The Mother of the Believers, Aishah (RA), said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, shall we not go out and fight in Jihad with you, for I do not think there is any deed in the Qur’an that is better than Jihad.’ He said: ‘No. The best and most beautiful (type) of Jihad is Hajj) to the House; Hajj Al-Mabrur.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2628
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ١ ؎، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘From one ‘Umrah to another is an expiation for what comes in between, and Hajj Al Mabrur brings no reward less than Paradise.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2629
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے ۔
Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Hajj and ‘Umrah consecutively; for they remove poverty and sin as the bellows removes impurity from iron.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2630
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Hajj and ‘Umrah consecutively, for they remove poverty and sin as the bellows removes impurity from iron and gold and silver, and Hajj Al Mabrur brings no less a reward than Paradise.” (Hasan)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2631
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر (حج کئے بغیر) مرگئی، اس کا بھائی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ فرمایا: بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں میں ادا کرتا، آپ نے فرمایا: تو اللہ کا قرض ادا کرو وہ تو اور بھی ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman vowed to perform Hajj but she died. Her brother came to the Prophet ﷺ and asked him about that, he said: ‘Do you think that if your sister owed a debt you would pay it off?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Then fulfill the right of Allah, for He is more deserving that His rights should be fulfilled.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2632
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سنان بن سلمہ جہنی ؓ سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ میری ماں مرگئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو اسے کافی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی جانب سے ادا کرتی تو کیا یہ اس کی طرف سے کافی نہ ہوجاتا؟ لہٰذا اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیئے ۔
Ibn ‘Abbas said: “The wife of Sinan bin Salamah Al-Juhani ordered that the question be put to the Messenger of Allah ﷺ about her mother who had died and had not performed Hajj; would it be good enough if she were to perform Hajj on behalf of her mother? He said: ‘Yes. If her mother owed a debt and she paid it off, would that not be good enough? Let her perform Hajj on behalf of her mother.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2633
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے اپنے والد کے بارے میں جو مرگئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman asked the Prophet ﷺ about her father who had died and he did not perform Hajj. He said: “Perform Hajj on behalf of your father.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2634
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ (یعنی دسویں ذی الحجہ) کی صبح کی کو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! حج کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے اس نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں (کر لو) ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman from Khath’am asked the Prophet ﷺ on the morning of the Day of Sacrifice: “Messenger of Allah ﷺ! The command of Allah to His slaves to perform Hajj has come, while my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle. Can I perform Hajj on his behalf?” He said: “Yes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2635
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، نہ وہ حج و عمرہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور نہ ہی سواری پر چڑھ سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کرلو ۔
It was narrated from Abu Razin Al-’Uqayli that he said: “Messenger of Allah ﷺ! My father is an old man who cannot perform Hajj or ‘Umrah, nor can he travel.” He said: “Perform Hajj and ‘Umrah on behalf of your father.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2637
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہوچکا ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں (میں ان کا بڑا بیٹا ہوں) آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو ۔
It was narrated that Abdullah bin Az-Zubair said: "A man from Khatham came to the Messenger of Allah and said: My father is an old man who cannot ride, and the command of Allah to perform Hajj has come. Will it be good enough if I perform Hajj on his behalf? He said: Are you the oldest of his children? He said: Yes. He said: Dont you think that if he owed a debt you would pay it off?, He said: Yes. He said: Then perform Hajj on his behalf.(Daif)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2638
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٢)، مسند احمد ٤/٥، سنن الدارمی/المناسک ٢٤ (١٨٧٨) ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٦٤٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” یوسف “ لین الحدیث ہیں )