مناسک حج سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 22 · 32 hadiths · Page 1 of 2

2621Sunan An Nasai

فرضیت و وجوب حج

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ وَاسْمُهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَقَالَ رَجُلٌ: فِي كُلِّ عَام ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهُ ثَلاثًا، فَقَالَ: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا، ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالشَّيْءِ، فَخُذُوا بِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو فرمایا: اللہ عزوجل نے تم پر حج فرض کیا ہے ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہاں تک اس نے اسے تین بار دہرایا تو آپ نے فرمایا: اگر میں کہہ دیتا ہاں، تو وہ واجب ہوجاتا، اور اگر واجب ہوجاتا تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، تم مجھے میرے حال پر چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھوں ١ ؎، تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے، جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ addressed the people and said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined upon you Hajj.’ A man said: ‘Every year?’ He remained silent until he had repeated it three times. Then he said: ‘If I said yes, it would be obligatory, and if it were obligatory you would not be able to do it. Leave me alone so long as I have left you alone. Those who came before you were destroyed because they asked too many questions and differed with their Prophets علیھم السلام. If I command you to do something then follow it as much as you can, and if I forbid you to do something then avoid it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2619
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ غیر ضروری سوال نہ کیا کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٣ (١٣٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٧)، مسند احمد (٢/٥٠٨) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (٧٢٨٨)، سنن الترمذی/العلم ١٧ (٢٦٧٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٤٧، ٢٥٨، ٣١٣، ٤٢٨، ٤٤٨، ٤٥٧، ٤٦٧، ٤٨٢، ٤٩٥، ٥٠٢) (صحیح )
2622Sunan An Nasai

فرضیت و وجوب حج

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْد، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيّ: كُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ، فَقَال: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ثُمَّ إِذًا لَا تَسْمَعُونَ وَلَا تُطِيعُونَ وَلَكِنَّهُ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے ، تو اقرع بن حابس تمیمی ؓ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال (حج) فرض ہوجاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ stood up and said: “Allah, Most High, has decreed Hajj for you.” Al-Aqra’ bin Habis At-Tamimi said: “Every year, Messenger of Allah ﷺ ?” But he remained silent, then he said: “If I said yes, it would become obligatory, then you would not hear and obey. Rather it is just one Hajj.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2620
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ١ (١٧٢١) مختصرا، سنن ابن ماجہ/ الحج ٢ (٢٨٨٦)، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٦)، مسند احمد (١/٢٥٥، ٢٩٠، ٣٥٢، ٣٧٠، ٣٧١)، سنن الدارمی/المناسک ٤ (١٧٩٥) (صحیح )
2623Sunan An Nasai

عمرہ کے وجوب سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ سَالِمٍ، قَال: سَمِعْتُعَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْن ؟ قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ.

ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کرسکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کرلو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Razin that he said: “Messenger of Allah ﷺ, my father is an old man and he cannot perform Hajj or ‘Umrah, nor can he travel.” He said: “Perform Hajj and ‘Umrah on behalf of your father.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2621
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں بطور نیابت حج و عمرہ کرنے کی تاکید ہے لیکن نائب کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ خود حج کرچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٦ (١٨١٠)، ت الحج ٨٧ (٩٣٠)، ق الحج ١٠ (٢٩٠٦)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٣)، مسند احمد ٤/١٠، ١١، ١٢)، ویأتي عند المؤلف برقم ٢٦٣٨ (صحیح )
2624Sunan An Nasai

حج مبرور کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارِ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاسُهَيْلٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مبرور و مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں اور ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Hajj Al-Mabrur brings no reward other than Paradise, and from one ‘Umrah to another is an expiation for what came in between.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2622
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الحج ٧٩ (١٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة ١ (١٧٧٣)، سنن الترمذی/الحج ٩٠ (٩٣٣)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣ (٢٨٨٨)، ما/الحج ٢١ (٦٥)، مسند احمد ٢/٢٤٦، ٤٦١، ٤٦٢، سنن الدارمی/المناسک ٧ (١٨٣٦) (صحیح )
2625Sunan An Nasai

حج مبرور کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُور، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ، مِثْلَهُ سَوَاءً، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حج مبرور (مقبول) کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ، اس سے آگے پہلے کی حدیث کے مثل ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس میں کفارة لما بينهما کے بجائے تكفر ما بينهما کا لفظ آیا ہے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “ Al-Hajj Al-Mabrur brings no reward other than Paradise,” The report is the same except that he said, “ expiates for what came in between.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2623
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٢٣ (صحیح )
2626Sunan An Nasai

فضیلت حج سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِقَالَ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: ثُمَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! اعمال میں سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا ، اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، اس نے پوچھا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: پھر حج مبرور (مقبول) ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A man asked the Prophet ﷺ, which deed is best?’ He said: ‘Faith in Allah.’ He said: ‘Then what?’ He said: ‘Jihad in the cause of Allah.’ He said: ‘Then what?’ He said: ‘Then Hajj Al-Mabrur.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2624
Notes · وضاحت
١ ؎: حج مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو بعض کہتے ہیں کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے جملہ شرائط و آداب کا التزام کیا گیا ہو اور ایک قول یہ ہے کہ حج مبرور سے مراد حج مقبول ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد وہ انسان عبادت گزار بن جائے جب کہ اس سے پہلے وہ غافل تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٦ (٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ١٨ (٢٦)، والحج ٤ (١٥١٩)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٢ (١٦٥٨)، مسند احمد (٢/٢٦٨)، ویأتی برقم: ٣١٣٢ (صحیح )
2627Sunan An Nasai

فضیلت حج سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے وفد میں تین لوگ ہیں: ایک غازی، دوسرا حاجی اور تیسرا عمرہ کرنے والا ۔

Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The guests of Allah are three: The Ghazi, the Hajj (pilgrim) and the Mu‘tamir.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2625
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٥٩٤)، ویأتی رقم: ٣١٢٢ (صحیح )
2628Sunan An Nasai

فضیلت حج سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جِهَادُ الْكَبِيرِ، وَالصَّغِيرِ، وَالضَّعِيفِ، وَالْمَرْأَةِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Jihad of the elderly, the young, the weak, and women, is Hajj and ‘Umrah.” (Sahih)

حسن وفقرة المرأة صحيحة من حديث عائشةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2626
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٠٠٢)، مسند احمد (٢/٤٢١) (حسن) (شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤١٤ )
2629Sunan An Nasai

فضیلت حج سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (یعنی خانہ کعبہ) کا حج کیا، نہ بیہودہ بکا ١ ؎ اور نہ ہی کوئی گناہ کیا، تو وہ اس طرح (پاک و صاف ہو کر) ٢ ؎ لوٹے گا جس طرح وہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever performs pilgrimage to this House, and does not Yarfuth (utter any obscenity or commit sin), will go back as (on the day) his mother bore him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2627
Notes · وضاحت
١ ؎: رفث: کے اصل معنی ہیں جماع کرنا یہاں مراد فحش گوئی، بیہودگی، اور بیوی سے زبان سے جنسی خواہش کی آرزو کرنا ہے دوران حج چونکہ بیوی سے ہمبستری ممنوع ہے اس لیے اس موضوع پر بیوی سے گفتگو اور دل لگی کی بات بھی ناپسندیدہ ہے اور فسق سے نافرمانی اور لوگوں سے لڑائی جھگڑا کرنا مراد ہے۔ ٢ ؎: یہ پاگیزگی صرف ان صغیرہ گناہوں سے ہوتی ہے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے ورنہ حقوق اللہ سے متعلق بڑے بڑے گناہ اور اسی طرح حقوق العباد سے متعلق کوتاہیاں خالص توبہ اور ادائیگی حقوق کے بغیر معاف نہیں ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢١)، والمحصر ٩ (١٨١٩)، ١٠ (١٨٢٠)، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٥٠)، سنن الترمذی/ الحج ٢ (٨١١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣ (٢٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣١)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٤١٠، ٤٨٤، ٤٩٤)، سنن الدارمی/المناسک ٧ (١٨٣٧) (صحیح )
2630Sunan An Nasai

فضیلت حج سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَبِيبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ، قَالَت: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَلَا نَخْرُجُ فَنُجَاهِدَ مَعَكَ فَإِنِّي لَا أَرَى عَمَلًا فِي الْقُرْآنِ أَفْضَلَ مِنَ الْجِهَادِ، قَالَ: لَا وَلَكُنَّ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ حَجُّ الْبَيْتِ حَجٌّ مَبْرُورٌ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم نکل کر آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں کیونکہ میں قرآن میں جہاد سے زیادہ افضل کوئی عمل نہیں دیکھتی؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے بہتر اور کامیاب جہاد بیت اللہ کا حج مبرور (مقبول) ہے ۔

The Mother of the Believers, Aishah (RA), said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, shall we not go out and fight in Jihad with you, for I do not think there is any deed in the Qur’an that is better than Jihad.’ He said: ‘No. The best and most beautiful (type) of Jihad is Hajj) to the House; Hajj Al-Mabrur.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2628
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢٠)، جزاء الصید ٢٦ (١٨٦١)، والجہاد ١ (٢٧٨٤)، ٦٢ (٢٨٧٥)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨ (٢٩٠١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧١)، مسند احمد (٦/٧١، ٧٦، ٧٩، ١٦٥) (صحیح )
2631Sunan An Nasai

فضیلت عمرہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ١ ؎، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘From one ‘Umrah to another is an expiation for what comes in between, and Hajj Al Mabrur brings no reward less than Paradise.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2629
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمرة ١ (١٧٧٣)، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣ (٢٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٣)، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥) (صحیح )
2632Sunan An Nasai

حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاس: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے ۔

Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Hajj and ‘Umrah consecutively; for they remove poverty and sin as the bellows removes impurity from iron.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2630
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٣٠٨) (صحیح )
2633Sunan An Nasai

حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوب، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْشَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجِّ الْمَبْرُورِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Perform Hajj and ‘Umrah consecutively, for they remove poverty and sin as the bellows removes impurity from iron and gold and silver, and Hajj Al Mabrur brings no less a reward than Paradise.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2631
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٢ (٨١٠)، (تحفة الأشراف: ٩٢٧٤، مسند احمد (١/٣٨٧) (حسن صحیح )
2634Sunan An Nasai

اس مرنے والے کی طرف سے حج کرنا کہ جس نے حج کی منت مانی ہو۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاقْضُوا اللَّهَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر (حج کئے بغیر) مرگئی، اس کا بھائی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ فرمایا: بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں میں ادا کرتا، آپ نے فرمایا: تو اللہ کا قرض ادا کرو وہ تو اور بھی ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman vowed to perform Hajj but she died. Her brother came to the Prophet ﷺ and asked him about that, he said: ‘Do you think that if your sister owed a debt you would pay it off?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Then fulfill the right of Allah, for He is more deserving that His rights should be fulfilled.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2632
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٢ (١٨٥٢)، الأیمان والنذور ٣٠ (٦٦٩٩)، الاعتصام ١٢ (٧٣١٥)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٧)، مسند احمد (١/٢٣٩، ٣٤٥) سنن الدارمی/الصوم ٤٩ (١٨٠٩)، النذور الأیمان ١ (٢٣٧٧) (صحیح )
2635Sunan An Nasai

اس مرنے والے کی طرف سے حج کرنا کہ جس نے حج ادا نہ کیا ہو

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَرَتِ امْرَأَةٌ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا أَلَمْ يَكُنْ يُجْزِئُ عَنْهَا ؟ فَلْتَحُجَّ عَنْ أُمِّهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سنان بن سلمہ جہنی ؓ سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ میری ماں مرگئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو اسے کافی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی جانب سے ادا کرتی تو کیا یہ اس کی طرف سے کافی نہ ہوجاتا؟ لہٰذا اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیئے ۔

Ibn ‘Abbas said: “The wife of Sinan bin Salamah Al-Juhani ordered that the question be put to the Messenger of Allah ﷺ about her mother who had died and had not performed Hajj; would it be good enough if she were to perform Hajj on behalf of her mother? He said: ‘Yes. If her mother owed a debt and she paid it off, would that not be good enough? Let her perform Hajj on behalf of her mother.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2633
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٥٠٥)، مسند احمد (١/٢٧٩) (صحیح الإسناد )
2636Sunan An Nasai

اس مرنے والے کی طرف سے حج کرنا کہ جس نے حج ادا نہ کیا ہو

أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهَا مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، قَالَ: حُجِّي عَنْ أَبِيكِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے اپنے والد کے بارے میں جو مرگئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman asked the Prophet ﷺ about her father who had died and he did not perform Hajj. He said: “Perform Hajj on behalf of your father.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2634
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١ (١٥١٣)، جزاء الصید ٢٣ (١٨٥٤)، ٢٤ (١٨٥٥)، المغازی ٧٧ (٤٣٩٩)، الاستئذان ٢ (٦٢٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٧١ (١٣٣٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٦ (١٨٠٩)، (تحفة الأشراف: ٥٦٧٠)، موطا امام مالک/الحج ٣٠ (٩٧) مسند احمد (١/٢١٩، ٢٥١، ٣٢٩، ٣٥٩، سنن الدارمی/المناسک ٢٣ (١٨٧٤، ١٨٧٥)، ویأتی عند المؤلف أرقام ٢٦٣٦، ٢٦٤٢، ٢٦٤٣، ٥٣٩٢، ٥٣٩٣، ٩٣٩٥ (صحیح )
2637Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی سواری پر سوار نہیں ہوسکتا تو اس کی جانب سے حج کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْع، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّحْلِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ (یعنی دسویں ذی الحجہ) کی صبح کی کو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! حج کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے اس نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں (کر لو) ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman from Khath’am asked the Prophet ﷺ on the morning of the Day of Sacrifice: “Messenger of Allah ﷺ! The command of Allah to His slaves to perform Hajj has come, while my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle. Can I perform Hajj on his behalf?” He said: “Yes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2635
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٧٢٥) (صحیح )
2638Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی سواری پر سوار نہیں ہوسکتا تو اس کی جانب سے حج کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے۔

It was narrated from Ibn Abbas: (Another chain) with a similar report narrated from Ibn Abbas. (sahih)

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2636
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٦ (صحیح )
2639Sunan An Nasai

جو کوئی عمرہ ادا کرسکے تو اس کی جانب سے عمرہ کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَالظَّعْنَ، قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ.

ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، نہ وہ حج و عمرہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور نہ ہی سواری پر چڑھ سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کرلو ۔

It was narrated from Abu Razin Al-’Uqayli that he said: “Messenger of Allah ﷺ! My father is an old man who cannot perform Hajj or ‘Umrah, nor can he travel.” He said: “Perform Hajj and ‘Umrah on behalf of your father.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2637
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٢٢ (صحیح )
2640Sunan An Nasai

حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الرُّكُوبَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ آنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيه ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْهُ.

عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہوچکا ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں (میں ان کا بڑا بیٹا ہوں) آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو ۔

It was narrated that Abdullah bin Az-Zubair said: "A man from Khatham came to the Messenger of Allah and said: My father is an old man who cannot ride, and the command of Allah to perform Hajj has come. Will it be good enough if I perform Hajj on his behalf? He said: Are you the oldest of his children? He said: Yes. He said: Dont you think that if he owed a debt you would pay it off?, He said: Yes. He said: Then perform Hajj on his behalf.(Daif)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2638
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٢)، مسند احمد ٤/٥، سنن الدارمی/المناسک ٢٤ (١٨٧٨) ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٦٤٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” یوسف “ لین الحدیث ہیں )