شرطوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 36 · 87 hadiths · Page 1 of 5

3888Sunan An Nasai

شرائط سے متعلق احادیث رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں بٹائی اور معاہدہ کی پابندی سے متعلق احادیث مذکورہ ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: إِذَا اسْتَأْجَرْتَ أَجِيرًا فَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جب تم کسی مزدور سے مزدوری کراؤ تو اسے اس کی اجرت بتادو۔

It was narrated that Abu Saeed said: "When you hire a worker, tell him what his wages will be.

ضعيف موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3857
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٩٥٨)، مسند احمد (٣/٥٩، ٦٨، ٧١)، مرفوعاً (ضعیف) (اس کے راوی ” ابرہیم نخعی “ کا ابو سعید خدری سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے لیکن اس اثر کا معنی صحیح ہے، آگے کے آثار دیکھیں )
3889Sunan An Nasai

شرائط سے متعلق احادیث رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں بٹائی اور معاہدہ کی پابندی سے متعلق احادیث مذکورہ ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ: كَرِهَ أَنْ يَسْتَأْجِرَ الرَّجُلَ حَتَّى يُعْلِمَهُ أَجْرَهُ.

حسن بصری سے روایت ہے کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی کسی آدمی سے اس کی اجرت بتائے بغیر مزدوری کرائے۔

It was narrated from Al-Hasan that he disliked to hire a man without telling him what his wages would be.

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3858
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٥٧٥) (صحیح )
3890Sunan An Nasai

شرائط سے متعلق احادیث رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں بٹائی اور معاہدہ کی پابندی سے متعلق احادیث مذکورہ ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ حَمَّادٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَأَنَّهُ سُئِلَ عَنْ: رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا عَلَى طَعَامِهِ ؟ قَالَ: لَا حَتَّى تُعْلِمَهُ.

حماد بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مزدور سے اس کے کھانے کے بدلے کام لے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں (درست نہیں) یہاں تک کہ وہ اسے بتادے۔

It was narrated from Hammad -Ibn Abi Sulaiman- that he was asked about a man who hired a worker in return for food and he said: "No, not until he tells him (what his wages will be).

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3859
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٥٩٢) (صحیح الإسناد )
3891Sunan An Nasai

شرائط سے متعلق احادیث رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں بٹائی اور معاہدہ کی پابندی سے متعلق احادیث مذکورہ ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَقَتَادَةَ: في رجل قَالَ لِرَجُلٍ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ إِلَى مَكَّةَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ شَهْرًا أَوْ كَذَا وَكَذَا شَيْئًا سَمَّاهُ فَلَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا. فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا، وَكَرِهَا أَنْ يَقُولَ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ أَكْثَرَ مِنْ شَهْرٍ نَقَصْتُ مِنْ كِرَائِكَ كَذَا وَكَذَا.

حماد اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے سلسلے میں پوچھا گیا، جس نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھ سے مکے تک کے لیے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں۔ اگر میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ - اور اس نے فاضل مسافت کی تعیین کردی - چلا تو تیرے لیے اتنا اور اتنا زیادہ کرایہ ہوگا۔ تو اس (صورت) میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن اس (صورت) کو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ کہے کہ میں تم سے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں، اب اگر مجھے ایک مہینہ سے زائد چلنا پڑا ١ ؎، تو میں تمہارے کرائے میں سے اسی قدر اتنا اور اتنا کاٹ لوں گا ٢ ؎۔

It was narrated from Hammad and Qatadah, concerning a man who said to another man: "I will lease (something) from you until I reach Makkah for such and such a payment, and if I travel for a month or such and such -something that he named- I will give you such and such in addition." They did not see anything wrong with that, but they did not like it if he said: "If I travel for more than a month I will deduct such and such from your lease.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3860
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری کی سست رفتاری کے سبب ایسا کرنا پڑا تو ایسا کروں گا ٢ ؎: متعین مسافت (دوری) کو تیزی کی وجہ سے وقت سے پہلے طے کرلینے پر زیادہ اجرت بطور انعام و اکرام ہے اس لیے دونوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اور دھیرے دھیرے چلنے کی وجہ سے کرائے میں کمی کرنا ظلم اور دوسرے کے حق کو چھیننے کے مشابہ ہے، یہی وجہ کہ دونوں نے اس دوسری صورت کو مکروہ جانا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٥٩٣) (صحیح الإسناد )
3892Sunan An Nasai

شرائط سے متعلق احادیث رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں بٹائی اور معاہدہ کی پابندی سے متعلق احادیث مذکورہ ہیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: عَبْدٌ أُؤَاجِرُهُ سَنَةً بِطَعَامِهِ، وَسَنَةً أُخْرَى بِكَذَا وَكَذَا. قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ وَيُجْزِئُهُ اشْتِرَاطُكَ حِينَ تُؤَاجِرُهُ أَيَّامًا أَوْ آجَرْتَهُ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ السَّنَةِ، قَالَ: إِنَّكَ لَا تُحَاسِبُنِي لِمَا مَضَى.

ابن جریج کہتے ہں ي کہ میں نے عطا سے کہا: اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں (تو کیا حکم ہے) ؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور جب تم اسے اجرت (مزدوری) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت (مزدوری) پر رکھوں گا۔ (ابن جریج نے کہا) یا اگر میں نے اجرت (مزدوری) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں؟ عطاء نے کہا: تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے۔

It was narrated that Ibn Juraij said: "I said to Ata: What if I hire a slave for a year in return for his food, and for another year, in return for such and such? He said: There is nothing wrong with that, and you may stipulate your conditions of hiring even for a few days. How about if I make a deal to hire him when part of the year has passed? He said: Do not hold me to account for what has passed.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3861
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٠٧٥) (صحیح الإسناد )
3893Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْرَافِعِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى قَوْمِهِ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ، فَقَالَ: يَا بَنِي حَارِثَةَ، لَقَدْ دَخَلَتْ عَلَيْكُمْ مُصِيبَةٌ، قَالُوا: مَا هِيَ ؟ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا نُكْرِيهَا بِشَيْءٍ مِنَ الْحَبِّ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِالتِّبْنِ ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ: وَكُنَّا نُكْرِيهَا بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي، قَالَ: لَا ازْرَعْهَا، أَوِ امْنَحْهَا أَخَاكَ. خَالَفَهُ مُجَاهِدٌ.

اسید بن ظہیر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے قبیلہ یعنی بنی حارثہ کی طرف نکل کر گئے اور کہا: اے بنی حارثہ! تم پر مصیبت آگئی ہے، لوگوں نے کہا: وہ مصیبت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! تو کیا ہم اسے کچھ اناج (غلہ) کے بدلے کرائے پر اٹھائیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، وہ کہتے ہیں: حالانکہ ہم اسے گھاس (چارہ) کے بدلے دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا: نہیں ، پھر کہا: ہم اسے اس پیداوار پر اٹھاتے تھے جو پانی کی کیا ریوں کے پاس سے پیدا ہوتی ہے، آپ نے فرمایا: نہیں ، تم اس میں خود کھیتی کرو یا پھر اسے اپنے بھائی کو دے دو۔ مجاہد نے رافع بن اسید کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Usaid bin Zuhair that he went out to his people, Banu Harithah, and said: "O Banu Harithah, a calamity has befallen you." They said: "What is it?" He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden leasing land." We said: "O Messenger of Allah, what if we lease it in return for some of the grain?" He said, "No." He said: "We used to lease it in return for straw." He said: "No." "We used to lease it in return for what is planted on the banks of a stream that is used for irrigation." He said: "No. Cultivate it (yourself) or give it to your brother.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3862
Notes · وضاحت
١ ؎: مخالفت یہ ہے کہ رافع بن اسید نے اس کو اسید بن ظہیر ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے، جب کہ مجاہد نے اس کو اسید بن ظہیر سے اور اسید نے رافع بن خدیج ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور رافع بن اسید لین الحدیث راوی ہیں، جب کہ مجاہد ثقہ امام ہیں، بہرحال حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٧) (صحیح) (اس کے راوی ” رافع بن اسید “ لین الحدیث ہیں، مگر متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
3894Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: شِرَاءُ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ.

اسید بن ظہیر ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج ؓ آئے تو کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر (کھیتوں کو) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں (یعنی معین) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔

It was narrated that Usaid bin Zuhair said: "Rafi bin Khadij came to us and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden for you Al-Haql. Al-Haql is the third and the fourth. And Al-Muzabanah. Al-Muzabanah is to buy what is at the top of the date-palm trees in return for a certain number of Wasqs of dried dates.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3863
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٣٩٨)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٠(٢٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٩)، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٨٩٥-٣٨٩٧) (صحیح الإسناد )
3895Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ، نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَقَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَمْنَحْهَا، أَوْ لِيَدَعْهَا، وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ، مِنَ النَّخْلِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهَا بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ.

اسید بن ظہیر ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج ؓ آئے تو کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ نے تمہیں محاقلہ سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے کسی کو ہبہ کر دے یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے ، نیز آپ نے مزابنہ سے روکا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے پاس درخت پر کھجوروں کے پھل کا بڑا حصہ ہو۔ پھر کوئی (دوسرا) آدمی اسے اتنی اتنی وسق ١ ؎ ایسی ہی (گھر میں موجود) کھجور کے بدلے میں لے لے۔

It was narrated that Usaid bin Zuhair said: "Rafi bin Khadij came to us and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something that was beneficial for us, but obedience to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for you. He has forbidden Al-Haql (renting land in return for one-third or one-quarter of the produce) to you, and says: Whoever has land, let him give it (to someone else to cultivate it) or leave it. And he has forbidden Al-Muzabanah. Al-Muzabanah means when a man has a lot of date-palm trees and another man comes and takes it in return for a certain number of Wasqs of dried dates.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3864
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اور صاع اڑھائی کلوگرام کا، یعنی وسق = ١٥٠ کلوگرام۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
3896Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: وَلَمْ أَفْهَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ مِمَّا يَنْفَعُكُمْ: نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ: الْمُزَارَعَةُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى النَّخْلِ الْكَثِيرِ بِالْمَالِ الْعَظِيمِ فَيَقُولُ خُذْهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرِ ذَلِكَ الْعَامِ.

اسید بن ظہیر ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج ؓ آئے تو انہوں نے کہا، اور میں اس (ممانعت کے راز) کو سمجھ نہیں سکا، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے سود مند تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے اس چیز سے جو تمہیں فائدہ دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حقل سے روکا ہے۔ اور حقل کہتے ہیں: تہائی یا چوتھائی پیداوار کے بدلے زمین کو بٹائی پر دینا۔ لہٰذا جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے بےنیاز ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے اپنے بھائی کو دیدے، یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے، اور آپ نے تمہیں مزابنہ سے روکا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ آدمی بہت سارا مال لے کر کھجور کے باغ میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سال کی اس مال کو (یعنی پاس میں موجود کھجور کو) اس سال کی (درخت پر موجود) کھجور کے بدلے اتنے اتنے وسق کے حساب سے لے لو۔

It was narrated that Usaid bin Zuhair said: "Rafi bin Khadij came to us and I was not sure what he meant. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden to you something that used to benefit you, but obedience to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for you than that which benefits you. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden Al-Haql for you. Al-Haql means share-cropping the land in return for one-third or one-quarter (of the yield). So whoever has land that he does not need, let him give it to his brother (to cultivate it) or let him leave it. And he has forbidden to you Al-Muzabanah. Al-Muzabanah means when a man has a great number of datepalms and says: Take it in return for (a certain number of) Wasqs of dried dates this year.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3865
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٤ (صحیح )
3897Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا، قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ. خَالَفَهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے مفید اور نفع بخش تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہمارے لیے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ آپ نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے ۔ اس میں عبدالکریم بن مالک نے ان (سعید بن عبدالرحمٰن) کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

Usaid bin Rafi bin Khadij said: "Rafi bin Khadij said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something for you that used to be beneficial for us, but obedience to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is more beneficial for us. He said: "Whoever has land let him cultivate it, and if he is unable to do so, let him give it to his brother to cultivate.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3866
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالکریم بن مالک کی روایت آگے آرہی ہے، اور مخالفت ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٤ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” اسید بن رافع “ لین الحدیث ہیں )
3898Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ طَاوُسٍ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ عَلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. فَأَبَى طَاوُسٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا. وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ: عَنْ رَافِعٍ مُرْسَلًا.

مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں انہیں لے کر رافع بن خدیج ؓ کے بیٹے (اسید) کے یہاں گیا، تو انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میرے والد رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا، تو طاؤس نے انکار کردیا اور کہا: میں نے ابن عباس ؓ سے سنا ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور اس حدیث کو ابو عوانہ نے ابوحصین سے، اور ابوحصین نے مجاہد سے، اور مجاہد نے رافع ؓ سے مرسلاً (یعنی منقطعا) روایت کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Mujahid said: "I took Tawus by the hand and brought him to Ibn Rafi bin Khadij, and he told him, narrating from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. Tawus rejected that and said: I heard Ibn Abbas (say) that he did not see anything wrong with that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3867
Notes · وضاحت
١ ؎: سابقہ تمام سندوں میں مجاہد اور رافع کے درمیان یا تو اسید بن رافع بن خدیج یا اسید بن ظہیر کسی ایک کا واسطہ ہے اور اس سند میں یہ واسطہ ساقط ہے، اس لیے یہ سند منقطع ہے مگر متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٢١ (١٥٥٠) (تحفة الأشراف: ٣٥٩١) (صحیح )
3899Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ: نَهَانَا أَنْ نَتَقَبَّلَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ خَرْجِهَا. تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ ﷺ نے ہمیں زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن مہاجر نے ابوحصین کی متابعت کی ہے (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

(The previously mentioned chain) from Mujahid who said: "Rafi bin Khadij said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade us to do something that was beneficial for us, (but we respect and obey the command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم)). He forbade us to lease land in return for some of its produce.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3868
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٤٢(١٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٨)، مسند احمد (١/٢٨٦)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٩٠٠-٣٩٠٣) (صحیح )
3900Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟. قَالَ: لِفُلَانٍ، أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ: لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ. فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا: یہ زمین کس کی ہے؟ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا) ، تب رافع بن خدیج ؓ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by the land of a man from among the Ansar who he knew was in need and said: Whose is this land? He said: So and sos; he has given it to us in return for rent. He said: Why did he not give it to his brother?" Rafi came to the Ansar and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something for you which was beneficial, but obedience to the command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is more beneficial for you.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3869
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٩ (صحیح) (سند میں راوی ” ابراہیم “ کا حافظہ کمزور تھا، اور سند میں انقطاع بھی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
3901Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حقل سے منع فرمایا۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Haql (renting land in return for one-third or one-quarter of the produce).

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3870
Notes · وضاحت
١ ؎: حقل کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے مقصد تہائی اور چوتھائی کے بٹائی دینے کا معاملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٩ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
3902Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، فَقَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ يَمْنَحْهَا، أَوْ يَذَرْهَا.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا: جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے (یونہی) چھوڑ دے ۔

Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and forbade something for us that had been beneficial for us. He said: Whoever has land, let him cultivate it or give it to someone else (to cultivate), or leave it.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3871
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٤ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے )
3903Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ،وَمُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا، قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَذَرْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا. وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ طَاوُسًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہماری طرف رسول اللہ ﷺ نکل کر آئے تو ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کا حکم ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے چھوڑ دے یا اسے (کسی کو) دیدے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ حدیث طاؤس نے (رافع ؓ سے خود) نہیں سنی ہے آنے والی حدیث ہے۔

It was narrated from Tawus and Mujahid, that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came out to us and forbade something for us that had been beneficial for us, but the command of Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for us. He said: Whoever has land, let him cultivate it or leave it or give it (to someone else to cultivate).

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3872
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٩ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے )
3904Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ طَاوُسٌ يَكْرَهُ أَنْ يُؤَاجِرَ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ، وَلَا يَرَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بَأْسًا، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَاسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ: لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا. وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعٍ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ.

عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ طاؤس اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھائے۔ البتہ (پیداوار کی) تہائی یا چوتھائی کے بدلے بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تو ان سے مجاہد نے کہا: رافع بن خدیج کے لڑکے (اسید) کے پاس جاؤ اور ان سے ان کی حدیث سنو، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا ہے تو میں ایسا نہ کرتا لیکن مجھ سے ایک ایسے شخص نے بیان کیا جو ان سے بڑا عالم ہے یعنی ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو بس اتنا فرمایا تھا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین دیدے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر ایک متعین محصول (لگان) وصول کرے ۔ اس حدیث میں عطاء کے سلسلہ میں اختلاف واقع ہے، عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں: عن عطاء، عن رافع (عطا سے روایت ہے وہ رافع سے روایت کرتے ہیں) (جیسا کہ حدیث رقم ٣٩٠٣ میں ہے) اور یہ بات اوپر کی روایت میں گزر چکی ہے اور عبدالملک بن ابی سلیمان (عن رافع کے بجائے) عن عطاء عن جابر کہتے ہیں (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated that Amr bin Dinar said: "Tawus regarded it disliked renting out land for gold and silver, but he did not see anything wrong with leasing it in return for one-third or one-quarter (of the yield). Mujahid said to him: Go to Ibn Rafi bin Khadij and listen to his Hadith. He said: By Allah, if I knew that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden that I would not have done it. But my Hadith comes from one who is more knowledgeable than him. Ibn Abbas (said) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "If one of you were to give his land to his brother (to cultivate it), that would be better than taking an agreed portion of the yield.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3873
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٠ (٢٣٣٠)، ١٨ (٢٣٤٢)، الہبة ٣٥ (٢٦٣٤)، صحیح مسلم/البیوع ٢١(١٥٥٠)، سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٨٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٤٢ (١٣٨٥)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٩ (٢٤٥٦)، ١١(٢٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٥) مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٨١، ٣٤٩) (صحیح )
3905Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَلَا يُزْرِعْهَا إِيَّاهُ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیدے اور اس سے اس میں بٹائی پر کھیتی نہ کرائے ۔

It was narrated from Ata from Jabir, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever has land, let him cultivate it. If he is unable to cultivate it, let him give it to his Muslim brother and not share-crop it with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3874
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧(١٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٩)، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤) (صحیح )
3906Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا. تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو دیدے اور اسے بٹائی پر نہ دے ۔ عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے (یہ متابعت آگے آرہی ہے) ۔

Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever has land, let him cultivate it or give it to his brother, and not lease it to him.” (Sahih) He was followed in (narrating) it by ‘Abdur-Rahman bin ‘Amr Al Awza’i.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3875
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3907Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ يُزْرِعْهَا، أَوْ يُمْسِكْهَا. وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں جنہیں وہ آدھا، تہائی اور چوتھائی پر اٹھاتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے یا بلا کھیتی کرائے روکے رکھے ۔ مطر بن طہمان نے اوزاعی کی موافقت (متابعت) کی ہے۔

It was narrated that Jabir said: "Some people had some extra land which they leased out in return for half of the yield, or one-third, or one-quarter. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever has land, let him cultivate it, or give it to his brother to cultivate or keep it (without cultivating it).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3876
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٨ (٢٣٤٠)، الہبة ٣٥ (٢٦٣٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٣٦)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٧ (٢٤٥١)، (تحفة الأشراف: ٢٤٢٤)، مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )