زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟. قَالَ: لِفُلَانٍ، أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ: لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ. فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا: یہ زمین کس کی ہے؟ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا) ، تب رافع بن خدیج ؓ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by the land of a man from among the Ansar who he knew was in need and said: Whose is this land? He said: So and sos; he has given it to us in return for rent. He said: Why did he not give it to his brother?" Rafi came to the Ansar and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something for you which was beneficial, but obedience to the command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is more beneficial for you.