قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 35 · 96 hadiths · Page 5 of 5

3872Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ کے کام) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Imran bin Husain, may Allah be pleased with him, said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3841
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
3873Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لَا يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ، وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔

It was narrated that Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath. Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said:

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3842
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٧١ (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن زبیر “ ضعیف الحدیث ہیں، اور اس حدیث کے مضمون کا کوئی شاہد موجود نہیں )
3874Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.

عمران ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Imran said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3843
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٧١ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام )
3875Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. وَقِيلَ: إِنَّ الزُّبَيْرَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.

عمران ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ (محمد کے والد) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔

It was narrated that Imran said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath." It was said: "Az-Zubair did not hear this Hadith from Imran bin Husain.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3844
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی دلیل اگلی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٧١ (ضعیف )
3876Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلَّهِ وَفِيهِ الْوَفَاءُ، وَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاءَ فِيهِ، وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نذر کی دو قسمیں ہیں: جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہوگا جو قسم کا ہوتا ہے ۔

It was narrated from Muhammad bin Az-Zubair, from his father, from a man from the inhabitants of Al-Basrah, who said: "I accompanied Imran bin Husain, who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Vows are of two types: A vow that is made to do an act of obedience to Allah; that is for Allah and must be fulfilled, and a vow that is made to do an act of disobedience to Allah; that is for Shaitan and should not be fulfilled, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3845
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٨٩١) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی محمد اور ان کے باپ زبیر ضعیف ہیں، نیز ایک راوی مبہم بھی ہے )
3877Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا، لَا يَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین ؓ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہوگا، تو عمران ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Muhammad bin Az-Zubayr Hanzali said: My father told me that a man told him, that he asked Imran bin Husain about a man who made a vow not to attend the prayers in the mosque of his people. Imran said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3846
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
3878Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience or at the time of anger, and its expiation is the expiation for an oath.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3847
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٨)، مسند احمد (٤/٤٣٩، ٤٤٣) (ضعیف) (لفظ ” غضب “ میں اس حدیث کا کوئی شاہد نہیں ہے )
3879Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمٍ وَهُوَ عُبَيْدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي الْمَعْصِيَةِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي لَفْظِهِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience and its expiation is the expiation for an oath." Mansur bin Zadhan contradicted him in his wording.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3848
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
3880Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔

It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow for the son of Adam with regard to that which he does not possess, or to do an act of disobedience to Allah, the Mighty and Sublime." Ali bin Zaid contradicted him -for he reported it from Al-Hasan from Abdur-Rahman bin Samurah

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3849
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٨١١)، مسند احمد (٤/٤٢٩) (صحیح )
3881Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین ؓ ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین ؓ سے روایت کی گئی ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience or with regard to that which the son of Adam does not possess.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3850
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٠٠) (صحیح) (اس کے راوی ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3882Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔

It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience or with regard to that which the son of Adam does not possess.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3851
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٤٣ (صحیح )
3883Sunan An Nasai

اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟. قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ. قَالَ: إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a man being supported by two others and said: What is this? They said: He vowed to walk to the House of Allah. He said: Allah has no need for this man to torture himself. Tell him to ride.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3852
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جاہل صوفیوں نے جو نئی نئی قسم کے پر مشقت افعال یہ سمجھ کر ایجاد کر رکھے ہیں کہ ان سے تزکیہ نفوس حاصل ہوتا ہے حالانکہ شریعت سے ان کا ذرہ برابر تعلق نہیں، یہ احکام شریعت سے ان کی جہالت و ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے صاف صاف طور پر بیان نہ کردیا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزء الصید ٢٧ (١٨٦٥)، الأیمان ٣١ (٦٧٠١)، صحیح مسلم/النذور ٤ (١٦٤٢)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٣٠١)، سنن الترمذی/الأیمان ٩ (١٥٣٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢)، مسند احمد (٣/١٠٦، ١١٤، ١٨٣، ١٨٣، ٢٣٥، ٢٧١) (صحیح )
3884Sunan An Nasai

اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَذَا ؟. قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ. قَالَ: إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ، مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا: اس نے (کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چناچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) passed by an old man who was being supported between two men and said: What is the matter with him? They said: He vowed to walk. He said: Allah has no need for him to torture himself. Tell him to ride." So he was told to ride.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3853
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3885Sunan An Nasai

اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذَا ؟. فَقِيلَ: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to a man who was being supported by two others and said: What is the matter with him? It was said: He vowed to walk to the Kabah. He said: Allah does not benefit from his torturing himself. And he told him to ride.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3854
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٩٩) (صحیح )
3886Sunan An Nasai

انشاء اللہ کہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاء اللہ کہے تو اس نے استثناء کرلیا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath and says: "If Allah wills, then he has made an exception.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3855
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ٧ (١٥٣٢)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢٣)، مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
3887Sunan An Nasai

انشاء اللہ کہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقِيلَ لَهُ: قُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ، فَطَافَ بِهِنَّ، فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلیمان (علیہ السلام) نے کہا: آج رات میں نوے ( ٩٠) عورتوں (بیویوں) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاء اللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان (علیہ السلام) اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر انہوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پالینے میں کامیاب بھی رہتے ۔

It was narrated from Abu Hurairah, who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "Sulaiman (علیہ السلام)said: I will certainly go around to ninety women tonight, each of whom will bear a child who will fight in the cause of Allah. It was said to him: Say: If Allah wills but he did not say it. He went around to them but none of them bore a child except for one woman who bore half a person." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "If he had said: If Allah wills, he would not have broken his vow, and this would have been a means to help him to get what he wanted.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3856
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے کتاب الأیمان والنذور میں قسم اور نذر کو دو شرط مان کر اس باب میں تیسری شرط کا ذکر کیا، اس لیے کہ ان میں اکثر و بیشتر استثنا اور تعلیق کا تذکرہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کو تیسری شرط کا عنوان دے کر یہ بتایا کہ اس میں مزارعت اور و ثائق کا تذکرہ ہوگا (التعلیقات السلفیۃ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٩ (٥٢٤٢)، صحیح مسلم/الأیمان ٥ (١٦٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٨)، مسند احمد (٢/٢٧٥) (صحیح )