Sunan An Nasai 3883

قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

3883Sunan An Nasai

اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟. قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ. قَالَ: إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a man being supported by two others and said: What is this? They said: He vowed to walk to the House of Allah. He said: Allah has no need for this man to torture himself. Tell him to ride.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3852
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جاہل صوفیوں نے جو نئی نئی قسم کے پر مشقت افعال یہ سمجھ کر ایجاد کر رکھے ہیں کہ ان سے تزکیہ نفوس حاصل ہوتا ہے حالانکہ شریعت سے ان کا ذرہ برابر تعلق نہیں، یہ احکام شریعت سے ان کی جہالت و ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے صاف صاف طور پر بیان نہ کردیا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزء الصید ٢٧ (١٨٦٥)، الأیمان ٣١ (٦٧٠١)، صحیح مسلم/النذور ٤ (١٦٤٢)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٣٠١)، سنن الترمذی/الأیمان ٩ (١٥٣٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢)، مسند احمد (٣/١٠٦، ١١٤، ١٨٣، ١٨٣، ٢٣٥، ٢٧١) (صحیح )