اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. وَقِيلَ: إِنَّ الزُّبَيْرَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
عمران ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ (محمد کے والد) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔
It was narrated that Imran said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath." It was said: "Az-Zubair did not hear this Hadith from Imran bin Husain.