اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.
عمران ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that Imran said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3843
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٧١ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام )