قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 35 · 96 hadiths · Page 4 of 5

3852Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرٌ فِي اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Umar had made a vow to spend a night in Itikaf in Al-Masjid Al-Haram. He asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about that, and he ordered him to perform the Itikaf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3821
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمیس ١٩ (٣١٤٤)، المغازي ٥٤ (٤٣٢٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٥٢١)، مسند احمد (٢/١٠، ٣٥، ١٥٣) (صحیح )
3853Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے جاہلیت میں (مسجد الحرام میں) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کرلیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۔

It was narrated from Ibn Umar that Umar had vowed -during the Jahiliyyah- to spend a day in Itikaf. He asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about that, and he commanded him to perform the Itikaf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3822
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٩١٦)، مسند احمد (٢/٨٢) (صحیح )
3854Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ.

کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہوجاتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہوسکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان (کعب ؓ) سے روایت کی ہو ٢ ؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب ؓ کی توبہ کا بھی ذکر ہے۔

Abdullah bin Kab bin Malik narrated from his father, that he said to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) -when his repentance was accepted: "O Messenger of Allah! I want to give all my wealth in charity for Allah and His Messenger." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to him: "Keep some of your wealth for yourself; that is better for you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3823
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، نساخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، واللہ اعلم۔ ٢ ؎: زہری نے یہ حدیث: عبداللہ بن کعب، عبدالرحمٰن بن کعب، نیز عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب (عن أبیہ عبداللہ بن کعب) تینوں سے سنی ہے، دیکھئیے احادیث رقم: ٣٤٥١-٣٤٥٦
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٩ (٣٣١٧، ٣٣١٨)، (تحفة الأشراف: ١١١٣٥) (صحیح )
3855Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ مُخْتَصَرٌ.

کعب بن مالک ؓ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ ﷺ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔

Abdur-Rahman bin Kab bin Malik narrated that Abdullah bin Kab said: "I heard Kab bin Malik narrating his Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) on the campaign to Tabuk. He said: When I sat down before him I said: "O Messenger of Allah, as part of my repentance I want to give my wealth in charity to Allah and His Messenger." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Keep some of your wealth for yourself; that is better for you." I said: "I will keep my share that is in Khaibar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3824
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٤٥٤ (صحیح )
3856Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَيَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.

کعب بن مالک ؓ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔

Abdullah bin Kab bin Malik said: "I heard Kab bin Malik narrating his Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) on the campaign to Tabuk. (he said) I said: As part of my repentance I want to give my wealth in charity for Allah and His Messenger. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Keep some of your wealth for yourself; that is better for you. I said: I will keep for myself my share that is in Khaibar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3825
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٥٤ (صحیح )
3857Sunan An Nasai

اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. فَقَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.

کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔

It was narrated from Ubaydullah bin Kab: "I heard my father Kab (RA) bin Malik narrate: I said: O Messenger of Allah, Allah, the Mighty and Sublime, has saved me by my being truthful, and as part of my repentance I want to give my wealth in charity to Allah and His Messenger. He said: Keep some of your wealth for yourself; that is better for you. I said: I will keep my share that is in Khaibar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3826
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١١٦٠) (صحیح )
3858Sunan An Nasai

مال نذر کرتے وقت اس میں زمین بھی داخل ہے یا نہیں؟

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، فَلَمْ نَغْنَمْ إِلَّا الْأَمْوَالَ، وَالْمَتَاعَ، وَالثِّيَابَ، فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ يُقَالُ لَهُ: رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ سَهْمٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، مِنَ الْمَغَانِمِ، لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا. فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ، جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ، أَوْ بِشِرَاكَيْنِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہمیں مال ١ ؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ ﷺ نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ ﷺ کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی (اور مال تقسیم نہ ہوا تھا) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "We were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) in the year of Khaibar, and we did not get any spoils of war except for wealth, goods and clothes. Then a man from Banu Ad-Dubaib, who was called Rifaah bin Zaid, gave the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) a black slave who was called Midam. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) set out for Wadi Al-Qura. When we were in Wadi Al-Qura, while Midam was unloading the luggage of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), an arrow came and killed him. The people said: Congratulations! You will go to Paradise, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: No, by the One in Whose hand is my soul! The cloak that he took from the spoils of war on the Day of Khaibar is burning him with fire. When the people heard that, a man brought one or two shoelaces to the Messenger of Allah and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: One or two shoelaces of fire.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3827
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی لفظ میں باب سے مطابقت ہے، کیونکہ ابوہریرہ ؓ نے اموال کے لفظ سے زمینیں (آراضی) مراد لی ہیں (خیبر میں زیادہ زمینیں مال غنیمت میں ہاتھ آئی تھیں) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی صرف مال کی نذر مانے تو اس مال میں زمین بھی داخل گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٣٤)، الأیمان ٣٣ (٦٧٠٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٨ (١١٥)، سنن ابی داود/الجہاد ١٤٣ (٢٧١١)، موطا امام مالک/الجہاد ١٣ (٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٩١٦) (صحیح )
3859Sunan An Nasai

انشاء اللہ کہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّنَافِعًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا تو اس نے استثناء کرلیا ١ ؎۔

Abdullah bin Umar (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath and says: If Allah wills, then he has made an exception.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3828
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر اس نے قسم پوری نہیں کی تو بھی کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٢٦٥) (صحیح )
3860Sunan An Nasai

انشاء اللہ کہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا تو اس نے استثناء کرلیا ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath and says: If Allah wills, then he has made an exception.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3829
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٢٤ (صحیح )
3861Sunan An Nasai

انشاء اللہ کہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ أَمْضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا تو اب اسے اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو نہ کرے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever swears an oath and says, If Allah wills, then he has the choice: If he wishes, he may go ahead, and if he wishes he may not.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3830
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٢٤ (صحیح )
3862Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص قسم کھائے اور دوسرا شخص اس کے واسطے انشاء اللہ کہے تو دوسرے شخص کا انشاء اللہ کہنا اس کے واسطے کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلیمان بن داود (علیہ السلام) نے (قسم کھا کر) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ١ ؎۔

Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Sulaiman bin Dawud علیہمالسلامsaid: Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah. His companion said to him: If Allah wills. But he did not say: If Allah wills. Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, If Allah wills, they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3831
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ قسم کھانے والے نے اگر بذات خود ان شاء اللہ نہیں کہا ہے بلکہ کسی اور نے کہا ہے تو یہ استثناء قسم کھانے والے کے حق میں مفید نہ ہوگا (یعنی: اگر قسم توڑی تو حانث ہوجائے گا) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٣ (٦٦٣٩)، تحفة الأشراف: ١٣٧٣١)، صحیح مسلم/الأیمان ٥ (١٦٥٤)، سنن الترمذی/الأیمان ٧ (١٥٣٢- تعلیقاً )، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٧٥، ٥٠٦) (صحیح )
3863Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "The expiation for vows is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3832
Notes · وضاحت
١ ؎: قسم کے کفارے کا ذکر سورة مائدہ کی اس آیت میں ہے لا يؤاخذکم الله باللغو في أيمانکم ولکن يؤاخذکم بما عقدتم الأيمان فکفارته إطعام عشرة مساکين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو کسوتهم أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام ذلک کفارة أيمانکم إذا حلفتم واحفظوا أيمانکم کذلك يبين الله لکم آياته لعلکم تشکرون اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا، لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کر دو۔ اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو! اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو (سورة المائدة: 89) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٩٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ال نذر ٥ (١٦٤٥)، سنن ابی داود/ال نذر ٣١ (٣٣٢٣)، سنن الترمذی/النذور ٤ (١٥٢٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٧ (٢١٢٦)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٧) (صحیح )
3864Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ کے کاموں) میں نذر نہیں ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience and its expiation is the expiation for an oath.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3833
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٥٦٧) (صحیح) (سند میں زہری اور قاسم کے درمیان انقطاع ہے، مگر سند متصل ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث )
3865Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow to commit an act of disobedience.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3834
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر کسی نے معصیت کی نذر مانی ہے تو وہ اسے پوری نہیں کرے گا البتہ اس کا کفارہ ضرور ادا کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩١)، سنن الترمذی/الأیمان ١(١٥٢٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦(٢١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، مسند احمد (٦/٢٤٧)، ویأتی فیما یلي: ٣٨٦٦-٣٨٦٩ (صحیح )
3866Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3835
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
3867Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3836
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٦٥ (صحیح )
3868Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ قِيلَ: أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: کہا گیا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath. Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Sulaiman bin Arqam (one of the narrators) is Matruk in Hadith and Allah knows best. More than one of the companions of Yahya bin Abi Kathir contradicted him in this narration.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3837
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن اگلی روایت میں زہری کے ابوسلمہ سے سننے کی صراحت موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٦٥ (صحیح )
3869Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3838
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٦٥ (صحیح )
3870Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّيَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْيَمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، خَالَفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: سلیمان بن ارقم متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3839
Notes · وضاحت
١ ؎: یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے سلیمان بن ارقم جو متروک الحدیث ہیں نے یحییٰ سے حدیث کی روایت میں ثقافت کی مخالفت کی ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے رواۃ سے ثابت ہے، اور یہ مخالفت بعد کی سندوں میں ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٢)، سنن الترمذی/الأیمان ١ (١٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٢) (صحیح) (اس کے راوی ” سلیمان بن ارقم “ ضعیف ہیں، لیکن اس کی پچھلی سندیں صحیح ہیں )
3871Sunan An Nasai

نذر کے کفارہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَهُوَ عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ کے کاموں) کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔

It was narrated that Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3840
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٢)، مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٤٣)، ویأتي بأرقام: ٣٨٧٢-٣٨٧٥) (صحیح) (اس کے راوی ” محمد بن زبیر “ ضعیف الحدیث ہیں، لیکن عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )