عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر (ماننے) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade vows and said: "They do not bring any good; they are just a means of taking wealth from the miserly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3801
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لیے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade vows and said: They do not change anything; they are just a means of taking wealth from the miserly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3802
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر نہ کسی (مقدر) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: A vow does not bring anything forward or put it back; it is just a means of taking wealth from the miserly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3803
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "A vow does not bring anything to the son of Adam that has not been decreed for him. It is just a means of taking wealth from the miserly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3804
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٧٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/ال نذر (١٦٤٠)، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥(٢١٢٣)، مسند احمد ٢/٢٤٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر (کے لکھے) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not make vows, for a vow does not have any impact on the Qadar. Rather it is just a means of taking wealth from the miserly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3805
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3806
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نذر کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے تو اسے پوری کرے اور اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ہے تو اسے پوری نہ کرے اور اس کا کفارہ دیدے، رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور نافرمانی کا بھی یہی حکم ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3807
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3808
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے ثم الذين يلونهم کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین (امانت دار) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔
Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: The best of you are my generation, then those who come after them, then those whom after them, then those who come after them. -I do not know if he said two times after him or three. Then he mentioned some people who betray and cannot be trusted, who bear witness without being asked to do so, who make vows and do not fulfill them, and fatness will prevail among them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3809
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش و آرام کے عادی ہوجائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) passed by a man who was leading another man by a rope. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) took it, and cut it, and he said: It is a vow.
صحيح خ دون قوله إنه نذرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3810
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کرلے جائے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کرلے جاؤ۔
It was narrated from Ibn Abbas: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a man who was circumambulating the Kabah, led by another man with a reign in his nose. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) took him by the hand and commanded him to lead him by his hand." Ibn Juraij said: "Sulaiman told me that Tawus told him, from Ibn Abbas, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by him when he was circumambulating the Kabah, and a man had tied his hand to another man with some string or thread or whatever. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) cut it with his hand then said: Lead him with your hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3811
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience, and no vow concerning that which the son of Adam does not possess.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3812
ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہوگا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
It was narrated from Thabit bin Ad-Dahhak, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever swears by a religion other than Islam, telling a lie, will be as he said, and whoever kills himself with something, he will be punished with it in the Hereafter, and there is no vow concerning that which a man does not possess.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3813
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر (بھی) جائے ۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "My sister vowed to walk to the House of Allah, and she told me to ask the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about that. So I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for her and he said: Let her walk, and let her ride.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3814
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل (حج کرنے) جائے گی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے ۔
Uqbah bin Amir narrated that he asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a sister of his who had vowed to walk, barefoot and bareheaded. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "Tell her to cover her head and ride, and fast for three days.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3815
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣)، سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤)، مسند احمد ٣/١٤٣، ٤/ ١٤٥، ١٤٧، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبید اللہ بن زحر “ سخت ضعیف ہیں، لیکن اس میں ” صرف روزہ والی بات “ ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مرگئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A woman traveled by sea and vowed to fast for a month, but she died before she could fast. Her sister came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, and he told her to fast on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3816
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا تو آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Sad bin Ubadah asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had sworn, but she died before she could fulfill it. He said: "Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3817
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had sworn, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3818
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مرگئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: My mother died and she had sworn a vow, but she did not fulfill it. He said: Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3819
عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar, that Umar had vowed to spend a night in Itikaf during the Jahiliyyah. He asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about that, and he ordered him to perform the Itikaf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3820
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔