قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 35 · 96 hadiths · Page 3 of 5

3832Sunan An Nasai

نذر اور منت ماننے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ، إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر (ماننے) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade vows and said: "They do not bring any good; they are just a means of taking wealth from the miserly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3801
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لیے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨)، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣)، صحیح مسلم/ال نذر ٢ (١٦٣٩)، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٧)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٢)، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٧)، مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١١٨)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٥ (٢٣٨٥)، ویأتي فیما یلي: ٣٨٣٣، ٣٨٣٤ (صحیح )
3833Sunan An Nasai

نذر اور منت ماننے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade vows and said: They do not change anything; they are just a means of taking wealth from the miserly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3802
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3834Sunan An Nasai

منت آنے والی چیز کو پیچھے اور پیچھے کی چیز کو آگے نہیں کرتی اس سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر نہ کسی (مقدر) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: A vow does not bring anything forward or put it back; it is just a means of taking wealth from the miserly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3803
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٣٢ (صحیح )
3835Sunan An Nasai

منت آنے والی چیز کو پیچھے اور پیچھے کی چیز کو آگے نہیں کرتی اس سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "A vow does not bring anything to the son of Adam that has not been decreed for him. It is just a means of taking wealth from the miserly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3804
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٧٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/ال نذر (١٦٤٠)، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥(٢١٢٣)، مسند احمد ٢/٢٤٢) (صحیح )
3836Sunan An Nasai

نذر اس واسطے ہے کہ اس سے کنجوس شخص کا مال خرچ کرائے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر (کے لکھے) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not make vows, for a vow does not have any impact on the Qadar. Rather it is just a means of taking wealth from the miserly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3805
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٢٦ (١٦٤٠)، سنن الترمذی/الأیمان ١٠ (١٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٠) (صحیح )
3837Sunan An Nasai

کسی عبادت کے واسطے منت ماننا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔

It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3806
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نذر کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے تو اسے پوری کرے اور اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ہے تو اسے پوری نہ کرے اور اس کا کفارہ دیدے، رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور نافرمانی کا بھی یہی حکم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٢٨ (٦٦٩٦)، ٣١ (٦٧٠٠)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٢ (٣٢٨٩)، سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٨)، موطا امام مالک/النذور ٤ (٨)، مسند احمد ٦/٣٦، ٤١، ٢٢٤)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٣ (٢٣٨٣)، ویأتي فیمایلي: ٣٨٣٨، ٣٨٣٩ (صحیح )
3838Sunan An Nasai

گناہ کے کام میں منت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3807
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3839Sunan An Nasai

گناہ کے کام میں منت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3808
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٣٧ (صحیح )
3840Sunan An Nasai

منت پوری کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يَذْكُرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ بَعْدَهُ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ: قَوْمًا يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيُنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو جَمْرَةَ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے ثم الذين يلونهم کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین (امانت دار) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔

Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: The best of you are my generation, then those who come after them, then those whom after them, then those who come after them. -I do not know if he said two times after him or three. Then he mentioned some people who betray and cannot be trusted, who bear witness without being asked to do so, who make vows and do not fulfill them, and fatness will prevail among them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3809
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش و آرام کے عادی ہوجائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٩ (٢٦٥١)، و فضائل الصحابة ١ (٣٦٥٠)، الرقاق ٧ (٦٤٢٨)، الأیمان ٧ (٦٦٩٥)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٧)، سنن ابی داود/السنة ١٠ (٤٦٥٧)، سنن الترمذی/الفتن ٤٥ (٢٢٢٣)، والشہادات ٤ (٢٣٠٢)، مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٢٧، ٤٣٦) (صحیح )
3841Sunan An Nasai

اس نذر سے متعلق کہ جس میں رضاء الہی کا قصد نہ کیا جائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا فِي قَرَنٍ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَهُ، قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) passed by a man who was leading another man by a rope. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) took it, and cut it, and he said: It is a vow.

صحيح خ دون قوله إنه نذرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3810
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نذر اس طرح سے بھی ادا ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٢٣ (صحیح )
3842Sunan An Nasai

اس نذر سے متعلق کہ جس میں رضاء الہی کا قصد نہ کیا جائے

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: قُدْهُ بِيَدِكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کرلے جائے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کرلے جاؤ۔

It was narrated from Ibn Abbas: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a man who was circumambulating the Kabah, led by another man with a reign in his nose. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) took him by the hand and commanded him to lead him by his hand." Ibn Juraij said: "Sulaiman told me that Tawus told him, from Ibn Abbas, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by him when he was circumambulating the Kabah, and a man had tied his hand to another man with some string or thread or whatever. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) cut it with his hand then said: Lead him with your hand.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3811
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٢٣ (صحیح )
3843Sunan An Nasai

اس شے کی نذر ماننا جو کہ ملکیت میں نہ ہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔

It was narrated from Imran bin Husain that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience, and no vow concerning that which the son of Adam does not possess.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3812
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ال نذر ٣ (١٦٤١)، سنن ابی داود/ال نذر ٢٨ (٣٣١٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦(٢١٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٤، ١٠٨٨٨)، مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٠، ٤٣٢، ٤٣٣، ٤٣٤)، سنن الدارمی/النذور ٣ (٢٣٨٢)، وأعادہ المؤلف برقم: ٣٨٨٢ (صحیح )
3844Sunan An Nasai

اس شے کی نذر ماننا جو کہ ملکیت میں نہ ہو

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ.

ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہوگا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔

It was narrated from Thabit bin Ad-Dahhak, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever swears by a religion other than Islam, telling a lie, will be as he said, and whoever kills himself with something, he will be punished with it in the Hereafter, and there is no vow concerning that which a man does not possess.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3813
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٠١ (صحیح )
3845Sunan An Nasai

جو شخص خانہ کعبہ کے لئے پیدل جانے سے متعلق نذر کرے

أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِتَمْشِ، وَلْتَرْكَبْ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر (بھی) جائے ۔

It was narrated that Uqbah bin Amir said: "My sister vowed to walk to the House of Allah, and she told me to ask the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about that. So I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for her and he said: Let her walk, and let her ride.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3814
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٧ (١٨٦٦)، صحیح مسلم/ال نذر ٤ (١٦٤٤)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٧)، مسند احمد (٤/١٤٧، ١٥٢، ٢٠١) (صحیح )
3846Sunan An Nasai

اگر کوئی عورت ننگے پاؤں ننگے سر چل کر حج پر جانے کی قسم کھائے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، وَقَالَ عَمْرٌو: إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرْهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل (حج کرنے) جائے گی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے ۔

Uqbah bin Amir narrated that he asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a sister of his who had vowed to walk, barefoot and bareheaded. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "Tell her to cover her head and ride, and fast for three days.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3815
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣)، سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤)، مسند احمد ٣/١٤٣، ٤/ ١٤٥، ١٤٧، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبید اللہ بن زحر “ سخت ضعیف ہیں، لیکن اس میں ” صرف روزہ والی بات “ ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں )
3847Sunan An Nasai

اس شخص سے متعلق کہ جس نے روزے رکھنے کی نذر مان لی پھر وہ شخص فوت ہوگیا اور روزے نے رکھ سکا

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ، فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مرگئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A woman traveled by sea and vowed to fast for a month, but she died before she could fast. Her sister came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, and he told her to fast on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3816
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٦٢٠)، مسند احمد (١/٣٣٨) (صحیح )
3848Sunan An Nasai

اس شخص سے متعلق کہ جس کی وفات ہوجائے اور اس کے ذمہ نذر ہو

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا تو آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that Sad bin Ubadah asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had sworn, but she died before she could fulfill it. He said: "Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3817
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3849Sunan An Nasai

اس شخص سے متعلق کہ جس کی وفات ہوجائے اور اس کے ذمہ نذر ہو

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had sworn, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3818
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3850Sunan An Nasai

اس شخص سے متعلق کہ جس کی وفات ہوجائے اور اس کے ذمہ نذر ہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَلَمْ تَقْضِهِ، قَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مرگئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: My mother died and she had sworn a vow, but she did not fulfill it. He said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3819
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3851Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar, that Umar had vowed to spend a night in Itikaf during the Jahiliyyah. He asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about that, and he ordered him to perform the Itikaf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3820
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٥ (٢٠٣٢)، ١٥ (٢٠٤٢)، ١٦(٢٠٤٣)، الأیمان ٢٩ (٦٦٩٧)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦)، سنن ابی داود/الصوم ٨٠ (٢٤٧٤)، الأیمان ٣٢(٣٣٢٥)، سنن الترمذی/الأیمان ١١ (١٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٠ (١٧٧٢)، الکفارات ١٨ (٢١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٥٠)، مسند احمد (١/٦٨٧)، مسند احمد (١/٣٧ و ٢/٢٠، ٨٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ١ (٢٣٧٨) (صحیح )