Sunan An Nasai 3835

قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

3835Sunan An Nasai

منت آنے والی چیز کو پیچھے اور پیچھے کی چیز کو آگے نہیں کرتی اس سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "A vow does not bring anything to the son of Adam that has not been decreed for him. It is just a means of taking wealth from the miserly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3804
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٧٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/ال نذر (١٦٤٠)، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥(٢١٢٣)، مسند احمد ٢/٢٤٢) (صحیح )