نذر اس واسطے ہے کہ اس سے کنجوس شخص کا مال خرچ کرائے
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر (کے لکھے) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not make vows, for a vow does not have any impact on the Qadar. Rather it is just a means of taking wealth from the miserly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3805
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٢٦ (١٦٤٠)، سنن الترمذی/الأیمان ١٠ (١٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٠) (صحیح )