اس شخص سے متعلق کہ جس نے روزے رکھنے کی نذر مان لی پھر وہ شخص فوت ہوگیا اور روزے نے رکھ سکا
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ، فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مرگئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A woman traveled by sea and vowed to fast for a month, but she died before she could fast. Her sister came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, and he told her to fast on her behalf.