عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔
Amr bin Shuaib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3781
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٥٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الکفارات ٨ (٢١١١)، مسند احمد (٢/١٨٥، ٢٠٤، ٢١١، ٢١٢) (حسن، صحیح )
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "If any one of you swears an oath, then he sees something better than it, let him offer expiation for his oath, and look at what is better and do it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3782
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔
Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: If you swear an oath, offer expiation for your oath, then do that which is better.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3783
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If you swear an oath, then you see something better than it, then offer expiation for your oath, and do that which is better.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3784
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ١ ؎۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and offer expiation for his oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3785
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کی پچھلی حدیث میں قسم توڑنے سے پہلے ہی کفارہ ادا کرنے کا ذکر ہے، اور عدی بن حاتم طائی ؓ کی اس حدیث میں قسم توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کی بات ہے، امام نسائی اور امام بخاری نے ان دونوں حدیثوں سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ چاہے تو کفارہ پہلے ادا کر دے، یا چاہے تو بعد میں ادا کرے دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء قسم توڑنے کے بعد ہی کفارہ ادا کرنے کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ذکر میں تقدیم تاخیر اتفاقیہ ہے، یا رواۃ کی طرف سے ہے کیونکہ خود عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث (رقم: ٢٨٢٠ ، ٢٨٢٢ ) میں کفارہ کا تذکرہ بعد میں ہے، یعنی قسم کا ٹوٹنا پہلے ہونا چاہیئے، مگر یہ نص شریعت کے مقابلے میں قیاس ہے اور بس۔
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him leave his oath, and do that which is better, and offer expiation for it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3786
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥١)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٧ (٢١٠٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥١)، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٧، ٢٥٨، ٢٥٩) (صحیح )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے ۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and leave his oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3787
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ١ ؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھالی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I said: O Messenger of Allah, I have a cousin, and I come to him and ask him (for help) but he does not give me anything, and he does not uphold the ties of kinship with me. Then, when he needs me, he comes to me and asks me (for help). I swore that I would not give him anything, nor uphold the ties of kinship with him. He commanded me to do that which is better and to offer expiation for my oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3788
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ ہی وہ رشتہ داری نبھاتا ہے اور نہ ہی بھائیوں جیسا سلوک کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الکفارات ٧ (٢١٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٤)، مسند احمد (٤/١٣٦، ١٣٧) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: If you swear an oath, and you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3789
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: If you swear an oath, then you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3790
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to me: If you swear an oath, then you see something that is better, do that which is better, and offer expiation for your oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3791
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ١ ؎۔
Amr bin Shuaib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow and no oath concerning that which one does not possess, nor to commit sin, nor to sever the ties of kinship.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3792
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہوجاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو قسم کھائے اور ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever swears an oath and says: If Allah wills, then if he wishes he may go ahead, and if he wishes he may not, without having broken his oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3793
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہیں ہوگا اس لیے کہ اس کی قسم اللہ کی مرضی (مشیت) پر معلق و منحصر ہوگئی، اسی لیے وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Umar bin Al-Khattab (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Actions are but by intentions, and each person will have but that which he intended. Thus, he whose emigration was for the sake of Allah and His Messenger, his emigration was for the sake of Allah and His Messenger, and he whose emigration was to achieve some worldly gain or to take some woman in marriage, his emigration was for that for which he emigrated.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3794
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ قسم بھی ایک عمل ہے، اس لیے حدیث إنما الأعمال بالنية کے مطابق قسم میں بھی نیت معتبر ہوگی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم ﷺ آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ (کے منہ) سے مغافیر ١ ؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك سے (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں (التحریم: ١) إن تتوبا إلى اللہ (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) (اے نبی کی بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہتر ہے) (التحریم: ٤) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ ؓ مراد ہیں اور آپ ﷺ کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے (مگر اب نہیں پیوں گا) کی وجہ سے آیت کریمہ وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی (التحریم: ٣) نازل ہوئی۔
Ubaid bin Umair said: I heard Aishah (RA) say: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to either of us, she would say: I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you. Have you eaten Maghafir? He went to one of them and she said that to him. He said: No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again. Then the following was revealed: O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you up to: If you two turn in repentance to Allah -Aishah and Hafsah- And (remember) when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) disclosed a matter in confidence to one of his wives. refers to him saying: No, rather I drank honey.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3795
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "I entered the house of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with him and there was some bread and vinegar. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Eat; what a good condiment is vinegar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3796
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے سالن نہ کھانے کی قسم کھانے والا اگر سرکہ کھالے تو وہ قسم توڑنے والا مانا جائے گا، اور اسے قسم کا کفارہ دینا ہوگا۔
قیس بن ابی غرزہ غفاری ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں سماسر (دلال) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم خریدو فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خریدو فروخت میں قسم اور جھوٹ ١ ؎ بھی شامل ہوجاتی ہیں تو تم اپنی خریدو فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: "At the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) we used to be called Samasir (brokers). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to us when we were selling and called us by a name that was better than that. He said: O merchants (Tujjar), this selling involves lies and (false) oaths, so mix some charity with it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3797
Notes · وضاحت
١ ؎؎: یعنی خریدو فروخت میں بعض دفعہ بغیر ارادے اور قصد کے بعض ایسی باتیں زبان پر آجاتی ہیں جو خلاف واقع ہوتی ہیں تو کچھ صدقہ و خیرات کرلیا کرو تاکہ وہ ایسی چیزوں کا کفارہ بن جائے۔
قیس بن ابی غرزہ غفاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خریدو فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خریدو فروخت میں (بغیر قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہوجاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: "We used to sell in Al-Baqi, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to us. We used to be called Samasir (brokers) but he said: O merchants! And called us by a name that was better than our name. Then he said: This selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3798
قیس بن ابی غرزہ غفاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ آئے اور فرمایا: ان بازاروں میں (بغیر قصد و ارادے کے) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ١ ؎۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us when we were in the marketplace and said: This marketplace is filled with idle talk and (false) oaths, so mix some charity with it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3799
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صدقہ کیا کرو تو یہ ان کا کفارہ بن جائے گا۔
قیس بن ابی غرزہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو سماسرہ (دلال) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خریدو فروخت میں (بلا قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آجاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: "In Al-Madinah we used to buy and sell Wasqs (of goods), and we used to call ourselves Samasir (brokers), and the people used to call us like that. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came out to us one day, and called us by a name that was better than that which we called ourselves and which the people called us. He said: O Tujjar (traders), your selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3800