Sunan An Nasai 3903

شرطوں سے متعلق احادیث

3903Sunan An Nasai

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ،وَمُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا، قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَذَرْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا. وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ طَاوُسًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہماری طرف رسول اللہ ﷺ نکل کر آئے تو ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کا حکم ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے چھوڑ دے یا اسے (کسی کو) دیدے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ حدیث طاؤس نے (رافع ؓ سے خود) نہیں سنی ہے آنے والی حدیث ہے۔

It was narrated from Tawus and Mujahid, that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came out to us and forbade something for us that had been beneficial for us, but the command of Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for us. He said: Whoever has land, let him cultivate it or leave it or give it (to someone else to cultivate).

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3872
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٩٩ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے )