جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطاب فرمایا اور کہا: جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا کسی سے اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائیے پر نہ دے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) addressed us and said: Whoever has land, let him cultivate it or give it to someone else to cultivate, and let him not rent it out.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3877
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٣٦)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٧ (٢٤٥٤)، (تحفة الأشراف: ٢٤٨٦)، مسند احمد (٣/٣٦٩) (صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ زمین کو کرائے پر نہ دینے کے سلسلہ میں (روایت کرنے میں) عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مطر کی موافقت کی ہے۔
It was narrated from Jabir who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "That he forbade leasing out land.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3878
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مخابرہ اور مزابنہ، محاقلہ سے اور ان پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جو ابھی کھانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، سوائے بیع عرایا کے ١ ؎۔ یونس بن عبید نے اس کی متابعت کی ہے۔
It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Mukhabarah, Al-Muzabanah and Al-Muhaqalah, and selling fruit until it is fit to eat (ripe enough), except in the case of Al-Araya.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3879
Notes · وضاحت
١ ؎: مخابرہ: زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دینا، کہتے ہیں: مخابرہ خیبر سے ماخوذ ہے، یعنی خیبر کی زمینوں کے ساتھ جو معاملہ کیا گیا اس کو مخابرہ کہتے ہیں۔ حالانکہ خیبر میں جو معاملہ کیا گیا وہ جائز ہے، اسی لیے تو وہ معاملہ کیا گیا، مؤلف نے حدیث نمبر ٣٩١٤ میں مخابرہ کی تعریف یہ کی ہے کہ انگور جو ابھی بیلوں میں ہو کو اس انگور کے بدلے بیچنا جس کو توڑ لیا گیا ہو، یہی سب سے مناسب تعریف ہے جو مزابنہ اور محاقلہ سے مناسبت رکھتی ہے۔ مزابنہ: درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑے ہوئے پھل کے بدلے معینہ مقدار سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ محاقلہ: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلّہ سے بیچنا۔ عرایا: عرایا یہ ہے کہ مالک کا باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین و غریب کو کھانے کے لیے مفت دیدے، اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین و فقیر سے خرید لے اور اس کے بدلے تر یا خشک پھل اس کے حوالے کر دے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ و مزابنہ اور مخابرہ نامی بیع سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء ١ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ (آگے آنے والی) ہمام بن یحییٰ کی روایت میں گویا یہ دلیل ہے کہ عطاء نے جابر ؓ سے ان کی یہ حدیث نہیں سنی ہے ٢ ؎ جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ forbade Al-Muhaqalah Al-Muzabanah, Al Mukhabarah and exceptions when selling, unless they were well defined. (Hasan) And in the narration of Hammam bin Yahya is what acts as the proof that ‘Ata’ did not hear Jabir’s Hadith from the Prophet ﷺ: “Whoever has land, then let him cultivate it”.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3880
Notes · وضاحت
١ ؎: بیچی ہوئی چیز میں سے بلا تعیین و تحدید کچھ لینے کی شرط رکھنا یا سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینا اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینا۔ ٢ ؎: جابر بن عبداللہ ؓ سے عطاء کی یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے (دیکھئیے حدیث نمبر ٣٩٠٥ تخریج) سندھی فرماتے ہیں: مؤلف نے کالدلیل کہا ہے (الدلیل نہیں کہا ہے) جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات مؤکد نہیں ہے۔ نیز یہ ممکن ہے کہ عطاء نے سلیمان سے سننے کے بعد پھر جابر ؓ سے جا کر یہ حدیث سنی ہو۔ ایسا بہت ہوتا ہے۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے لیکن اسے اپنے بھائی کو کرائیے پر نہ دے ۔
Jabir (RA) narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever has land, let him cultivate it or give it to his brother to cultivate, and not lease it to his brother.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3881
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حقل (تہائی، چوتھائی پر بیع) ، اور یہی مزابنہ ہے، سے منع فرمایا۔ ہشام نے معاویہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے عن یحییٰ عن ابی سلمہ عن جابر کی سند سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Haql and it is Al-Muzabanah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3882
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے۔ اور کہا مخاضرہ: پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ (درخت کی) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے، ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Muzabanah and Al-Mukhadarah. He (one of the narrators) said: "Al-Mukhadarah means selling fruit before it ripens and Al-Mukhabarah means selling grapes in return for a certain number of Sas.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3883
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ محمد بن عمرو نے عمر بن ابی سلمہ اور یحییٰ دونوں کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3884
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسود بن علاء نے ان سب کی مخالفت کی ہے، اور حدیثوں روایت کی ہے: عن ابی سلمۃ عن رافع بن خدیج ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3885
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے بٹائی پر کھیت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی نے دوسری مرتبہ (روایت کرتے ہوئے) کہا۔
It was narrated from Uthman bin Murrah who said: "I asked Al-Qasim about Al-Muzaraah, so he narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3887
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے: رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے۔
Rafi bin Khadij said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3888
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: خود اس زمین سے پیدا ہونے والے غلہ کے بدلے کرایہ اٹھانے سے منع فرمایا، کیونکہ خود رافع ؓ نے سونا چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ نیز مرفوعاً بھی روایت کی ہے (دیکھئیے حدیث رقم ٣٩٢١ ، و ٣٩٢٩ ) ۔
ابوجعفر خطمی جن کا نام عمیر بن یزید ہے، کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک بچے کو سعید بن مسیب کے پاس بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج ؓ سے مروی حدیث پہنچی تو وہ ان سے ملے۔ رافع ؓ نے کہا: نبی اکرم ﷺ بنی حارثہ کے پاس آئے تو ایک کھیتی کو دیکھ کر فرمایا: ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے! لوگوں نے عرض کیا: یہ (کھیتی) ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن انہوں نے اسے بٹائی پر اٹھا رکھا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی کھیتی لے لو اور اس پر آنے والی خرچ اسے دے دو ، تو ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور ان کا خرچہ انہیں لوٹا دیا۔ اسے طارق بن عبدالرحمٰن نے بھی سعید بن مسیب سے روایت کیا اور اس میں طارق سے روایت کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔
It was narrated that Abu Jafar Al-Khatmi - whose name was Umair bin Yazid - said: "My paternal uncle sent me with a slave of his, to Saeed bin Al-Musayyab to ask him about Al-Muzaraah. He said: Ibn Umar did not see anything wrong with it, until he heard the Hadith from Rafi bin Khadij. Then he met him, and Rafi said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Banu Harithah and saw some crops. He said: How good are the crops of Zubair. They said: It is not Zubairs. He said: Is the land not Zubairs? They said: No (it is not his), rather he is leasing it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Take your crops and give him what he spent. So we took our crops, and gave him what he had spent.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3889
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ١ ؎ اور فرمایا: کھیتی تین طرح کے لوگ کرتے ہیں: ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔ اس حدیث کو اسرائیل نے طارق سے روایت کرتے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو الگ الگ کردیا ہے، پہلے ٹکڑے ٢ ؎ کو مرسلاً (بطور کلام نبی اکرم ﷺ) روایت کیا اور دوسرے ٹکڑے کو سعید بن مسیب کا قول بتایا ہے۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah, and said: Only three may cultivate: A man who has land which he cultivates; a man who was given some land and cultivates what he was given; and a man who takes land on lease for gold or silver.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3890
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد: درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا ہے۔ ٢ ؎: پہلی بات سے مراد نہیٰ رسول اللہ ﷺ عن المحاقل ۃ والمزابن ۃ ہے اور آخری بات سے مراد إنما یزرع ثلاث ۃ ، الیٰ آخرہ ہے۔ یعنی: پہلی روایت میں آخری ٹکڑے کو درج کر کے اس کو مرفوع بنادیا ہے، حالانکہ یہ سعید بن مسیب کا اپنا قول ہے، اسرائیل کی روایت جسے انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے، دونوں ٹکڑوں کو چھانٹ کر الگ الگ کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٤٠٠)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٧ (٢٤٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٩٢٢-٣٩٢٤) (صحیح )
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا، پھر راوی (اسرائیل) نے دوسری بات کو اسی طرح بیان کیا (یعنی دوسرا قول ابن المسیب کا ہے) ، اسے طارق سے سفیان ثوری نے بھی روایت کیا ہے۔
It was narrated that Saeed said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah." Saeed said: "And he narrated something similar." And Sufyan Ath-Thawri reported it from Tariq.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3891
طارق کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا: تین قسم کی زمینوں کے علاوہ میں کھیتی درست نہیں: وہ زمین جو کسی کی اپنی ملکیت ہو، یا وہ اسے عطیہ دی گئی ہو، یا وہ زمین جسے آدمی سونے چاندی کے بدلے کرائے پر لی ہو۔ زہری نے صرف پہلی بات سعید بن سعید سے مرسلاً روایت کی۔
It was narrated that Tariq said: “I heard Saeed bin Al Musayyab say: ‘Cultivating land is not allowed except in three cases: Land which one owns, land which is given to one, or land which one rents in return for gold and silver.” (Hasan) And Az-Zuhri reported the first statement from Saeed, narrating it in Mursal form.
صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3892
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے محمد بن عبدالرحمٰن بن لبیبہ نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے اور عن سعد بن أبي وقاص کہا ہے۔
It was narrated from Saeed bin ALMusavyab that the Messenger of Allah ﷺ forbade Al-Mu and Ai-Muzabanah. (Sahih) And Muhammd bin ‘Abdur Rabrnan bin Labibah reported it from Saeed bin Al-Musayyab; so he said: “From Sad bin Abi Waqqas.”…
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3893
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن مرفوع روایات سے تقویت پاکر صحیح ہے )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ کھیتوں والے لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے۔ تو وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا۔ تو آپ نے انہیں اس کے (غلہ کے) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا: سونے چاندی کے بدلے کرائے پر دو ۔ اس حدیث کو سلیمان بن یسار نے بھی رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنے چچاؤں میں کسی چچا کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
..It was narrated that Sad bin Abi Waqqà said: “At the time of the Messenger of Allah ﷺ landowners used to lease their arabic land in return for whatever grew on the banks of the streams used for irrigation. They came to the Messenger of Allah ﷺ and referred a dispute concerning such matters to him, and the Messenger of Allah ﷺ forbade them to lease land on such terms, and said: ‘Lease it for gold or silver.” And Sulaiman reported this [ from Rafi’, so he said: “From a man among his paternal uncles: —
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3894
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩١)، (تحفة الأشراف: ٣٨٦٠)، مسند احمد (١/١٧٨، ١٨٢)، سنن الدارمی/البیوع ٧٥ (٢٦٦٠) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” محمد بن عکرمہ “ لین الحدیث، اور ” محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ “ ضعیف )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں زمین میں بٹائی کا معاملہ کر کے انہیں تہائی اور چوتھائی یا متعینہ مقدار کے غلے کے بدلے کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے۔ اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے، یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائے پر اٹھانا یا اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں انہیں ناپسند فرمایا۔ ایوب نے اس حدیث کو یعلیٰ سے نہیں سنا ہے، (بلکہ بذریعہ کتابت روایت کی ہے جیسا کہ اگلی سند سے ظاہر ہے) ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "At the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) we used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah, so we would lease it in return for one-third or one-quarter of the yield, or a specified amount of food (produce). One day, a man among my paternal uncles came and said The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden me to do something that was beneficial for us, but obedience to Allah and His Messenger is more beneficial for us. He has forbidden us to lease land on the basis of Al-Muhaqalah and to lease it in return for one-third or one-quarter of the yield, and for a specified amount of food (produce). And he commanded the landowner to cultivate it (himself) or to give it to someone else to cultivate. He did not like leasing it or anything else.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3895
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Ayyub who said: “Ya’la bin Al-Hakim wrote to me (saying): ‘I heard Sulaimán bin Yasar narrating from Rafi’ bin Khadij, who said: “We used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah, leasing it in return for one-third or one-quarter of the yield, and a specified amount of food (produce). (Sahih) (And) Saeed reported it from Ya’la bin Hakim.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3896