زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ. وَفِي رِوَايَةِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ عَطَاءً لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ حَدِيثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا.
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ و مزابنہ اور مخابرہ نامی بیع سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء ١ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ (آگے آنے والی) ہمام بن یحییٰ کی روایت میں گویا یہ دلیل ہے کہ عطاء نے جابر ؓ سے ان کی یہ حدیث نہیں سنی ہے ٢ ؎ جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ forbade Al-Muhaqalah Al-Muzabanah, Al Mukhabarah and exceptions when selling, unless they were well defined. (Hasan) And in the narration of Hammam bin Yahya is what acts as the proof that ‘Ata’ did not hear Jabir’s Hadith from the Prophet ﷺ: “Whoever has land, then let him cultivate it”.